Wednesday, January 7, 2026

حق علی کے ساتھ


حق علی کے ساتھ:
ﻋﻠﯽ ﺣﻖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺣﻖ ﻋﻠﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﮯ۔
( ﺻﺤﯿﺢ ﺗﺮﻣﺬﯼ ﺟﻠﺪ 31 ،ﺻﻔﺤﮧ 166 )

سرور کائناتﷺ حضرت علیؑ کو حق قرار دیتے ہیں:((قال الرسول الله : علی مع الحق و الحق مع علی ولن یفترقا حتی یردا علیّ الحوض یوم القیامة) ترجمہ:رسول خداﷺ نے فرمایا: علیؑ حق کے ساتھ اور حق علیؑ کے ساتھ ہے اور یہ دونوں اکھٹے رہیں گے یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پہ ملیں گے۔۔بغدادی،خطیب،تاریخ بغداد،ج ۱۴،ص۳۲۱۔-منقول

حق چھپانا،حق و باطل گڈ مڈ کرنا ہے !

دین حق کا مخالف ازل سے شیطان رہا ہے، شیطان کا ایک کام تلبیس ہے، حق و باطل کو گڈ مڈ کرنا یا حق کو چھپا دینا، یہ کام وہ اپنے ہرکاروں (انسان نما اور جن) سے لیتا ہے، مثلا : قرآن مجید بذات خود مبین (بیان کرنے والا، کاشف: کھولنے والا ) ہے، لیکن شیطان نے یہ ذھن میں ڈال دیا ہے کہ اس میں تدبر نا کرو، بس اس کا رٹا لگا لو یہ نجات کے لیے کافی ہے، نبی کریم ﷺ نور ہیں، لیکن شیطان نے یہ ذھن بنادیا کہ وہ عام بشر کی طرح ہیں، ان کی اتنی تعظیم کرو جتنا بڑے بھائی کی، کیوں کہ زیادہ محبت شرک کی طرف لے جائے گی، اہل البیت علیہم السلام سے دین کو لینا ہے جیسا کہ حدیث ثقلین میں ہے لیکن شیطان نے یہ ذھن بنادیا کہ اس امت میں دوسروں لوگوں کو ان کے مقابل لاکھڑا کیا، یعنی الثقلین کی قوی روایات کو چھوڑ کر ان سے کمزور درجہ کی روایات پر شدت کی جاتی ہے، انہیں بیان کیا جاتا ہے لیکن الثقلین ، حدیث غدیر ، حدیث المنزلۃ کو عام لوگوں سے چھپادیا۔۔
آپ اس کا تجربہ کرلیں ۔۔۔ آپ قرآن مجید میں غور و فکر کی بات کریں یہ طبقہ فورآ آپ کو منکر حدیث کہدے گا، آپ نبی کریم ﷺ کی تعظیم اور ان کے نور ہونے کی بات کریں یہ آپ کو قبوری بدعتی مشرک کا فتوے دے گا، آپ اہل البیت کی بات کریں یہ آپ پر رافضیت کا لیبل چسپاں کردے گا، یہ ہے شیطان کی تلبیس!!! 
(مفتی)فضل ہمدرد

معاویہ اسلام کو بادشاہی سیاسی نظام حکومت سمجھتا

معاویہ اسلام کو بادشاہی سیاسی نظام حکومت سمجھتا اور توضیح دیتا تھا کہ: لوگوں کی دینداری کے ساتھ اس کا کوئی کام نہیں ہے۔
اس سے منقول ہے:-
خدا کی قسم ! میری جنگ اقامۂ نماز، زکات دینے اور حج کرنے کیلئے نہ تھی یہ کام تو تم انجام دیتے تھے، بلکہ میں نے تم پر حکومت کرنے کیلئے جنگ کی اور خدا نے مجھے وہ دی حالانکہ تم اس پر ناخوش ہو۔

ابو حنیفہ، الاخبار الطوال، ص 226
طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج 5، ص 220
بلاذری، انساب الاشراف، ج 4، ص 299
کاندھلوی، حیاة الصحابہ، ج 3، ص        -منقول

معاویہ کا سال عام الجماعۃ اور جاحظ کی تشریح

معاویہ کا سال عام الجماعۃ اور جاحظ کی تشریح
جاحظ اس سال معاویہ کے بادشاہ بننے، اعضائے شورا اور مہاجرین و انصار کی نسبت اسکی استبدادیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے :-
معاویہ نے اگرچہ(عرب عجم کا بادشاہ بننے کے) اس سال کا نام عام الجماعۃ رکھا حالانکہ یہ سال عام الفرقہ و قہر و جبر و غلبہ کا سال تھا۔ یہ وہ سال تھا کہ جس میں امامت، ملوکیت میں اور نظام نبوی، نظام کسرائی میں تبدیل ہوا اور خلافت، مغصوب اور قیصری واقع ہوئی۔
جاحظ، رسالہ الجاحظ فی بنی امیہ، ص  124، رسالہ النزاع و التخاصم کے ساتھ چھپا ہے،-منقول

معاویہ معزولی سے انکار پہ ہی گردن زدنی ہو گیا تھا


معاویہ معزولی سے انکار پہ ہی گردن زدنی ہو گیا تھا
جان مہر ! وہ کوئی  عام زندگی نہیں گزار رہا تھا۔ وہ ایک سرکاری عہدے پر تھا۔اس نے جس لمحے سربراہ حکومت ( وہ تو پھر خلیفہ راشد اور وہ بھی اصحاب کسا میں سے مولائے مسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم  /  اور وہ کیا؟ ایک صوبے پہ قابض و طلقاء میں سے ایک طلیق بن طلیق ) کے حکم معزولی پہ عمل کرنے سے انکار کیا، فورا باغی(گردن زدنی) ہو گیا تھا۔ اس کے باقی سارے کرتوت اضافی در اضافی کبیرہ در کبیرہ گناہوں اور جرائم کی سنگینی در سنگینی میں اضافہ در اضافہ ہی کرتے چلے جاتے ہیں۔ 
خیال رہے، " سربراہ حکومت " سے مراد وقت کے دنیاوی بادشاہ ہوں یا آج کے کسی ملک/قوم کے صدر یا وزیراعظم مراد ہیں۔ جن کے حکم کی نافرمانی اس وقت بھی موت کی سزا تھی اور اب بھی اسی سزا کا سزاوار قرار پائے گا۔ بس فرق یہ ہوگا کہ اس وقت بادشاہ کا حکم فورا نافذ ہو جاتا تھا،اب قانونی عمل سے گزار کے سزا دینی ہوتی ہے۔

معاویہ کے کلمہ نہ پڑھنے و 30 سالہ زندگی پہ رائے

معاویہ کے کلمہ نہ پڑھنے و 30 سالہ زندگی پہ رائے
حق یہی ہے کہ فتح مکہ کے بعد لوگوں نے بحالت مجبوری جان و مال و اولاد بچانے کے لئے،(صحیح یا غلط خدا جانے) حضرت عمر فاروق رض کے سامنے سے ایک ایک کر کے گزرتے ہوئے چند باتوں کے اقرار اور چند سے انکار کر کے اسلام قبول کرنے کی رسم ادائیگی کی تو معاویہ کے بارے میں سمجھا گیا کہ اس نے بھی قطار میں لگ کے اسلام قبول کرنے کی رسم ادا کر دی ہو گی۔ اس کے کرتوت صحابہ کرام رض کے یہ #سمجھنے کی تردید کرتے ہیں۔

وہ اس وقت تیس سال کا تھا کوئی پانچ دس سال کا بچہ نہ تھا کہ اس کے اسلام قبول کرنے کے الفاظ جیسے کچھ بھی ہوتے، اس کی امی ہندہ جگر خور اور ابو صخر بن حرب کی طرح تاریخ کی کتابوں میں درج نہ ملتے۔ خصوصا اس لئے بھی کہ وہ عرب کا سب سے بڑا ہوشیار (چالاک) آدمی تھا اور اس لئے بھی کہ ہندہ و صخر کا بیٹا تھا۔ چونکہ ایسی کوئی رویات نہیں سو کسی اور سے منسوب روایت  کو توڑ مروڑ کے  اس کی مسلمانی ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، ،جو ہرگز نہیں ہوتی‌۔ پھر یہ بھی کہ جس وقت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم اس کے خاندان کے مردوں کو قتل کر رہے تھے، وہ چوڑیاں پہنے کہاں بیٹھا تھا ؟ کہیں بھی نہیں۔ وہ یقیناً اپنے بڑوں کے ذریعے پھیلانے جا رہے خون خرابے  میں شامل رہا ہوگا، لیکن کتب تاریخ اس کی اس پوری 30 سالہ زندگی کے کرتوتوں سے کوری ہے۔ کیوں کوری ہے ؟؟


چند مناقب اہل بیت رض


اے اللہ! بے شک تو نے اپنے درود اور اپنی رضوان کو مجھ پر اور ان پر خاص کر دیا ہے
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تلاش میں باہر نکلا تو مجھے کسی نے کہا کہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس ہیں پس میں نے (وہاں) ان (کے پاس جانے) کا ارادہ کیا (اور جب میں وہاں پہنچا) تو میں نے انہیں حضور نبی اکرم ﷺ کی چادر کے اندر پایا اور حضرت علی، حضرت فاطمہ اور حسن اور حسین رضی اللہ عنھم ان سب کو حضور نبی اکرم ﷺ نے ایک کپڑے کے نیچے جمع کر رکھا تھا پس آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ! بے شک تو نے اپنے درود اور اپنی رضوان کو مجھ پر اور ان پر خاص کر دیا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 27 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 95، الرقم : 230، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 167.
________________________________
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ درآں حالیکہ آپ ﷺ نے چادر بچھائی ہوئی تھی۔ پس اس پر حضور نبی اکرم ﷺ (بنفسِ نفیس) حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین علیھم السلام بیٹھ گئے پھر آپ ﷺ نے اس چادر کے کنارے پکڑے اور ان پر ڈال کر اس میں گرہ لگا دی۔ پھر فرمایا : اے اللہ! تو بھی ان سے راضی ہو جا، جس طرح میں ان سے راضی ہوں۔‘‘ اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 58 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 348، الرقم : 5514، و الهيثي في مجمع الزوائد، 9 / 169.

__________________________________
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آخری چیز جو حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمائی وہ یہ تھی کہ مجھے میرے اہل بیت میں تلاش کرو۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 59 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 157، الرقم : 3860، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 163.

____________________________________
حضور نبی اکرم ﷺ کے پروردہ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اُم المؤمنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر حضور نبی اکرم ﷺ پر یہ آیت ’’اے اہل بیت! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح) کی آلودگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک و صاف کر دے‘‘ نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین سلام اللہ علیہم کو بلایا اور انہیں اپنی کملی میں ڈھانپ لیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پیچھے تھے، آپ ﷺ نے انہیں بھی اپنی کملی میں ڈھانپ لیا، پھر فرمایا : اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، پس ان سے ہر قسم کی آلودگی دور فرما اور انہیں خوب پاک و صاف کر دے۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! میں (بھی) ان کے ساتھ ہوں، فرمایا : تم اپنی جگہ رہو اور تم تو بہتر مقام پر فائز ہو۔‘‘ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

الحديث رقم 53 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : تفسير القرآن عن رسول اللہ ﷺ، باب : و من سورة الأحزاب، 5 / 351، الرقم : 3205، و في کتاب : المناقب عن رسول اللہ ﷺ، باب : فضل فاطمة بنت محمد ﷺ، 5 / 699، الرقم : 3871، والطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 134، الرقم : 3799.
______________________________

’حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بے شک میں تم میں دو نائب چھوڑ کر جا رہا ہوں. ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب جو کہ آسمان و زمین کے درمیان پھیلی ہوئی رسی (کی طرح) ہے اور میری عترت یعنی میرے اہل بیت اور یہ کہ یہ دونوں اس وقت تک ہرگز جدا نہیں ہوں گے جب تک یہ میرے پاس حوض کوثر پر نہیں پہنچ جاتے۔‘‘ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 2 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 181، الرقم : 21618، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 /162.
_______________________________

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جانے والا ہوں اور اگر تم ان کی اتباع کرو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے اور وہ دو چیزیں کتاب اللہ اور میرے اہل بیت ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو میں مؤمنین کی جانوں سے بڑھ کر ان کو عزیز ہوں آپ ﷺ نے ایسا تین مرتبہ فرمایا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : ہاں یا رسول اللہ! تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس کا میں مولی ہوں علی بھی اس کا مولی ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

الحديث رقم 4 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 118، الرقم : 4577.
_________________________________
اہلبیت سے جنگ یا صلح آپ ص سے جنگ و صلح
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنھم سے فرمایا : تم جس سے لڑو گے میں اُس کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں اور جس سے تم صلح کرنے والے ہو میں بھی اُس سے صلح کرنے والا ہوں۔‘‘ اسے امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
الحديث رقم 51 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب عن رسول الله ﷺ، باب : فضل فاطمة بنت محمد ﷺ، 5 / 699، الرقم : 3870، وابن ماجة في السنن، المقدمة، باب : فضل الحسن والحسين ابنَي عَلِيِّ بْنِ أبي طالِبٍ رضي الله عنهم، 1 / 52، الرقم : 145، والحاکم في المستدرک، 3 / 161، الرقم : 4714، والطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 182، الرقم : 5015، وفي المعجم الکبير، 3 / 40، الرقم : 2620، والصيداوي في معجم الشيوخ، 1 / 133، الرقم :85. ____________________________
اہلبیت اطہار ع سے محبت واخب
یا رسول اللہ! آپ کی قرابت کون ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : علی، فاطمہ اور ان کے دو بیٹے (حسن و حسین)۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 5 : أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، 3 / 47، الرقم : 2641، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 168.
_______________________________
آپ ص کے قرابت داروں سے محبت کے بنا ایمان نہیں
حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں عرض کیا : یا رسول اللہ! قریش جب آپس میں ملتے ہیں تو حسین مسکراتے چہروں سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو ایسے چہروں سے ملتے ہیں جنہیں ہم نہیں جانتے (یعنی جذبات سے عاری چہروں کے ساتھ) حضرت عباس فرماتے ہیں : حضور نبی اکرم ﷺ یہ سن کر شدید جلال میں آگئے اور فرمایا : اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کسی بھی شخص کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اور میری قرابت کی خاطر تم سے محبت نہ کرے۔‘‘ اسے امام احمد، نسائی، حاکم اور بزار نے روایت کیا ہے۔
الحديث رقم 10 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 1 / 207، الرقم : 1772، 1777، 17656، 17657، 17658، والحاکم في المستدرک، 3 / 376، الرقم : 5433، 2960، والنسائي في السنن الکبري، 5 / 51 الرقم : 8176، والبزار في المسند، 6 / 131، الرقم : 2175، والبيهقي في شعب الإيمان، 2 / 188، الرقم : 1501، والديلمي في مسند الفردوس، 4 / 361، الرقم : 7037.

آپ ص کا جلال اور خادمہ اہلبیت کی توہین
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ آل رسول ﷺ کی ایک خادمہ تھی جو ان کی خدمت بجا لاتی اسے ’’بریرہ‘‘ کہا جاتا تھا پس اسے ایک آدمی ملا اور کہا : اے بریرہ اپنی چوٹی کو ڈھانپ کر رکھا کرو بے شک محمد ﷺ تمہیں اللہ کی طرف سے کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ راوی بیان کرتے ہیں پس اس نے حضور نبی اکرم ﷺ کو اس واقع کی خبر دی پس آپ ﷺ اپنی چادر کو گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے درآنحالیکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی دونوں رخسار مبارک سرخ تھے اور ہم (انصار کا گروہ) حضور ﷺ کے غصے کو آپ ﷺ کے چادر کے گھسیٹنے اور رخساروں کے سرخ ہونے سے پہچان لیتے تھے پس ہم نے اسلحہ اٹھایا اور حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ جو چاہتے ہیں ہمیں حکم دیں پس اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے!اگر آپ ہمیں ہماری ماؤں، آباء اور اولاد کے بارے میں بھی کوئی حکم فرمائیں گے تو ہم ان میں بھی آپ ﷺ کے قول کو نافذ کر دیں گے پس آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور فرمایا : میں کون ہوں؟ ہم نے عرض کیا : آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں لیکن میں کون ہوں؟ ہم نے عرض کیا : آپ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میں حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کا سردار ہوں لیکن کوئی فخر نہیں، میں وہ پہلا شخص ہوں جس سے قبر پھٹے گی لیکن کوئی فخر نہیں اور میں وہ پہلا شخص ہوں جس کے سر سے مٹی جھاڑی جائے گی لیکن کوئی فخر نہیں اور میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والا ہوں لیکن کوئی فخر نہیں ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو یہ گمان کرتے ہیں کہ میرا رحم (نسب و تعلق) فائدہ نہیں دے گا ایسا نہیں ہے جیسا وہ گمان کرتے ہیں۔ بے شک میں شفاعت کروں گا اور میری شفاعت قبول بھی ہو گی یہاں تک کہ جس کی میں شفاعت کروں گا وہ یقیناً دوسروں کی شفاعت کرے گا اور اس کی بھی شفاعت قبول ہو گی یہاں تک کہ ابلیس بھی اپنی گردن کو بلند کرے گا شفاعت میں طمع کی خاطر (یا کسی طور اس کی شفاعت بھی کوئی کر دے)۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے بیان کیا ہے۔

الحديث رقم 15 : أخرجه الطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 203، الرقم : 5082، و الهيثمي في مجمع الزوائد، 10 /376.
_____________________________
ایک دوسری سے بڑیدو چیزیں گمراہی کی مدافع
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تم میں ایسی دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر میرے بعد تم نے انہیں مضبوطی سے تھامے رکھا تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی ہے اور میری عترت یعنی اھلِ بیت اور یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گی پس دیکھو کہ تم میرے بعد ان سے کیا سلوک کرتے ہو؟‘‘ اسے امام ترمذی، نسائی اور احمد نے روایت کیا اور امام ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
الحديث رقم 52 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب   عن رسول الله ﷺ، باب : في مناقب أهل بيت النبي ﷺ، 5 / 663، الرقم : 3788 / 3786، والنسائي في السنن الکبري، 5 / 45، الرقم : 8148، 8464، وأحمد بن حنبل في المسند، 3 / 14، 26، 59، الرقم : 11119، 11227، 11578، والحاکم في المستدرک، 3 / 118، الرقم : 4576، والطبراني عن أبي سعيد رضي الله عنه في المعجم الأوسط، 3 / 374، الرقم : 3439، و في المعجم الصغير، 1 / 226، الرقم : 323، و في المعجم الکبير، 3 / 65، الرقم : 2678، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 133، الرقم : 30081، وأبويعلي في المسند، 2 / 303، الرقم : 10267، 1140، وابن أبي عاصم في السنة، 2 / 644، الرقم : 1553، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 66، الرقم : 194، والهيثمي في مجمع الزوائد، 9 / 163.
_______________________________
چادر میں پنج تن و ام سلمہ رض
حضور نبی اکرم ﷺ کے پروردہ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اُم المؤمنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر حضور نبی اکرم ﷺ پر یہ آیت ’’اے اہل بیت! اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح) کی آلودگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک و صاف کر دے‘‘ نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین سلام اللہ علیہم کو بلایا اور انہیں اپنی کملی میں ڈھانپ لیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پیچھے تھے، آپ ﷺ نے انہیں بھی اپنی کملی میں ڈھانپ لیا، پھر فرمایا : اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، پس ان سے ہر قسم کی آلودگی دور فرما اور انہیں خوب پاک و صاف کر دے۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے نبی! میں (بھی) ان کے ساتھ ہوں، فرمایا : تم اپنی جگہ رہو اور تم تو بہتر مقام پر فائز ہو۔‘‘ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

الحديث رقم 53 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : تفسير القرآن عن رسول اللہ ﷺ، باب : و من سورة الأحزاب، 5 / 351، الرقم : 3205، و في کتاب :المناقب عن رسول اللہ ﷺ، باب : فضل فاطمة بنت محمد ﷺ، 5 / 699، الرقم : 3871، والطبراني في المعجم الأوسط، 4 / 134، الرقم :3799.-منقول


ابو بکر  رض نے فرمایا:- آپ ص کو آپ ص کے اہل بیت ع میں تلاش کرو
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ , وَصَدَقَةُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ :    ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ ۔ بخاری،3751
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  ( کی خوشنودی )  کو آپ کے اہل بیت کے ساتھ  ( محبت و خدمت کے ذریعہ )  تلاش کرو۔ --ترجمہ (360)
صحیح ترجمہ: حضرت ابوبکر نے فرمایا,رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت ع میں تلاش کرو۔

نوسنی نوناصبی علما کی مشترکہ منافقت ،صدیق اور صدیق اکبر کون ؟

صدیق اور صدیق اکبر ابوالحامدپیرمحمدامیرسلطان چشتی ہاشمی قادری حضرت ابو بکر صدیق کے لئے*"صدیق اکبر" کا لقب: صحابہ سے تبع تابعین ت...