ہمیں عید میلاد النبی منانا تواتر سے وراثت میں ملا ہے
اگر کوئی روک سکتا ہے تو روک کر دکھائے
(1) ہر سال جشن سعودیہ منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
2۔ ہر سال غسل خانہ کعبہ ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
3۔ ہر سال غلاف کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
4۔ غلاف کعبہ پر آیت لکھی جاتی ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں
5۔ مکہ مکرمہ مدینہ منورہ میں تہجد کی اذان ہوتی ہے جس کا ثبوت قرآن و حدیث میں نہیں
6۔ ۔مدارس میں ہر سال ختم بخاری ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں
7۔ محافل سجائی جاتی ہے جلسہ عام ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
8۔ ہر سال تبلیغی اجتماع ہوتا ہے چلّے لگائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں
9۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے وصال کے ایام منائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں
10۔ جشن دیوبند و اہل حدیث منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں
11۔ ذکر میلادِ مصطفیٰ صلی الله عليه وسلم منانے کا کسی صحابی ائمہ محدث و بزرگان دین نے منا کیا ہو اس کا بھی قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں ۔
لیکن جیسے ہی
میلادالنبی صلی الله عليه وسلم منانے کی بات آ جائے
سارے نام و نہاد مفتی دین کے ٹھیکیدار کھڑے ہو جاتے ہیں
اور شرک و بدعت کا شور الاپنا شروع کر دیتے ہیں ۔
جب کہ
انہیں خود
شرک و بدعت کی تعریف نہیں معلوم ۔
ہم اپنے نبی پاک سے یوں پیار کریں گے
ہر حال میں سرکار کا میلاد کریں گے❣️❣️
مرحبا صد مرحبا میلاد کا موسم آیا ہے۔
-Hafiz Muhammad Shahid Fida
No comments:
Post a Comment