کیا حضرت عمرؓ داماد مولا علی علیہ السلام ہیں؟
- تاریخ کہتی ہے کہ جب حضرت عمرؓ ابن خطاب اسلام لائے تو ان کی عمر چالیس 40 برس تھی اور ترسٹھ 63 برس کی عمر میں عمر ابن خطاب کا قتل ہو گیا ۔
2- تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ دعوتِ ذولعشیرہ یعنی اسلام کی پہلی دعوت کے وقت امام علی کی عمر مبارک 9 برس تھی ۔
3- تمام شیعہ سنی مورخین کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ امام علی کا جناب ِ فاطمہ زہرا سے نکاح 25 برس کی عمر میں ہوا۔۔ یعنی دعوت ذولعشیرہ کے 16 برس بعد۔
4- یعنی عمر بن خطاب ، دعوت ذولعشیرہ کے 7 سال بعد اسلام لائے ، یعنی جب اس نے کلمہ پڑھا تو اس وقت امام علی ؑ کی عمر مبارک 16 برس تھی ۔
5- حضرت عمر کے اسلام لانے کے 9 برس بعد امام علی کا نکاح بحکم خدا جنابِ زہرا سے ہوا یعنی 25 سال کی عمر میں ۔یعنی جب امام علیؑ کی شادی ہوئی تب عمر ابن خطاب 49 برس کے تھے ( 40+9=49 برس )
6- تمام مورخین نے یہ بھی لکھا کہ امام علیؑ کی شادی کے ایک سال بعد امام حسن ؑ کی ولادت با سعادت ہوئی اور 2 برس بعد امام حسین ؑ دنیا میں تشریف لائے اور پھر 4برس بعد سیدہ زینب ؑکی ولادت باسعادت ہوئی ۔ ٹھیک!
7- اہل سنت مورخین کے مطابق جناب ِ ام کلثوم بنت امام علی ؑ ، جناب زینب ؑکے 2 سال بعد پیدا ہوئیں ۔
8- تو بی بی ام کلثوم کی پیدا ئش پر عمر بن خطاب کی عمر55 برس تھی (55=6+49)
9- جناب ِ ام کلثوم کی ولادت کے ٹھیک 8 سال بعد حضرت عمر قتل ہو گئے یعنی 63 سال کی عمر میں (8=55-63)
اب تتیجہ نکالتے ہیں ۔۔
اہل سنت تاریخ دانوں کے مطابق عقد ام کلثوم
حضرت عمر کے قتل سے 3 سال پہلے ہوا اور سب نے یہ بھی لکھا کہ اس مبینہ نکاح سے عمر کے ہاں ام کلثوم سے ایک بیٹا بھی پیدا ہوا جس کا نام زید بن عمر تھا ۔
یعنی شادی کے وقت ام کلثوم کی عمر 5 برس ہوئی (5=3-8)
لو جی افسانہ عقد ام کلثوم کے موجودہ باراتیوں کا تو جنازہ ہی نکل گیا ۔۔ ذرا باراتی مجھے بتائیں گے کہ کس عقلی اور منطقی قانون کے تحت 5 برس کی عمر میں کسی بچی کی شادی بھی ہو جائے اور اس سے ایک بچہ بھی پیدا ہوجا ئے ۔۔ ؟؟؟ ہاہاہاہاہاہاہا
لعنت الله علی الکاذبین ۔۔۔ خدا کی لعنت ہو جھوٹوں پر ۔۔ بے شمار۔۔ اب آپ لوگ بتائیں کیا ایسا نہیں ہے
ابھی آپ لوگ بتائے
No comments:
Post a Comment