معاویہ معزولی سے انکار پہ ہی گردن زدنی ہو گیا تھا
جان مہر ! وہ کوئی عام زندگی نہیں گزار رہا تھا۔ وہ ایک سرکاری عہدے پر تھا۔اس نے جس لمحے سربراہ حکومت ( وہ تو پھر خلیفہ راشد اور وہ بھی اصحاب کسا میں سے مولائے مسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم / اور وہ کیا؟ ایک صوبے پہ قابض و طلقاء میں سے ایک طلیق بن طلیق ) کے حکم معزولی پہ عمل کرنے سے انکار کیا، فورا باغی(گردن زدنی) ہو گیا تھا۔ اس کے باقی سارے کرتوت اضافی در اضافی کبیرہ در کبیرہ گناہوں اور جرائم کی سنگینی در سنگینی میں اضافہ در اضافہ ہی کرتے چلے جاتے ہیں۔
خیال رہے، " سربراہ حکومت " سے مراد وقت کے دنیاوی بادشاہ ہوں یا آج کے کسی ملک/قوم کے صدر یا وزیراعظم مراد ہیں۔ جن کے حکم کی نافرمانی اس وقت بھی موت کی سزا تھی اور اب بھی اسی سزا کا سزاوار قرار پائے گا۔ بس فرق یہ ہوگا کہ اس وقت بادشاہ کا حکم فورا نافذ ہو جاتا تھا،اب قانونی عمل سے گزار کے سزا دینی ہوتی ہے۔
No comments:
Post a Comment