دو مسلمان گروہ میں صلح کی حقیقت
*صلح نامے میں امام حسن(ع) نے معاویہ سے کہا کہ تم تمام شیعیان علی کی جان، مال اور ناموس کی حفاظت کرو گے اور ان کے سارے حقوق کی رعایت کرو گے۔*
اب دیکھتے ہیں کہ
کیا معاویہ اور شیعان معاویہ نے علی(ع) کے شیعوں کے ساتھ کیا کیا ؟
*نوٹ:* معاویہ کی حکومت میں کیا کچھ ہوتا تھا اسکی تفصیل پھر کبھی دی جائے گی۔ فلحال صلح کی شرط کے حوالے سے معاویہ کی کارکردگی پر مختصر حوالہ جات 👇🏼
*ابن ابی الحديد نے کہا ہے کہ:*
📝 معاویہ نے سرکاری طور پر حکم دیا کہ جہاں پر شیعان علی کو دیکھو اس کو قتل کر دو۔
اگر دو بندے گواہی دیں کہ فلاں بندے کا علی سے تعلق و رابطہ ہے تو اس بندے کی جان اور مال کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔
*ایک نمونے کو ابن اثیر نے نقل کیا ہے:*
📝 معاویہ نے ساری مملکت میں سرکاری طور پر حکم نامہ جاری کیا کہ ، اگر دو بندے گواہی دیں کہ فلاں بندے کا علی سے تعلق و رابطہ ہے یا فلاں بندہ علی کا شیعہ ہے تو اس کے وظیفے کو بیت المال سے ختم کر دو۔
کہا جاتا ہے کہ چھے مہینے میں 80 ہزار علی کے شیعوں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا کہ *جن کا جرم فقط علی(ع) کا شیعہ ہونا تھا۔*
*ابو سوار عدوی کہتا ہے کہ:*
سمرة بن جندب نے ایک دن صبح کے وقت میرے 47 رشتے داروں کو قتل کیا کہ جو سارے حافظ قرآن تھے۔
📚 ابن اثير در الكامل في التاريخ الكامل في التاريخ ج 3 ص 229 .
*ابن ابي الحديد نے ایک بہت ہی درد ناک بات لکھی ہے کہ:*
📝 حتّي إنّ الرجل ليقال له زنديق أو كافر أحبّ إليه من أن يقال شيعة علی۔
*اگر کسی کو کہا جاتا کہ تم زندیق یا کافر ہو تو یہ اس کے لیے بہتر تھا کہ اس کو علی(ع) کا شیعہ کہا جائے۔*
📚 شرح نهج البلاغة ابن أبي الحديد ج 11 ص 44
*علی بن جهم اپنے باپ کو لعنت کرتا تھا کہ اس نے کیوں میرا نام علی رکھا ہے۔*
📝 كان يلعن أباه، لم سمّاه عليّاً۔
📚 لسان الميزان ،ج4 ، ص 210 .
*ابن حجر کہتا ہے کہ:*
📝 كان بنو أمية إذا سمعوا بمولود اسمه علي قتلوه، فبلغ ذلك رباحاً فقال هو علي، و كان يغضب من علي، و يحرج علي من سماه به۔
بنی امیہ جب بھی سنتے تھے کہ *فلاں نو مولود بچے کا نام علی ہے تو وہ اسکو قتل کر دیتے۔*
📚 تهذيب التهذيب ،ج 7 ، ص 281
-Muhammad Khan
No comments:
Post a Comment