Wednesday, January 7, 2026

کتاب-اہل بیت جدا نہ ہونگے،حوض کوثر پہ ملینگے

سوال 1: کیا مستدرک للحاکم کی حدیث نمبر 4628 اور 4711صحیح ہیں؟
جواب: مستدرک للحاکم کی حدیث نمبر4628 مندرجہ ذیل ہے:
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الحفيد، ثنا أحمد بن محمد بن نصر، ثنا عمرو بن طلحة القناد، الثقة المأمون، ثنا علي بن هاشم بن البريد، عن أبيه قال: حدثني أبو سعيد التيمي، عن أبي ثابت، مولى أبي ذر قال: كنت مع علي رضي الله عنه يوم الجمل، فلما رأيت عائشة واقفة دخلني بعض ما يدخل الناس، فكشف الله عني ذلك عند صلاة الظهر، فقاتلت مع أمير المؤمنين، فلما فرغ ذهبت إلى المدينة فأتيت أم سلمة فقلت: إني والله ما جئت أسأل طعاما ولا شرابا ولكني مولى لأبي ذر، فقالت: مرحبا فقصصت عليها قصتي، فقالت: أين كنت حين طارت القلوب مطائرها؟ قلت: إلى حيث كشف الله ذلك عني عند زوال الشمس، قال: أحسنت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: §«علي مع القرآن والقرآن مع علي لن يتفرقا حتى يردا علي الحوض» هذا حديث صحيح الإسناد وأبو سعيد التيمي هو عقيصاء ثقة مأمون، ولم يخرجاه "
حضرت ابو ذرؓ کے آزاد کردہ غلام ابو ثابت فرماتے ہیں کہ جنگ جمل کے موقع پر میں حضرت علیؓ کے ہمرا تھا، جب میں نے ام المومنین حضرت عائشہؓ کو کھڑے دیکھا تو میرے دل میں بھی وسوسہ پیدا ہوا جو دوسرے لوگوں کے دلوں میں تھا۔ لیکن نماز ِ ظہر کے وقت اللہ تعالیٰ نے وہ وسوسہ مجھ سے دور کر دیا ۔ چنانچہ میں نے امیر المومنین کے ہمرا ہ قتال کیا۔ جب جنگ ختم ہوئی تو میں مدینہ منورہ میں آیا، تو میں حضرت ام سلمہؓ کے پاس آیا۔ میں نے کہا: خدا کی قسم میں کوئی کھانے یا پینے کی کوئی چیز مانگنے کے لئے نہیں آیا بلکہ میں تو حضرت ابو ذر کا آزادکردہ غلام ہوں، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا۔ میں نے ان کو اپنا واقعہ سنایا۔ انہوں نے کہا جب دل اپنے مقام پر اُڑ رہے تھے تو تُو اس وقت کیسے بچ گیا؟ میں نے کہا: میری بھی وہی حالت تھی لیکن زوالِ شمس کے وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے شرح صدر عطا کر دیا ۔ انہوں نے کہا: تم نے اچھا کیا، رسول اللہﷺ کو میں نے یہ فرماتے سنا ہے: "علی قرآن کے ساتھ اور قرآن علی کے ساتھ رہے گا اور یہ کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے حتیٰ کہ یہ دونوں اکٹھے ہی میرے پاس حوضِ کوثر پر آئیں گے۔
(مستدرک للحاکم رقم 4628،  طبعہ دارلحرمین بتحقیق الوداعی 3/144ح4691، طبعہ دارالتاصیل 5/326ح4687)
٭امام حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ابو سعید التیمی عقیصاء ہیں، یہ ثقہ ہیں ، مامون ہیں ، لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔
٭ ابو عبدالرحمان الوداعی اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ ابن معین نے ابو سعید عقصا کے بارے میں جرح و تعدیل نقل نہیں کی، تو پھر حاکم نے کہاں سے انہیں ثقہ و مامون بنادیا؟اور ان کے والد ثابت کے ترجمہ سے میں واقف نہیں ۔
٭طبعہ دارالتاصیل کے محققین لکھتے ہیں کہ اس میں عمرو بن طلحہ القناد  صدوق ہے اس پر رفض کا الزام ہے، علی بن ہاشم بن البرید صدوق متشیع ہے، ابو سعید التیمی  کے بارے میں یحییٰ بن معین نے کہا کہ یہ کوئی شے نہیں، اور ابو ثابت مولیٰ ابی ذر کے حالات ہمیں نہیں ملے۔
امام حاکم نے کہا کہ یہ بخاری اور مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہیں، لیکن شیخین نے ان کو نقل نہیں کیا۔
طبعہ دارالتاصیل کے محقیقن نے اس کی سند کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ سند شیخین کی شرط پر نہیں ہے ، عبدالرحمان بن صالح الازدی صدوق متشیع ہے، اور محمد بن سلیمان الاصبہانی صدوق، غلطی کرنے والا ہے۔ اور نہ ہی سعید بن مسلم بن بانک، ان تینوں سے بخاری اور مسلم دونوں نے روایت نہیں لی ہے۔
ابو عبدالرحمان الوداعی  نے بھی اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے۔
طبرانی نے اسے معجم الاوسط میں ذکر کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ حدیث صرف ثابت مولیٰ ابو ذر نے روایت کی ہے اور اس میں ان کا تفرد ہے۔ (معجم الاوسط 5/135ح4880)
تحکیم:  ضعیف ، اس کی سند میں ابو ثابت مولیٰ ابو ذر مجہول ہیں۔ رجال کی کسی کتاب میں ان کے حالات نہیں ملے۔ ایک اور راوی ابو سعید دینار عقیصاء سخت ضعیف ہیں، یحییٰ بن معین  (تاریخ یحییٰ بن معین بروایت الدور ی 3/503) نے کہا کہ کوئی شے نہیں۔ یعقوب بن شیبہ(المعرفہ والتاریخ 3/190) نے کہا کہ رافضی تھا۔نسائی (ضعفاء والمتروکین  ص 174ح180) نے کہا کہ قوی نہیں ہے،ابن حبان (الثقات 4/219، 5/286) نے اس کا ذکر الثقات میں کیا ہے، عقیلی (ضعفاء الکبیر ) نے کہا کہ رافضیوں میں سے تھا۔ ابن عدی (الکامل فی الضعفاء4/645 ) نے کہا کہ صحابہ سے کی گئی اس کی روایت معتمد نہیں ہے۔ دارقطنی (سؤالات البرقانی ص73ح143،ضعفاء والمتروکین  ص 202ح211 )نے کہا کہ علیؓ کے حوالے سے منکر روایات کرتا تھا ، ابو بکر بن عیاش نے اس پر کذب کی تہمت لگائی ہے، یہ متروک ہے۔امام حاکم (المستدرک ح 4628) نے کہا کہ ثقہ مامون ہے۔ ذہبی (میزان الاعتدال5/110ح5707(اردو5/131ح5707)، المغنی فی الضعفاء2/64ح4159، دیوان الضعفاء ص 278ح2862 ) نے کہا کہ دارقطنی نے اسے ترک کیا ہے، بخاری نے کہا کہ اس پر کلام کیا گیا ہے، ذہبی نے  یہ بھی کہا کہ شیعہ ہے، ایک جگہ یہ بھی کہا کہ سخت شیعہ ہے۔
میرے علم کے مطابق اس روایت کی متابعات و شواہد مسند البزار، تاریخ بغداد  اور تاریخ دمشق میں بھی موجود ہیں مگر سب کی اسناد میں ضعف ہے۔
المستدرک کی حدیث نمبر 4711 مندرجہ ذیل ہے:
حدثنا أبو بكر، محمد بن الحسين بن مصلح الفقيه بالري، ثنا محمد بن أيوب، ثنا يحيى بن المغيرة السعدي، ثنا جرير بن عبد الحميد، عن الحسن بن عبد الله النخعي، عن مسلم بن صبيح، عن زيد بن أرقم، رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني تارك فيكم الثقلين: كتاب الله، وأهل بيتي، وإنهما لن يتفرقا حتى يردا علي الحوض.
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں: رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں (1) کتاب اللہ (2) اپنے اہل بیت اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے حتیٰ کہ یہ میرے حوض پر آئیں گے۔
(المستدرک للحاکم 4711، طبعہ دارالحرمین بتحقیق الوداعی3/173ح4774 ، طبعہ دارالتاصیل 5/367ح4770)
٭امام حاکم نے کہا کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔
٭طبعہ دارالتاصیل کے محققین نے لکھا کہ یہ سند شیخین کی شرط پر نہیں ہے، شیخین نے یحییٰ بن مغیرہ السعدی سے حدیث نہیں لی اور بخاری نے حسن بن عبیداللہ النخعی سے حدیث نہیں لی۔
٭ابو عبدالرحمان الوداعی  لکھتے ہیں کہ یہ مسلم کی شرط پر ہے بخاری کی شرط پر نہیں ہے کیونکہ بخاری نے حسن بن عبیداللہ سے حدیث نہیں لی، اس کی عام طور پر کی گئی روایت مضطرب ہے۔

حسن بن عبیداللہ ثقہ ہے ۔ابن سعد(طبقات ابن سعد8/468ح3376)، یحییٰ بن معین(تاریخ دارمی ص94 ح252، الجرح والتعدیل 3/23ح96) ، عجلی(ثقات العجلی1/296ح298)  اور ابو حاتم رازی (الجرح والتعدیل 3/23ح96)نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ دارقطنی (علل دارقطنی 1/224) نے ایک جگہ اسے کہا کہ قوی نہیں، حاکم(سؤالات الحاکم للدارقطنی ص193ح295) نے دارقطنی کے حوالے سے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے دارقطنی کا اسے قوی نہیں کہنا کوئی خاص وقعت نہیں رکھتا ۔متاخرین میں ذہبی (الکاشف 1/327ح1041، سیر اعلام النبلاء 6/144)، اور ابن حجر (تقریب التہذیب 1/435ح1264) نے کہا کہ ثقہ ہے۔
یحییٰ بن مغیرہ السعدی صدوق ہے ۔ یحییٰ بن معین(الجرح والتعدیل 9/191ح798، الکامل ابن عدی 4/204)  اور ابو حاتم رازی (الجرح والتعدیل 9/191ح798) نے اس کی توثیق کی ہے۔
تحکیم: اس کی سند حسن ہے۔-منقول

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...