Tuesday, January 13, 2026

آپ ح فرماتے ہیں : میری شفاعت قیامت کے روز حق ہے، جو اس پر ایمان نہیں لائے گا،وہ اس کا حقدار بھی نہیں ہوگا


786/92
1) آپ ص نے فرمایا: میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کے لئے ہے، جو کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہیں۔ مسند أحمد بن حنبل۔
2) آپ ص نے فرمایا : جس مسلمان کے جنازے میں چالیس مسلمان نماز کے لئے کھڑے ہوں، اللہ تعلی اس کے حق میں ان کی شفاعت قبول فرمائے گا۔صحیح مسلم، کتاب الجنائز؛ ابو داؤد ،ابن ماجہ
3) میں(آپ ص ) روز قیامت تمام انبیاء ع کا امام ہوں گا اور ان  کا خطیب اور ان کی شفاعت کا مالک ہوں اور یہ بات میں کچھ فخریہ نہیں کہتا ۔ جامع ترمزی،ابواب الجنائز ؛ ابن ماہ؛ احمد اور حاکم نے حضرت ابی بن کعب کی روایت سے صحیح سندوں کے ساتھ بیان کیا۔
4 ) آپ ص فرماتے ہیں: شفاعت اعطیت الشفعۃ)مجھے عطا فرما دی شئی ہے۔ بخاری،مسلم، نسائی نے جبر بن عبد اللہ سے روایت کیا ہے۔
5)آپ ح فرماتے ہیں : میری شفاعت قیامت کے روز حق ہے، جو اس پر ایمان نہیں لائے گا،وہ اس کا حقدار بھی نہیں ہوگا۔ ابن منیع نے جامع صغیری میں حضرت زید بن ارقم اور 13 صحابہ کرام رض سے روایت کیا ہے۔

No comments:

Post a Comment

نوسنی نوناصبی علما کی مشترکہ منافقت ،صدیق اور صدیق اکبر کون ؟

صدیق اور صدیق اکبر ابوالحامدپیرمحمدامیرسلطان چشتی ہاشمی قادری حضرت ابو بکر صدیق کے لئے*"صدیق اکبر" کا لقب: صحابہ سے تبع تابعین ت...