Wednesday, January 7, 2026

ہمیں عید میلاد النبی منانا تواتر سے وراثت میں ملا ہے

ہمیں عید میلاد النبی منانا تواتر سے وراثت میں ملا ہے

 اگر کوئی روک سکتا ہے تو روک کر دکھائے

 (1) ہر سال جشن سعودیہ منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں

2۔ ہر سال غسل خانہ کعبہ ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں

3۔ ہر سال غلاف کعبہ تبدیل کیا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں 

4۔ غلاف کعبہ پر آیت لکھی جاتی ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں

5۔ مکہ مکرمہ مدینہ منورہ میں تہجد کی اذان ہوتی ہے جس کا ثبوت قرآن و حدیث میں نہیں
 
6۔ ۔مدارس میں ہر سال ختم بخاری ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں

7۔ محافل سجائی جاتی ہے جلسہ عام ہوتا ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں
 
8۔ ہر سال تبلیغی اجتماع ہوتا ہے چلّے لگائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں 

9۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے وصال کے ایام منائے جاتے ہیں جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں

10۔ جشن دیوبند و اہل حدیث منایا جاتا ہے جس کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں

11۔ ذکر میلادِ مصطفیٰ صلی الله عليه وسلم منانے کا کسی صحابی ائمہ محدث و بزرگان دین نے منا کیا ہو اس کا بھی قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں ۔
 
لیکن جیسے ہی 

میلادالنبی صلی الله عليه وسلم منانے کی بات آ جائے 

سارے نام و نہاد مفتی دین کے ٹھیکیدار کھڑے ہو جاتے ہیں

 اور شرک و بدعت کا شور الاپنا شروع کر دیتے ہیں ۔ 

جب کہ

 انہیں خود

 شرک و بدعت کی تعریف نہیں معلوم ۔ 

ہم اپنے نبی پاک سے یوں پیار کریں گے
ہر حال میں سرکار کا میلاد کریں گے❣️❣️

مرحبا صد مرحبا میلاد کا موسم آیا ہے۔
-Hafiz Muhammad Shahid Fida

"فضائل معاویہ میں بکثرت روایات وارد مکر

"فضائل معاویہ میں بکثرت روایات وارد،مکر
ان میں کوئی روایت ایسی نہیں جس کی سند صحیح ہو۔"حافظ ابن حجر عسقلانی رح
یہی قول ' امام اسحاق بن راھویہ رح ' ، ' امام نسائی رح '  اور دیگر جلیل القدر علمائے حدیث و محقیقین کا قطعی قول بھی ہے۔
فتح الباری: جلد 7، ص 476
وط:جلد 7، ص 121
وط: جلد 8، ص 473

حضرت علی کرم۔۔۔ سے معاویہ کا بغض و کینہ

حضرت علی کرم۔۔۔ سے معاویہ کا بغض و کینہ

کتاب المفید بالمعجم رجال الحدیث میں جواہری نے لکھا ہے:
عبد الله بن عباس من اصحاب رسول الله و علی و الحسن و الحسین روی فی تفسیر القمی عن رسول الله جلیل القدر مدافع عن أمیر المؤمنین و الحسنین و الروایاة الدالة علی مدحه مستفیضة روایاة ذامة انما وضعت لانه موالی لأمیر المؤمنین حتی أن معاویة لعنه الله کان یلعنه بعد الصلاة مع لعنه علیا و الحسنین و قیس و الأشتر،
۔۔۔۔۔ معاویہ نماز کے بعد حضرت علی کرم۔۔۔اور حضرات حسنین کریمین ع  کو لعنت کرتا تھا۔

بالکل یہی عبارت ابن اثیر کی کتاب میں بھی ہے۔
الکامل فی التاریخ، المؤلف: أبو الحسن علی بن أبی الکرم، عز الدین ابن الأثیر ج 2، ص 684، باب ذکر تتمة أمر صفین

صحیح مسلم میں ہے کہ معاویہ نے واضح طور پر سعد ابن ابی وقاص رض سے کہا کہ تم ابو تراب کو لعنت کیوں نہیں کرتے ؟!

ما مَنَعَكَ ان تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ ،
کیا چیز تم کو ابو تراب پر لعنت کرنے سے منع کرتی ہے۔۔۔۔۔

صحيح مسلم، اسم المؤلف: مسلم بن الحجاج أبو الحسين القشيري النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي؛ ج4، ص 1871 ح2404

اسی طرح کتاب معجم البلدان میں حموی نے اس بارے میں سخت الفاظ لکھے ہیں:
لُعِن علی بن أبی طالب رضی الله عنه علی منابر الشرق والغرب ولم یعلن علی منبرها إلا مرة ، وهو یُلعَن علی مَنابر الحرمین مکة والمدینة،

علی ابن ابی طالب کرم۔۔۔پر مشرق و مغرب کے منبروں پر لعنت کی جاتی تھی، حتی کہ مکے اور مدینے کے منبروں پر بھی ان پر لعنت کی جاتی تھی۔

معجم البلدان، اسم المؤلف: یاقوت بن عبد الله الحموی أبو عبد الله، ج 3، ص 191، باب السین والجیم وما یلیهما

حالانکہ رسول اللہ ص نے فرمایا:
مَنْ سَبَّ عَلِیاً فَقَدْ سَبَّنِی،
جو علی کو گالی دے گا، اس نے مجھے گالی دی۔

مسند الإمام أحمد بن حنبل، اسم المؤلف: أحمد بن حنبل أبو عبدالله الشيباني،– مصر؛ ج6، ص 323، ح 26791
المستدرك على الصحيحين، اسم المؤلف: محمد بن عبدالله أبو عبدالله الحاكم النيسابوري، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا؛ ج3، ص 130، ح4615 -منقول

امام زید ابن امام علی زین العابدین عیلہماالسلام

امام زید ابن امام علی زین العابدین عیلہماالسلام

( ۲۱ ویں اور آخری قسط )

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پوشیدہ طور پر فتوی دیتے تھے 
کہ امام زید علیہ السلام کی مدد کرنا واجب ہے
ان کی مالی امداد کرنا واجب ہے
اور ان کے ساتھ اس شخص کے خلاف خروج کرنا واجب ہے  جو 
دزد ( نیم شب اور قزاق نصف النہار ) ہے اور حکومت پر بزور قابض ہو گیا ہے نیز بطور نام امام و خلیفہ ہے

ایک عورت نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا ! 
آپ نے امام ابراھیم اور امام محمد نفس زکیہ ( ابنا عبداللہ المحض ابن حسن ابن حسن ابن علی ابن ابی طالب علیہم السلام ) کے ساتھ خروج کا میرے بیٹے کو حکم دیا حتی کہ وہ شہید ہو گیا ، اس پر امام اعظم ابوحنیفہ نے فرمایا ! کاش ! تمہارے بیٹے کی جگہ میں ( شہید ) ہوتا 
آپ عباسی خلیفہ منصور اور اس کے امثال کے متعلق فرماتے تھے ! 
اگر یہ لوگ تعمیر مسجد کا ارادہ کریں اور اس کی اینٹ کا تخمینہ کی مجھے ترغیب دیں ، تو یقیناً میں ( اس کام کو ) نہیں کروں گا ( ۵۰ )

خلیفہ ابوجعفر منصور نے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ سے بغداد منتقل کرکے آپ کو عہدۂ قضا دینا چاہا ، لیکن آپ نے لینے سے انکار کردیا ، اس پر منصور نے قسم کھائی کہ آپ کو بالضرور ( عہدۂ قضا ) قبول کرنا ہے ، پھر امام اعظم ابو حنیفہ نے بھی قسم کھائی کہ میں ( عہدۂ قضا ) قبول نہیں کروں گا ،  تو امام ابو حنیفہ کے دربان رفیع ابن یونس نے آپ سے کہا ! کیا آپ غور نہیں کرتے  ؟ کہ امیرالمومنین ( منصور ) قسم کھا رہا ہے !!
امام ابو حنیفہ نے ( جواب میں ) فرمایا ! امیرالمؤمنین اپنی قسم کا کفارہ ( ادا کرنے ) پر مجھ سے زیادہ قادر ہے ،
پس منصور نے آپ کو قید کرنے کا آرڈر جاری کردیا ، پھر بھی آپ نے عہدۂ قضا قبول نہیں کیا ، اس پر منصور نے آپ کو سو کوڑے مارے اور آپ محبوس رہے حتی کہ جیل ہی میں انتقال ہو گیا ( ۵۱ )

( یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ) امام اعظم ابو حنیفہ  ، امام محمد نفس زکیہ ابن عبداللہ المحض ابن حسن ابن حسن ابن علی ابن ابی طالب علیہم السلام سے بیعت تھے اور آپ کے پیروان ( خاص ) میں تھے حتی کہ خلیفہ عباسی منصور کو یہ خبر ہوئی تو اس نے آپ کو ہمیشہ کے لئے قید خانہ میں ڈال دیا اور جیل ہی میں آپ کی وفات ہوئی

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ نے منصور کے ایام خلافت میں امام محمد نفس زکیہ سے بیعت کی اور مدینہ طیبہ میں امام محمد نفس زکیہ جب شہید ہو گئے ، تو اہل بیت کرام سے موالات کا عقیدہ رکھتے ہوے  آپ کی بیعت پر قائم و دائم رہے ، آپ کی ( اہل بیت سے ) یہ کیفیت شیفتگی  منصور کو پہونچی تو اس نے آپ کا کام تمام کردیا ( ۵۲ )

اور کہا گیا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ منصور نے آپ کو زہر دیا ، جس کی وجہ سے آپ کی شہادت واقع ہوئی ، 
آپ ابراہیم ابن عبداللہ المحض ابن حسن ابن حسن ابن علی ابن ابی طالب علیہم السلام کے ساتھ ( ڈٹ کر ) کھڑے رہے ، اس وجہ سے منصور نے آپ کو زہر دے دیا ( ۵۳ )

حافظ ابوالحسن ابن حسین السختیانی الشافعی  ،  ابو حسان الزیادی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا ! کہ امام اعظم ابو حیفہ علیہ الرحمہ و الرضوان کو جب موت کا احساس ہوا ، تو اپنی جبین نیاز سجدہ میں رکھ دی  اور حالت سجدہ ہی میں آپ کی روح   قالب خاکی سے پرواز کر گئی ( ۵۴ )

نوٹ:۔۔ عہدۂ قضا تو اک بہانہ تھا ، آپ کی شہادت کی بنیادی وجہ تو آل النبی سے آپ  کی والہانہ اور فدائیانہ محبت تھی۔ ( سلام اللہ علیہم )

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے شیوخ اہل بیت   مذکور الذیل ہیں۔ 

( ۱ ) محمد الباقر ابن علی زین العابدین ابن حسین ابن علی ابن ابی طالب
( ۲ ) زید ابن علی ابن علی زین العابدین ابن حسین ابن علی ابن ابی طالب
( ۳ ) جعفر الصادق ابن محمد الباقر ابن علی زین العابدین ابن حسین ابن علی ابن ابی طالب
( ۴ ) حسن ابن حسن ابن حسن ابن علی ابن ابی طالب
( ۵ ) عبداللہ المحض ابن حسن ابن حسن ابن علی ابن ابی طالب
( ۶ ) عبداللہ ابن علی زین العابدین ابن حسین ابن علی ابن ابی طالب
( ۷ ) حسن ابن زید ابن حسن ابن علی ابن ابی طالب ، ابو محمد المدنی
( ۸ ) حسن ابن محمد ابن علی  ابن ابی طالب الھاشمی المدنی ، ابو محمد ، وابوہ   ھو ابن الحنفیہ۔ ( علیہم السلام )

( ۵۰ ) نور الابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار للشیخ السید مؤمن ابن حسن مؤمن الشبلنجی ص ۴۳۲
( ۵۱ ) نور الابصار ص ۴۳۱
( ۵۲ ) الملل و النحل للامام ابی الفتح محمد بن عبدالکریم الشھرستانی المتوفی ۵۴۷ھ ص ۱۵۷
( ۵۳ ) مرات الجنان و عبرت الیقظان للامام ابی محمد عبداللہ بن اسعد بن علی بن سلیمان الیافعی الیمنی المکی المتوفی ۷۶۸ھ ج ۱ ص ۲۴۲
( ۵۴ ) مناقب الامام الاعظم رضی اللہ عنہ للامام الشیخ حافظ الدین محمد بن محمد بن شھاب المعروف بابن البزاز الکردری الحنفی المتوفی ۸۲۷ھ ج ۲ ص ۲۲محتاعبدالعزیز ندو@ منقول

معاویہ کی حقیقت حدیث کی کتابوں میں

معاویہ کی حقیقت حدیث کی کتابوں میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
1-🔘سفینہ رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ بنوامیہ کا شمار بدترین بادشاہوں میں ہے۔
Jam-e-Tirmizi #2226, dawod 4646
2-🔘آپکےچچاکےبیٹےمعاویہ توہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم آپس میں ایک دوسرےکےمال حرام طریقےسےکھائےاورآپس میں ایک دوسرے کو قتل کریں یہ سن کرعبدﷲبن عمروبن العاصؓ تھوڑی دیرتک چپ رہےپھرکہا معاویہ کی اطاعت کرواس کام میں جوﷲکےحکم کے موافق ہواورجوکامﷲتعالیٰ کےحکم کےخلاف ہواس میں معاویہ کاکہنانہ مانو۔
Sahih Muslim #4776
3-🔘حنظلہ کہتےہیں میں معاویہ کےپاس موجودتھاکہ انکےہاں دوآدمی آئےوہ دونوں عمارؓ کےسرکےبارےمیں جھگڑرہےتھےان میں سےہر ایک کہتاتھاکہ اس نےعمارؓکوقتل کیاہےعبداللہ بن عمروبن العاصؓ نےکہابہترہےکہ تم میں سے ایک یہ بات اپنےساتھی کےبارےمیں بخوشی تسلیم کرلےکیونکہ میں نےرسول اللہﷺ‌کو فرماتےسناہےکہ ایک باغی گروہ عمارؓکوقتل کرےگامعاویہ نےکہااگریہ بات ہےتوتم ہمارے ساتھ کیوں ملےہوئےہو؟انہوں نےکہا:میرےوالدنے رسول اللہﷺکےپاس جاکرمیری شکایت کردی تھی توآپﷺنےمجھےیہ حکم دیاتھاکہ تمہاراوالدجب تک زندہ ہےانکی بات ماننااوران کی نافرمانی نہ کرنااس لیےمیں تمہارےساتھ توہوں مگرلڑائی میں شامل نہیں ہوتا۔
Musnad-e-Ahmad #12350
4-🔘رسول اللہﷺ نےفرمایا،افسوس! عمارؓ کو ایک باغی جماعت قتل کرےگی جسےعمارؓ جنت کی دعوت دیں گےاور وہ جماعت عمارؓ کو جہنم کی دعوت دےرہی ہوگی۔
Sahih Bukhari #447
5-🔘معاویہ نےمقدام ؓ سےکہاکیاآپ کوخبرہےکہ حسن ؓ کاانتقال ہوگیامقدام ؓ نےیہ سن کر «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھاتومعاویہ نےکہاکیاآپ اسےکوئی مصیبت سمجھتےہیں توانہوں نےکہا میں اسےمصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہﷺ نےانہیں اپنی گودمیں بٹھایااورفرمایایہ میرےمشابہ ہےاور حسین علی کے۔ یہ سن کر اسدی نےکہاایک انگارہ تھاجسےاللہ نےبجھادیا تومقدام ؓنےکہاآج میں معاویہ کوناپسندیدہ بات سنائےاورناراض کئےبغیرنہیں رہ سکتاپھرمقدام ؓنےکہامعاویہ! اگرمیں سچ کہوں تومیری تصدیق کریں اوراگرمیں جھوٹ کہوں توجھٹلا دیں معاویہ بولےمیں ایساہی کروںگامقدام ؓنےکہاکہ رسول اللہﷺنےسوناپہننےسےمنع فرمایاہے معاویہ نےکہاہاں پھرکہاکہ رسول اللہﷺ نے ریشمی کپڑاپہننےسےمنع فرمایاہےکہاہاں معلوم ہےپھرکہاکہ رسول اللہﷺنےدرندوں کی کھال پہننےاوراس پرسوارہونےسےمنع فرمایاہےکہاہاں معلوم ہےتومقدام ؓنےکہامعاویہ!قسم اللہ کی میں یہ ساری چیزیں آپکےگھرمیں دیکھ رہاہوں۔
Sunnan Abu Dawood #4131
6-🔘سیدناعلی ؓ نےکہااس ذات کی قسم جسنے دانےکوپھاڑااورروح کوتخلیق کیا! نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےمجھےبتادیاتھاکہ میرے ساتھ مومن کےسواکوئی محبت نہیں کرےگااور منافق کےسواکوئی بغض نہیں رکھےگا۔
Sahih Muslim #240
7-🔘سعیدبن جبیربیان کرتےہیں کہ میں ابن عباس ؓ کےساتھ عرفات میں تھاوہ فرمانےلگے کیاوجہ ہےکہ میں لوگوں کولبیک پکارتےنہیں سنتامیں نےکہالوگ معاویہ سےڈرتےہیں ابن عباس ؓ اپنےخیمےسےنکلےاوربلندآوازسے پکارا:’’لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ‘‘ تعجب ہےکہ انھوں نےسیدناعلیؓ سےبغض رکھنےکی وجہ سےرسول اللہﷺ کی سنت چھوڑدی ہے۔
Sunnan Nisai #3009
8-🔘معاویہ نےسعدبن ابی وقاص ؓ کوحکم دیا کہاآپکواس سےکیاچیزروکتی ہےکہ آپ ابوتراب (سیدناعلیؓ)کوبراکہیں انھوں نےجواب دیاجب تک مجھےوہ تین باتیں یادہیں جورسول اللہﷺ نےسیدناعلیؓ سےکہی تھیں میں ہرگزانھیں برا نہیں کہوں گامیں نےرسول اللہﷺسےسناتھاآپ ان سےکہہ رہےتھےجب آپ ایک جنگ میں ان کو پیچھےچھوڑکرجارہےتھےاورعلی ؓ نےان سےکہا تھااللہ کےرسول آپ مجھےعورتوں اوربچوں میں پیچھےچھوڑکرجارہےہیں تورسول اللہﷺنے ان سےفرمایاتمھیں یہ پسندنہیں کہ تمھارامیرے ساتھ وہی مقام ہوجوہارون علیہالسلام کاموسیٰ علیہالسلام کےساتھ تھامگریہ کہ میرےبعدنبوت نہیں ہےاسی طرح خیبرکےدن میں نےآپﷺکویہ کہتےہوئےسناتھااب میں جھنڈااس شخص کو دوں گاجواللہ اوراسکےرسول سےمحبت کرتا ہے اوراللہ اوراسکارسول اس سےمحبت کرتےہیں کہاپھرہم نےاس بات کےلئےاپنی گردنیں اٹھااٹھا کرہرطرف دیکھاتورسول اللہﷺنےفرمایاعلی ؓ کومیرےپاس بلاؤانھیں شدیدآشوب چشم کی حالت میں لایاگیاآپ نےانکی آنکھوں میں اپنالعاب دہن لگایااورجھنڈاانھیں عطافرمادیا اللہ نےانکے ہاتھ پرخیبرفتح کردیااورجب یہ آیت اتری توآپ کہہ دیں آؤہم اپنےبیٹوں اورتمھارےبیٹوں کو بلالیں تورسول اللہﷺ نےعلیؓ،فاطمہ ؓ،حسن ؓ اور حسین ؓ کوبلایااورفرمایااےاللہ! یہ میرےگھروالے ہیں ۔
Sahih Muslim #6220
9-🔘مدینہ میں ابن مروان نےسیدناسہل ؓ کو بلایااورسیدناعلی ؓ کوگالی دینےکاحکم دیا سہل ؓ نےانکارکیاتووہ بولاکہ اگرتوگالی دینےسےانکار کرتاہےتوکہہ کہ ابوتراب پراللہ کی لعنت ہو۔
Sahih Muslim #6229
10-🔘معاویہ نےعلی ؓ کونامناسب الفاظ سےیادکیاتو سعد ؓ ناراض ہو گئےاور بولےآپ ایسااس شخص کی شان میں کہتے ہیں جسکے بارے میں میںنےرسول اللہﷺ کو فرماتے سنا جسکامولیٰ میں ہوں علی اسکےمولیٰ ہیں۔
Sunnan Ibn-e-Maja #121
11-🔘رسول اللہﷺ نےابن عباس ؓسےفرمایا جاؤمیرے لیے معاویہ کو بلا لاؤمیں نےآپ سے آکرکہاوہ کھاناکھارہے ہیں۔آپ نےدوبارہ مجھ سے فرمایاجاؤمعاویہ کوبلالاؤ۔میں نے پھر آکر کہاوہ کھاناکھارہے ہیں تو آپﷺ نےفرمایا: اللہ معاویہ کا پیٹ نہ بھرے۔
Sahih Muslim #6628
منقول

حسن بصری رح معاویہ کے بارے میں فرماتے ہیں:-

 حسن بصری رح معاویہ کے بارے میں فرماتے ہیں:-
معاویہ میں ایسی چار خصلتیں ہیں کہ ان میں ہر ایک معاویہ کی ہلاکت کیلئے کافی ہے :-
پہلی:- کسی سے مشورے کے بغیر تلوار کے زور پر مسلمانوں کی گردنوں پر سوار ہو جانا جبکہ اس سے با فضیلت صحابہ موجود تھے۔
دوسری:- اپنے دائم الخمر بیٹے کو جانشین بنانا کہ جو ہمیشہ ریشم پہنتا اور تنبورے میں مشغول رہتا تھا۔
تیسری:- زیاد کو اپنا بھائی بنانا، جبکہ رسول خدا (ص) نے فرمایا :-
الولد للفراش و للعاہر الحجر،
بیٹا صاحب بستر کا ہے اور زنا کار کیلئے صرف پتھر ہیں۔
چوتھی: حجر  بن عدی رض کا قتل،
اس وقت دو مرتبہ کہا : ہائے افسوس ! ! حجر اور اس کے ساتھیوں پر۔
ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ، ج 3، ص 487
الطبری، تاریخ الطبری، ج 4، ص
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت حسن بصری رح کہا کرتے تھے کہ معاویہ میں چار خصلتیں ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے اس میں ایک ہی ہوتی تو بھی تباہی کے لیے کافی تھی:
امت کے دنیا طلب جہّال کو ساتھ ملا کر اقتدار پر قبضہ کیا جبکہ اس وقت صاحب علم و فضل صحابہ موجود تھے۔
اپنے شرابی بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا جو کہ ریشم پہنتا تھا اور طنبورہ بجاتا تھا۔
زیاد کو اپنا بھائی بنایا، جبکہ رسول خدا (ص) کا فرمان ہے کہ بچہ اس کا ہے کہ جسکے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔
حضرت حجر ابن عدی رض اور ان کے ساتھیوں کو ناحق قتل کرنا۔
الفتنتہ الکبری، علی وبنوہ ص 248
الکامل فی التاریخ ج 3 ص 259-منقول



جہنم کے کتوں کا فتویٰ اور معاویہ

جہنم کے کتوں کا فتویٰ اور معاویہ
آپ ! مولائے کائنات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ،حضرت حسن بصری رح،حضرت امام اسحاق بن راھویہ رح ، حضرت حافظ  ابن حجر عسقلانی رح، حضرت امام نسائی رح پہ جہنم کے کتوں کا فتویٰ (نعوذباللہ) لگاؤ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

نوسنی نوناصبی علما کی مشترکہ منافقت ،صدیق اور صدیق اکبر کون ؟

صدیق اور صدیق اکبر ابوالحامدپیرمحمدامیرسلطان چشتی ہاشمی قادری حضرت ابو بکر صدیق کے لئے*"صدیق اکبر" کا لقب: صحابہ سے تبع تابعین ت...