"معاویہ خطائے منکر کا مرتکب،باعث فتنہ " پہ تبصرہ
بہار شریعت،جلد 1 ، صفحہ 75
واضح رہے، اسی مقام پہ معاویہ کے دفاع( ویسے ہے کچھ بھی نہیں) میں جو بھی لکھا گیا،کلام اللہ، فرامین رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم،،مولائے کائنات امام طریقت حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم ،آثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم،,ائمہ،محققین،مفسرین،محدثین رح،امت محمدیہ کی دینی،سماجی تاریخ اور خود معاویہ کے کارناموں کے بر عکس ہے۔ حالانکہ کچھ بھی قابل تذکرہ نہیں، بس آخر میں بنا معقول دلیل (ممکن ہے حسن زن کے تحت) لکھا ہےکہ "۔۔۔۔فیصلہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ مولی علی علیہ السلام کی ڈگری اور امیر معاویہ رض کی مغفرت۔ " جہاں تک حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ سے مجتہد باور کرانے کی بات ہے۔ ایک دیگر روایت میں آپ رضی اللہ عنہ نے معاویہ کے بارے میں اسی موضوع،(ایک وتر) سے متعلق فرمایا " یہ چیز اس گدھے نے کہاں سے لی۔" جو معاویہ کو مجتہد باور کراتے ہیں ، پہ لازم ہے کہ اس کے مجتہد ہونے کی اس کے علاوہ کوئی اور دلیل لائیں کہ حضرت ابن عباس رض معاویہ کے افعال کے مطابق اسے گدھا قرار دے چکے۔ حضرت امام طحاوی رح و حضرت حافظ ابن عسقلانی رح وغیرہ نے آپ رض کے اس قول کو اعراض و تسامح سے تعبیر فرمایا ہے۔
No comments:
Post a Comment