Wednesday, January 7, 2026

کتاب-اہل بیت جدا نہ ہونگے،حوض کوثر پہ ملینگے

سوال 1: کیا مستدرک للحاکم کی حدیث نمبر 4628 اور 4711صحیح ہیں؟
جواب: مستدرک للحاکم کی حدیث نمبر4628 مندرجہ ذیل ہے:
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الحفيد، ثنا أحمد بن محمد بن نصر، ثنا عمرو بن طلحة القناد، الثقة المأمون، ثنا علي بن هاشم بن البريد، عن أبيه قال: حدثني أبو سعيد التيمي، عن أبي ثابت، مولى أبي ذر قال: كنت مع علي رضي الله عنه يوم الجمل، فلما رأيت عائشة واقفة دخلني بعض ما يدخل الناس، فكشف الله عني ذلك عند صلاة الظهر، فقاتلت مع أمير المؤمنين، فلما فرغ ذهبت إلى المدينة فأتيت أم سلمة فقلت: إني والله ما جئت أسأل طعاما ولا شرابا ولكني مولى لأبي ذر، فقالت: مرحبا فقصصت عليها قصتي، فقالت: أين كنت حين طارت القلوب مطائرها؟ قلت: إلى حيث كشف الله ذلك عني عند زوال الشمس، قال: أحسنت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: §«علي مع القرآن والقرآن مع علي لن يتفرقا حتى يردا علي الحوض» هذا حديث صحيح الإسناد وأبو سعيد التيمي هو عقيصاء ثقة مأمون، ولم يخرجاه "
حضرت ابو ذرؓ کے آزاد کردہ غلام ابو ثابت فرماتے ہیں کہ جنگ جمل کے موقع پر میں حضرت علیؓ کے ہمرا تھا، جب میں نے ام المومنین حضرت عائشہؓ کو کھڑے دیکھا تو میرے دل میں بھی وسوسہ پیدا ہوا جو دوسرے لوگوں کے دلوں میں تھا۔ لیکن نماز ِ ظہر کے وقت اللہ تعالیٰ نے وہ وسوسہ مجھ سے دور کر دیا ۔ چنانچہ میں نے امیر المومنین کے ہمرا ہ قتال کیا۔ جب جنگ ختم ہوئی تو میں مدینہ منورہ میں آیا، تو میں حضرت ام سلمہؓ کے پاس آیا۔ میں نے کہا: خدا کی قسم میں کوئی کھانے یا پینے کی کوئی چیز مانگنے کے لئے نہیں آیا بلکہ میں تو حضرت ابو ذر کا آزادکردہ غلام ہوں، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا۔ میں نے ان کو اپنا واقعہ سنایا۔ انہوں نے کہا جب دل اپنے مقام پر اُڑ رہے تھے تو تُو اس وقت کیسے بچ گیا؟ میں نے کہا: میری بھی وہی حالت تھی لیکن زوالِ شمس کے وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے شرح صدر عطا کر دیا ۔ انہوں نے کہا: تم نے اچھا کیا، رسول اللہﷺ کو میں نے یہ فرماتے سنا ہے: "علی قرآن کے ساتھ اور قرآن علی کے ساتھ رہے گا اور یہ کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے حتیٰ کہ یہ دونوں اکٹھے ہی میرے پاس حوضِ کوثر پر آئیں گے۔
(مستدرک للحاکم رقم 4628،  طبعہ دارلحرمین بتحقیق الوداعی 3/144ح4691، طبعہ دارالتاصیل 5/326ح4687)
٭امام حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ابو سعید التیمی عقیصاء ہیں، یہ ثقہ ہیں ، مامون ہیں ، لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔
٭ ابو عبدالرحمان الوداعی اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ ابن معین نے ابو سعید عقصا کے بارے میں جرح و تعدیل نقل نہیں کی، تو پھر حاکم نے کہاں سے انہیں ثقہ و مامون بنادیا؟اور ان کے والد ثابت کے ترجمہ سے میں واقف نہیں ۔
٭طبعہ دارالتاصیل کے محققین لکھتے ہیں کہ اس میں عمرو بن طلحہ القناد  صدوق ہے اس پر رفض کا الزام ہے، علی بن ہاشم بن البرید صدوق متشیع ہے، ابو سعید التیمی  کے بارے میں یحییٰ بن معین نے کہا کہ یہ کوئی شے نہیں، اور ابو ثابت مولیٰ ابی ذر کے حالات ہمیں نہیں ملے۔
امام حاکم نے کہا کہ یہ بخاری اور مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہیں، لیکن شیخین نے ان کو نقل نہیں کیا۔
طبعہ دارالتاصیل کے محقیقن نے اس کی سند کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ سند شیخین کی شرط پر نہیں ہے ، عبدالرحمان بن صالح الازدی صدوق متشیع ہے، اور محمد بن سلیمان الاصبہانی صدوق، غلطی کرنے والا ہے۔ اور نہ ہی سعید بن مسلم بن بانک، ان تینوں سے بخاری اور مسلم دونوں نے روایت نہیں لی ہے۔
ابو عبدالرحمان الوداعی  نے بھی اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔
طبرانی نے اسے معجم الاوسط میں ذکر کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ حدیث صرف ثابت مولیٰ ابو ذر نے روایت کی ہے اور اس میں ان کا تفرد ہے۔ (معجم الاوسط 5/135ح4880)
تحکیم:  ضعیف ، اس کی سند میں ابو ثابت مولیٰ ابو ذر مجہول ہیں۔ رجال کی کسی کتاب میں ان کے حالات نہیں ملے۔ ایک اور راوی ابو سعید دینار عقیصاء سخت ضعیف ہیں، یحییٰ بن معین  (تاریخ یحییٰ بن معین بروایت الدور ی 3/503) نے کہا کہ کوئی شے نہیں۔ یعقوب بن شیبہ(المعرفہ والتاریخ 3/190) نے کہا کہ رافضی تھا۔نسائی (ضعفاء والمتروکین  ص 174ح180) نے کہا کہ قوی نہیں ہے،ابن حبان (الثقات 4/219، 5/286) نے اس کا ذکر الثقات میں کیا ہے، عقیلی (ضعفاء الکبیر ) نے کہا کہ رافضیوں میں سے تھا۔ ابن عدی (الکامل فی الضعفاء4/645 ) نے کہا کہ صحابہ سے کی گئی اس کی روایت معتمد نہیں ہے۔ دارقطنی (سؤالات البرقانی ص73ح143،ضعفاء والمتروکین  ص 202ح211 )نے کہا کہ علیؓ کے حوالے سے منکر روایات کرتا تھا ، ابو بکر بن عیاش نے اس پر کذب کی تہمت لگائی ہے، یہ متروک ہے۔امام حاکم (المستدرک ح 4628) نے کہا کہ ثقہ مامون ہے۔ ذہبی (میزان الاعتدال5/110ح5707(اردو5/131ح5707)، المغنی فی الضعفاء2/64ح4159، دیوان الضعفاء ص 278ح2862 ) نے کہا کہ دارقطنی نے اسے ترک کیا ہے، بخاری نے کہا کہ اس پر کلام کیا گیا ہے، ذہبی نے  یہ بھی کہا کہ شیعہ ہے، ایک جگہ یہ بھی کہا کہ سخت شیعہ ہے۔
میرے علم کے مطابق اس روایت کی متابعات و شواہد مسند البزار، تاریخ بغداد  اور تاریخ دمشق میں بھی موجود ہیں مگر سب کی اسناد میں ضعف ہے۔
المستدرک کی حدیث نمبر 4711 مندرجہ ذیل ہے:
حدثنا أبو بكر، محمد بن الحسين بن مصلح الفقيه بالري، ثنا محمد بن أيوب، ثنا يحيى بن المغيرة السعدي، ثنا جرير بن عبد الحميد، عن الحسن بن عبد الله النخعي، عن مسلم بن صبيح، عن زيد بن أرقم، رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني تارك فيكم الثقلين: كتاب الله، وأهل بيتي، وإنهما لن يتفرقا حتى يردا علي الحوض.
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں: رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں (1) کتاب اللہ (2) اپنے اہل بیت اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے حتیٰ کہ یہ میرے حوض پر آئیں گے۔
(المستدرک للحاکم 4711، طبعہ دارالحرمین بتحقیق الوداعی3/173ح4774 ، طبعہ دارالتاصیل 5/367ح4770)
٭امام حاکم نے کہا کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔
٭طبعہ دارالتاصیل کے محققین نے لکھا کہ یہ سند شیخین کی شرط پر نہیں ہے، شیخین نے یحییٰ بن مغیرہ السعدی سے حدیث نہیں لی اور بخاری نے حسن بن عبیداللہ النخعی سے حدیث نہیں لی۔
٭ابو عبدالرحمان الوداعی  لکھتے ہیں کہ یہ مسلم کی شرط پر ہے بخاری کی شرط پر نہیں ہے کیونکہ بخاری نے حسن بن عبیداللہ سے حدیث نہیں لی، اس کی عام طور پر کی گئی روایت مضطرب ہے۔

حسن بن عبیداللہ ثقہ ہے ۔ابن سعد(طبقات ابن سعد8/468ح3376)، یحییٰ بن معین(تاریخ دارمی ص94 ح252، الجرح والتعدیل 3/23ح96) ، عجلی(ثقات العجلی1/296ح298)  اور ابو حاتم رازی (الجرح والتعدیل 3/23ح96)نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ دارقطنی (علل دارقطنی 1/224) نے ایک جگہ اسے کہا کہ قوی نہیں، حاکم(سؤالات الحاکم للدارقطنی ص193ح295) نے دارقطنی کے حوالے سے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے دارقطنی کا اسے قوی نہیں کہنا کوئی خاص وقعت نہیں رکھتا ۔متاخرین میں ذہبی (الکاشف 1/327ح1041، سیر اعلام النبلاء 6/144)، اور ابن حجر (تقریب التہذیب 1/435ح1264) نے کہا کہ ثقہ ہے۔
یحییٰ بن مغیرہ السعدی صدوق ہے ۔ یحییٰ بن معین(الجرح والتعدیل 9/191ح798، الکامل ابن عدی 4/204)  اور ابو حاتم رازی (الجرح والتعدیل 9/191ح798) نے اس کی توثیق کی ہے۔
تحکیم: اس کی سند حسن ہے۔-منقول

شیخ عبد الحق محدث و اعلی حضرت رح معاویہ پر۔۔۔

شیخ عبد الحق محدث و اعلی حضرت رح معاویہ پر۔۔۔

شیخ عبد الحق محدث دہلوی رح مدارج النبوۃ  کے  صفحہ نمبر 284 پہ لکھتے ہیں:- حدیث متواترہ کے تحت عمار رض کو معاویہ کے ساتھیوں نے قتل کیا۔معاویہ اور اس کی جماعت کے ساتھی باغی تھے۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رح کی تکمیل الایمان کے ساتھ منسلک امام احمد رضا خاں رح کی تعلیقات حواشی کے صفحہ نمبر 177 پہ رقم ہے :- معاویہ اور اس کا گروہ باغی و جہنم کی طرف بلائے جانے والا قرار پائے گا۔

"معاویہ خطائے منکر کا مرتکب،باعث فتنہ " پہ تبصرہ


"معاویہ خطائے منکر کا مرتکب،باعث فتنہ " پہ تبصرہ
بہار شریعت،جلد 1 ، صفحہ 75

واضح رہے، اسی مقام پہ معاویہ کے دفاع( ویسے ہے کچھ بھی نہیں) میں جو بھی لکھا گیا،کلام اللہ، فرامین رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم،،مولائے کائنات امام طریقت حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم ،آثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم،,ائمہ،محققین،مفسرین،محدثین رح،امت محمدیہ کی دینی،سماجی تاریخ اور خود معاویہ کے کارناموں کے بر عکس ہے۔ حالانکہ کچھ بھی قابل تذکرہ نہیں، بس آخر میں بنا معقول دلیل (ممکن ہے حسن زن کے تحت) لکھا ہےکہ "۔۔۔۔فیصلہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ مولی علی علیہ السلام کی ڈگری اور امیر معاویہ رض کی مغفرت۔ " جہاں تک حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ سے مجتہد باور کرانے کی بات ہے۔ ایک دیگر روایت میں آپ رضی اللہ عنہ نے معاویہ کے بارے میں اسی موضوع،(ایک وتر) سے متعلق فرمایا " یہ چیز اس گدھے نے کہاں سے لی۔" جو معاویہ کو مجتہد باور کراتے ہیں ، پہ لازم ہے کہ اس کے مجتہد ہونے کی اس کے علاوہ کوئی اور دلیل لائیں کہ حضرت ابن عباس رض معاویہ کے افعال کے مطابق اسے گدھا قرار دے چکے۔  حضرت امام  طحاوی رح و حضرت حافظ ابن عسقلانی رح وغیرہ نے آپ رض کے اس قول کو اعراض و تسامح سے تعبیر فرمایا ہے۔



معاویہ وصل جہنم ،آگ کے تابوت میں

معاویہ وصل جہنم ،آگ کے تابوت میں
یہ روایت متعدد کتب میں ذکر ہوئی ہے، کتاب أنساب الاشراف میں بلاذری نے خلف ابن ہشام سے اور انہوں نے ابو عوانہ سے اور انہوں نے اعمش سے اور انہوں نے سالم ابن ابی جعد سے روایت کی :
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ: مُعَاوِیةُ فِی تَابُوتٍ مُقْفَلٍ عَلَیهِ فِی جَهَنَّمَ،
رسول خدا (ص) نے فرمایا  کہ: معاویہ جہنم میں مقفل تابوت میں  ہے۔
جمل من أنساب الأشراف، المؤلف: أحمد بن یحیی بن جابر بن داود البَلَاذُری (المتوفی: 279 هـ)، ج 5، ص 128، ح 370

متعدد روایات میں ذکر ہوا ہے کہ معاویہ جہنم کے سب سے نیچلے درجے پر اور فقط ایک درجہ فرعون سے اوپر ہے، اس لیے کہ فرعون نے خدا ہونے کا دعوی کیا تھا اور معاویہ نے باقی تمام دعوے کئے لیکن خدا ہونے کا دعوی نہیں کیا تھا۔

ثقہ مؤرخ محمد بن جریر طبری نے کہا:
إن معاویة فی تابوت من نار فی أسفل درک،
معاویہ آگ کے تابوت میں جہنم کے سب سے نیچلے درجے میں ہے۔
تاریخ الطبری، اسم المؤلف: لأبی جعفر محمد بن جریر الطبری، ج 5، ص 622، باب ذکر الخبر عما کان فی‌ها من الأحداث الجلیلة ۔منقول 

مولا علی کرم۔۔۔ کی قنوت میں معاویہ کے لئے بدعا

مولا علی کرم۔۔۔ کی قنوت میں معاویہ کے لئے بدعا
حدثنا حدثنا هشيم ، قال : أخبرنا حصين ، قال : حدثنا عبد الرحمن بن معقل ، قال : ” صليت مع علي صلاة الغداة ، قال : فقنت ، فقال في قنوته : ” اللهم عليك بمعاوية وأشياعه ، وعمرو بن العاص ، وأشياعه ، وأبي السلمي ، وعبد الله بن قيس وأشياعه ” 

عبد الحمٰن بن معقل کہتے ہیں کہ میں نے صبح کی نماز حضرت علی کرم۔۔۔ کے ساتھ پڑھی اور آپ کرم۔۔۔ نے قنوت نازلہ پڑھی اور  یہ الفاظ کہے:
 اے اللہ معاویہ اور اس کے گروہ ، عمرو بن العاص اور اس کے گروہ ، ابو السلمی اور عبداللہ بن قیس اور اس کے گروہ کو پکڑ لے ان کو برباد کر دے.

 مصنف ابن أبي شيبة:جلد 3,صفحہ 245, حدیث 7124
 مصنف ابن أبي شيبة:جلد 3, صفحہ 273،حدیث 7116
 مصنف ابن أبي شيبة: جلد 5،صفحہ 43,حدیث 7123
شاملہ،حدیث نمبر 7050  -منقول

دو مسلمان گروہ میں صلح کی حقیقت

دو مسلمان گروہ میں صلح کی حقیقت
*صلح نامے میں امام حسن(ع) نے معاویہ سے کہا کہ تم تمام شیعیان علی کی جان، مال اور ناموس کی حفاظت کرو گے اور ان کے سارے حقوق کی رعایت کرو گے۔*

اب دیکھتے ہیں کہ

کیا معاویہ اور شیعان معاویہ نے علی(ع) کے شیعوں کے ساتھ کیا کیا ؟

*نوٹ:* معاویہ کی حکومت میں کیا کچھ ہوتا تھا اسکی تفصیل پھر کبھی دی جائے گی۔ فلحال صلح کی شرط کے حوالے سے معاویہ کی کارکردگی پر مختصر حوالہ جات 👇🏼

*ابن ابی الحديد نے کہا ہے کہ:*

📝 معاویہ نے سرکاری طور پر حکم دیا کہ جہاں پر شیعان علی کو دیکھو اس کو قتل کر دو۔

اگر دو بندے گواہی دیں کہ فلاں بندے کا علی سے تعلق و رابطہ ہے تو اس بندے کی جان اور مال کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

*ایک نمونے کو ابن اثیر نے نقل کیا ہے:*

📝 معاویہ نے ساری مملکت میں سرکاری طور پر حکم نامہ جاری کیا کہ ، اگر دو بندے گواہی دیں کہ فلاں بندے کا علی سے تعلق و رابطہ ہے یا فلاں بندہ علی کا شیعہ ہے تو اس کے وظیفے کو بیت المال سے ختم کر دو۔

کہا جاتا ہے کہ چھے مہینے میں 80 ہزار علی کے شیعوں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا کہ *جن کا جرم فقط علی(ع) کا شیعہ ہونا تھا۔*

*ابو سوار عدوی کہتا ہے کہ:*

سمرة بن جندب نے ایک دن صبح کے وقت میرے 47 رشتے داروں کو قتل کیا کہ جو سارے حافظ قرآن تھے۔

📚 ابن اثير در الكامل في التاريخ الكامل في التاريخ ج 3 ص 229 .

*ابن ابي الحديد نے ایک بہت ہی درد ناک بات لکھی ہے کہ:*

📝 حتّي إنّ الرجل ليقال له زنديق أو كافر أحبّ إليه من أن يقال شيعة علی۔

*اگر کسی کو کہا جاتا کہ تم زندیق یا کافر ہو تو یہ اس کے لیے بہتر تھا کہ اس کو علی(ع) کا شیعہ کہا جائے۔*

📚 شرح نهج البلاغة ابن أبي الحديد ج 11 ص 44

*علی بن جهم اپنے باپ کو لعنت کرتا تھا کہ اس نے کیوں میرا نام علی رکھا ہے۔*

📝 كان يلعن أباه، لم سمّاه عليّاً۔

📚 لسان الميزان ،ج4 ، ص 210 .

*ابن حجر کہتا ہے کہ:*

📝 كان بنو أمية إذا سمعوا بمولود اسمه علي قتلوه، فبلغ ذلك رباحاً فقال هو علي، و كان يغضب من علي، و يحرج علي من سماه به۔

بنی امیہ جب بھی سنتے تھے کہ *فلاں نو مولود بچے کا نام علی ہے تو وہ اسکو قتل کر دیتے۔*

📚 تهذيب التهذيب ،ج 7 ، ص 281
-Muhammad Khan 

حضور پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت 12 ربیع الاول کو نہیں , 8 کو

ربیع الاول کا مبارک مہینہ شروع ہوا، ایک صاحب نے میسج کیا کہ حضور پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت 12 ربیع الاول کو نہیں , 8 کو ہوئی تھی.

میں نے جواب دیا، ٹھیک ہے، آج سے میں اور آپ 8 ربیع الاول کو میلاد کی خوشی میں حضور پاک ص کا ذکر کریں گے, شان بیان کریں گے, نعت پڑھیں گے, درود و سلام پڑھیں گے.

خاموشی, کوئی جواب نہیں آیا.

لیکن اگلے ہی دن میسیج آیا کہ اپنے بڑوں سے پوچھو! پہلے 12 ربیع الاول  کو وفات ( آپ کے وصال) کا دن منایا جاتا تھا, لیکن آجکل میلاد کی خوشی منائی جاتی ہے.

میں نے جواب دیا،ٹھیک ہے، آج سے میں اور آپ وفات کا دن منائیں گے. 12 ربیع الاول کو حضور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غم میں آپ کا ذکر کریں گے, شان بیان کریں گے, نعت پڑھیں گے, درود و سلام پڑھیں گے...

ایک مرتبہ پھر خاموشی کوی جواب نہیں آیا.

ایک دن پھر میسیج آیا کہ لفظ میلاد بدعت ہے.

میں نے کہا،ٹھیک ہے،اس لفظ کی جگہ لفظ ایمان استعمال کرلیتے ہیں اور حضور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھتے ہیں, ذکر کرتے ہیں. کیا آپ میرے ساتھ ایمان میں شامل ہوں گے؟

ایک بار پھر خاموشی۔

ایک روز پھر میسیج آیا کہ
حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج شریف پر 27 رجب کو نہیں گئے تھے. شمسی اعداد کے مطابق اور بعض ہم عصر روایات کے تجزیے سے ثابت ہوتا ہے کہ معراج شریف ماہ رجب میں نہیں ہوئی تھی...
وغیرہ وغیرہ یعنی تم جس رات کو شب معراج مان کر ذکر معراج کرتے ہو وہ تاریخ درست نہیں۔

میں نے ریپلائی کیا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ معراج شریف کس ماہ اور کس تاریخ کو ہوئی.
ہم حضور پاک کی محبت میں معراج شریف  اور آپ کی شان بیان کرتے ہیں.

یہ کام 27 رجب کو یا پھر جس دن آپ کہو گے، اس دن کر لیں گے.
اس کے بعد مکمل خاموشی, کوئی میسیج نہیں آیا۔
اگلے دن پھر میسیج ٹپکا کہ کسی کام کے لئے بھی دن مخصوص کرنا " بدعت " ہے.

میں نے کہا ٹھیک ہے, آج سے میں اور آپ ہر دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے درود و سلام, ذکر و اذکار, مدحت و شان و عظمت بیان کرنےکا اہتمام کیا کریں گے.

لیکن میری کسی بھی آفر پر وہ تیار نہ ہوئے۔

سمجھ میں آیا کہ لعین مردود کو پرابلم صرف حضور پاک کے نام سے ہے, آپ کے ذکر سے ہے, آپ کی شان بیان کرنے سے ہے, آپ پر سلام بھیجنے سے ہے.اور اس نے نا سمجھ مسلمانوں کو اس مشن میں ملا لیا ہے. یہ لوگ خود محبت میں حضور پاک کا ذکر کر سکتے ہیں نہ کوئی کرے تو برداشت کر سکتے ہیں۔

بہرحال ان سے برداشت ہو یا نہ ہو حضور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بھی ہو گا اور آپ کی شان بھی قیامت تک بلند ہوتی رہے گی کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے:
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
"اے محبوب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا"

اللہ پاک ہمیں حضور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی محبت, اطاعت اور شفاعت عطا فرماۓ۔ہر لمحہ حضور کا ذکر کرنے اور آپ کی شان بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
Copied

نوسنی نوناصبی علما کی مشترکہ منافقت ،صدیق اور صدیق اکبر کون ؟

صدیق اور صدیق اکبر ابوالحامدپیرمحمدامیرسلطان چشتی ہاشمی قادری حضرت ابو بکر صدیق کے لئے*"صدیق اکبر" کا لقب: صحابہ سے تبع تابعین ت...