Wednesday, January 7, 2026

حضور پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت 12 ربیع الاول کو نہیں , 8 کو

ربیع الاول کا مبارک مہینہ شروع ہوا، ایک صاحب نے میسج کیا کہ حضور پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت 12 ربیع الاول کو نہیں , 8 کو ہوئی تھی.

میں نے جواب دیا، ٹھیک ہے، آج سے میں اور آپ 8 ربیع الاول کو میلاد کی خوشی میں حضور پاک ص کا ذکر کریں گے, شان بیان کریں گے, نعت پڑھیں گے, درود و سلام پڑھیں گے.

خاموشی, کوئی جواب نہیں آیا.

لیکن اگلے ہی دن میسیج آیا کہ اپنے بڑوں سے پوچھو! پہلے 12 ربیع الاول  کو وفات ( آپ کے وصال) کا دن منایا جاتا تھا, لیکن آجکل میلاد کی خوشی منائی جاتی ہے.

میں نے جواب دیا،ٹھیک ہے، آج سے میں اور آپ وفات کا دن منائیں گے. 12 ربیع الاول کو حضور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غم میں آپ کا ذکر کریں گے, شان بیان کریں گے, نعت پڑھیں گے, درود و سلام پڑھیں گے...

ایک مرتبہ پھر خاموشی کوی جواب نہیں آیا.

ایک دن پھر میسیج آیا کہ لفظ میلاد بدعت ہے.

میں نے کہا،ٹھیک ہے،اس لفظ کی جگہ لفظ ایمان استعمال کرلیتے ہیں اور حضور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھتے ہیں, ذکر کرتے ہیں. کیا آپ میرے ساتھ ایمان میں شامل ہوں گے؟

ایک بار پھر خاموشی۔

ایک روز پھر میسیج آیا کہ
حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج شریف پر 27 رجب کو نہیں گئے تھے. شمسی اعداد کے مطابق اور بعض ہم عصر روایات کے تجزیے سے ثابت ہوتا ہے کہ معراج شریف ماہ رجب میں نہیں ہوئی تھی...
وغیرہ وغیرہ یعنی تم جس رات کو شب معراج مان کر ذکر معراج کرتے ہو وہ تاریخ درست نہیں۔

میں نے ریپلائی کیا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ معراج شریف کس ماہ اور کس تاریخ کو ہوئی.
ہم حضور پاک کی محبت میں معراج شریف  اور آپ کی شان بیان کرتے ہیں.

یہ کام 27 رجب کو یا پھر جس دن آپ کہو گے، اس دن کر لیں گے.
اس کے بعد مکمل خاموشی, کوئی میسیج نہیں آیا۔
اگلے دن پھر میسیج ٹپکا کہ کسی کام کے لئے بھی دن مخصوص کرنا " بدعت " ہے.

میں نے کہا ٹھیک ہے, آج سے میں اور آپ ہر دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے درود و سلام, ذکر و اذکار, مدحت و شان و عظمت بیان کرنےکا اہتمام کیا کریں گے.

لیکن میری کسی بھی آفر پر وہ تیار نہ ہوئے۔

سمجھ میں آیا کہ لعین مردود کو پرابلم صرف حضور پاک کے نام سے ہے, آپ کے ذکر سے ہے, آپ کی شان بیان کرنے سے ہے, آپ پر سلام بھیجنے سے ہے.اور اس نے نا سمجھ مسلمانوں کو اس مشن میں ملا لیا ہے. یہ لوگ خود محبت میں حضور پاک کا ذکر کر سکتے ہیں نہ کوئی کرے تو برداشت کر سکتے ہیں۔

بہرحال ان سے برداشت ہو یا نہ ہو حضور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بھی ہو گا اور آپ کی شان بھی قیامت تک بلند ہوتی رہے گی کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے:
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
"اے محبوب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا"

اللہ پاک ہمیں حضور صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی محبت, اطاعت اور شفاعت عطا فرماۓ۔ہر لمحہ حضور کا ذکر کرنے اور آپ کی شان بلند کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
Copied

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...