Wednesday, January 14, 2026

My comments دردمند کے کام آ کسی ڈوبتے کو اچھال دے

My comments
کسی دردمند کے کام آ کسی ڈوبتے کو اچھال دے
شعر --نا معلوم
کسی دردمند کے کام آ کسی ڈوبتے کو اچھال دے

یہ نگاہ مست کی مستیاں کسی بد نصیب پہ ڈال دے
مجھے مسجدوں کی خبر نہیں مجھے مندروں کا پتہ نہیں

مری عاجزی کو قبول کر مجھے اور درد و ملال دے
یہ میکشی کا غرور ہے یہ میرے دل کا سرور ہے

میرے مے کدہ کو دوام ہو میرے ساقیوں کو جمال دے
میں ترے وصال کو کیا کروں میری وحشتوں کی یہ موت ہے

ہو ترا جنوں مجھے پر عطا مجھے جنتوں سے نکال دے


قرآن کی آیتوں کے معانی و مفاہیم سے کھلواڑ کرنا علماء کا شغل رہا ہے۔خاص طور سے ناصبیوں کا۔ پس ناصبی علماء کے ذریعے کیا گیا کوئی ترجمہ یا تفسیر پیشگوئی دلائل نبوت فرمان رسول ص کی ہوا کو بھی نہیں چھو سکتی۔

دو. آپ نے پڑھی یا نہیں،معلوم نہیں، اس آیت کے یہ معنی صحابہ اکرام نہیں لیتے تھے۔ وہ خدا کے اپنے کلام میں استعمال کئے گئے لفظ " فتح " کا اطلاق صلح حدیبیہ پہ کرتے تھے۔ یہ معانی طلقاء اور مانگ مانگ کے مال کھانے والوں(ناصبیوں) نے اس آیت کو پہنائے ہیں۔ اور اب بعض مولویوں نے اپنی طرف سے ترجموں میں ہی یہ لفظ" مکہ" از خود داخل کر لیا ہے۔ حالانکہ ایک صحابی کی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی طرف سے گواہی موجود ہے۔صحابی رسول ص کی اس گواہی کو تلاش کیجئے۔

تین.آپ نے مولویوں سے یہ روایت آدھی ادھوری ہی سہی لازما سنی ہوگی کہ، ۔۔۔۔۔۔۔ میرے صحابہ کو برا مت کہو۔۔۔۔۔مولوی آپ ص کے ان الفاظ سے پہلے اور بعد کے الفاظ پہ ڈاکہ ڈالا لیتے ہیں۔ یہ فرمان رسول ص بھی تلاش کرکے پورا پڑھئے اور پورے کو سمجھئے اور پورے کے پورے سے برآمد ہو رہے معانی و مفاہیم کو قبول کیجئے۔




ماشاء اللہ، آپ نے اپنے تجربے اور مشاہدے سے صحیح نتائج اخذ کئے ہیں۔
ہمیں چاہئے کہ ہم کسی بھی مسئلے کو نہ صرف حال میں نہ دیکھیں اور نہ فقط پیدا ہونے کے وقت تک بلکہ اس سے بھی ایک دو چار صدی پیچھے جا کر اس کے پیدا ہونے کی وجوہات تلاش کریں یعنی تاریخ  میں جائیں۔
مثلا، جنوبی ایشیاء میں چاروں فقہی ائمہ آئے نہ ان کے شاگرد و شاگردوں کے شاگرد آئے ۔ پھر ہمارے ہزار بارہ سو سال قبل اولین مسلمان ہوئے آبا و اجداد کیسے اور کیوں اہل سنت و الجماعت کا ایک حصہ یعنی سنی بنے اور ہم آج سنی کیوں ہیں ؟
پھر ہمیں تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ چاروں سنی فرقوں کے ماننے والے صدیوں تک نہ صرف ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہے بلکہ ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے رہے۔ مثلا، رے اور مرو میں چھ 6 اور ساٹھ ہزار 60,000 دو سنی فرقوں کے ماننے والوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا، کیوں اور کب کب ؟
اسی طرح امام ماتریدی اور اشعری یا ان کے شاگرد بھی ہمارے آبا و اجداد کو اپنے عقائد بتانے نہیں آئے، تو وہ ( ہمارے آبا و اجداد اور اب ہم ) ماتریدی عفائد کو کیوں ؟ ماننے لگے۔

اسی طرح نہ صرف دیگر تین بلکہ امام اعظم یا ان کے شاگرد اور ان کے شاگردوں کے شاگرد بھی یہاں ( جنوبی ایشیاء میں) نہیں آئے تو ہمارے آبا و اجداد حنفی ہی کیوں ہوئے ؟ کیوں کہ ہم تو اسی لئے حنفی ہیں کہ ہمارے آبا و اجداد سنی حنفی (ماتریدی) تھے۔
اور سب سے اہم یہ کہ ہمارے آبا و اجداد کس اور کن کے سچا ہونے پہ ایمان لاکر اسلام میں داخل ہوئے تھے ؟
آگے سوالوں کا طویل سلسلہ ہے۔ جو تاریخ کے صحیح مطالعے اور اس سے صحیح نتائج اخذ کرنے سے حل ہوتے ہیں۔



Those who are on a journey to reach God by walking on the path of their choice, do not provoke them to turn back from there ! It is the right of every person to follow whichever path he wants. No prophet has ever taken away this right from anyone. Because this is the basic and most important right given by God to every person.



حق خود نہیں چھپ گیا، نہ چھپتا ہے۔ دانستہ 4 سو سال سے بہت سے حقائق چھپائے گئے/جا رہے ہیں۔ احادیث چھپائی گئیں، قرآن کے ترجموں میں اپنی ضرورت کے مطابق آیتوں کے معانی بدل دئے گئے۔ یہاں تک کہ 4 ساڑھے 4 سو سال قدیم #مدارج_النبوت ص جیسی سیرت رسول ص کی کتابوں کے ترجمے کرکے باب کے باب اڑا دیئے گئے۔ احادیث کی مثال : #حدیث_ثقلین۔ آیتوں کے ترجموں کا تقابل شیخ سعدی رح کے عرب دنیا ( اب 30 کروڑ ) کے علاوہ پوری ایشیائی مسلم دنیا ( اب 125 کروڑ ) میں 7 ساڑھے 7 سو سال مقبول و معروف و مشہور  و رائج رہے فارسی ترجمے سے کر لیجئے اور 16ویں/ 17ویں/ 18ویں/ 19ویں صدی کی مداج النبوت ص فارسی کا موازنہ موجودہ دور کے اردو ترجموں سے کر لیجئے‌۔

آپ کو جو دین محمدی ص بتا کر پروسا جا رہا ہے، دین محمدی نہیں، دین اموی ہے۔ دو سو سال سے ہر پچیس پچاس سال بعد حجروں میں بیٹھ کے گھڑے گئے ہر مسلک و فرقے کے بیشتر عالم دین و اسلامی اسکالرز یہی کر رہے ہیں۔



دیوبندیوں نے ، باقاعدہ طور پہ بر صغیر میں یتیموں،بیواؤں،مسافروں وغیرہ کے حق ذکات سے چلنے والا مدرسہ 1867ء میں قائم کرکے۔ ان کے مکار ہونے کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ یہ دوسروں کے مال( حقوق) کھا کھا  کر ( اپنی دانش میں ) علم ( مکاری) حاصل کرتے ہیں. ویسے، اس نظریے (پروفیشن)کی پہلی اینٹ چار سو سال قبل رکھی گئی تھی۔ پھر یہ سو سوا سو سال تک اندر خانے دھیرے دھیرے امت محمدیہ کو تقسیم کرتے رہے۔ بعد از تین سو سال پہلے کچھ کھل کے نمودار ہوئے اور دہلی میں ایک پورا گھرانہ اس پروفیشن کا بانی مبانی بن گیا۔ مگر چونکہ اس زمانے میں بڑی اکثریت اہل سنت و الجماعت کی تھی اور وہ بھی خود کو اہل سنت والجماعت ہی بتاتے دکھاتے تھے سو اس گھرانے پہ کسی نے کوئی خاص اعتراض نہ کیا لیکن پھر اس گھرانے کی تیسری پشت کے مولوی اسماعیل دہلوی نے ابن وہاب ناصبی کے نظریات و افکار بر صغیر میں لاکر بر صغیر کے مسلمانوں کا دین اور مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کے لئے کتابیں لکھیں۔ یہی کتابیں بر صغیر میں دین محمدیہ و امت محمدیہ کو تقسیم در تقسیم کرنے کی باقاعدہ و مجتمع طور پہ دیوبندی ناصبی فرقہ بننے کی تحریری بنیاد و اصل ہیں اور ہر نیا فرقہ بننے کی بھی۔

انہوں نے ان دو تین سو سال میں دین محمدیہ اور امت محمدیہ ہندیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور اپنے مخالف نظریات کے مولویوں کو ٹکڑے کرنے کا راستہ دکھانے کے علاوہ کوئی مثبت کام نہیں کیا۔ تب سے اب تک ان کے اور ان کے اس نقش قدم پہ چلنے والوں کے ذریعے ہر اٹھائے گئے قدم سے امت مزید ٹکڑوں میں بٹتی چالی جا رہی ہے۔






آپ کو پتہ ہے، نہیں ہے تو کیجئے ! جب سے باقاعدہ طور پہ بر صغیر میں اسلام آیا یعنی کم و بیش 1200 بارہ سو سال قبل، سے لے کر 400 سو سال پہلے تک بر صغیر میں دوسری کوئی تو چھوڑئے، صحیحہ ستہ میں سے بھی کوئی حدیث کی کتاب بر صغیر میں وارد نہیں ہوئی تھی۔ نہ کوئی عالم لایا نہ صوفی ، نہ بادشاہ نہ نواب ، نہ ذمیدار نہ تاجر !!!!! کیوں ؟
وجوہات آپ خود تحقیق کر کے تلاش کیجئے !
ان آٹھ سو 800 سال میں بر صغیر میں مسلمان اور اسلام تھا یا نہیں ؟
مسلمان نمازیں پڑھتے تھے یا نہیں ؟
روزے رکھتے تھے یا نہیں ؟
ذکات دیتے تھے یا نہیں ؟
حج کرتے تھے یا نہیں ؟
قرآن پڑھتے تھے یا نہیں ؟
ان کے ہم وطن قوم سے تعلقات آج کے مسلمانوں کے مقابلے اچھے تھے یا برے ؟
اس وقت کے مسلمان آج کے مسلمانوں سے اخلاقی طور پر اچھے تھے یا برے ؟
جھوٹ بولنے، وعدہ وفا کرنے میں بنسبت آج کے مسلمانوں سے اچھے تھے یا برے ؟
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔






دیوبندیوں نے ، باقاعدہ طور پہ بر صغیر میں یتیموں،بیواؤں،مسافروں وغیرہ کے حق ذکات سے چلنے والا مدرسہ 1867ء میں قائم کرکے۔ ان کے مکار ہونے کی اصل وجہ بھی یہی ہے کہ یہ دوسروں کے مال( حقوق) کھا کھا  کر ( اپنی دانش میں ) علم ( مکاری) حاصل کرتے ہیں. ویسے، اس نظریے (پروفیشن)کی پہلی اینٹ چار سو سال قبل رکھی گئی تھی۔ پھر یہ سو سوا سو سال تک اندر خانے دھیرے دھیرے امت محمدیہ کو تقسیم کرتے رہے۔ بعد از تین سو سال پہلے کچھ کھل کے نمودار ہوئے اور دہلی میں ایک پورا گھرانہ اس پروفیشن کا بانی مبانی بن گیا۔ مگر چونکہ اس زمانے میں بڑی اکثریت اہل سنت و الجماعت کی تھی اور وہ بھی خود کو اہل سنت والجماعت ہی بتاتے دکھاتے تھے سو اس گھرانے پہ کسی نے کوئی خاص اعتراض نہ کیا لیکن پھر اس گھرانے کی تیسری پشت کے مولوی اسماعیل دہلوی نے ابن وہاب ناصبی کے نظریات و افکار بر صغیر میں لاکر بر صغیر کے مسلمانوں کا دین اور مسلمانوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کے لئے کتابیں لکھیں۔ یہی کتابیں بر صغیر میں دین محمدیہ و امت محمدیہ کو تقسیم در تقسیم کرنے کی باقاعدہ و مجتمع طور پہ دیوبندی ناصبی فرقہ بننے کی تحریری بنیاد و اصل ہیں اور ہر نیا فرقہ بننے کی بھی۔

انہوں نے ان دو تین سو سال میں دین محمدیہ اور امت محمدیہ ہندیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور اپنے مخالف نظریات کے مولویوں کو ٹکڑے کرنے کا راستہ دکھانے کے علاوہ کوئی مثبت کام نہیں کیا۔ تب سے اب تک ان کے اور ان کے اس نقش قدم پہ چلنے والوں کے ذریعے ہر اٹھائے گئے قدم سے امت مزید ٹکڑوں میں بٹتی چالی جا رہی ہے۔



صرف مسجدوں میں اب خدا اور نبی ص تو چھوڑئے، صالح لوگ بھی نہیں پائے جاتے۔ وہاں مکاروں کے استاذ ہوتے ہیں۔ تین سو سال کی تاریخ گواہ ہے۔ بر صغیر میں امت کو انہوں نے ہی تقسیم در تقسیم کیا اور کر رہے ہیں۔مسجد میں جانے والے ہر مسلمان کے دل کو نفرت سے بھر دیا ہے،استثنی بے معنی۔ آپ انہیں کا نفرتوں سے بھرا پروڈکٹ ہونے کا اعلان کرتے رہتے ہیں اور شیطان کی طرح چاہتے ہیں کہ ہر بندہ خدا آپ کی طرح ہی نفرتوں کا مجسمہ بن جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔

ادھر درگاہوں،مزاروں،درباروں،خانقاہوں میں مسجدیں بھی ہوتی ہیں اور خلوص نیت سے  اللہ والوں کے اللہ کے حضور دلی سجدوں و ذکر اذکار سے آباد رہتی ہیں۔وہاں کسی سے نفرت کرنے کے لئے وقت ہوتا ہے نہ دل میں جگہ۔

جب کبھی دل نفرت سے کھالی کر سکیں تو جا جا کر دیکھا کریں ۔




آج راقم نے ایک مولوی صاحب سے ایک سوال کیا : اگر کسی عالم کے آپ ص تک پہنچنے والے  تمام اساتذہ کے علمی سلسلے میں سے ایک استاذ کسی بھی وجہ سے غائب ہو جائے تو اس عالم کے علم کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟
فرمایا : غیر مستند ہو جائے گا۔
راقم نے کہا، پھر تو علم کے ساتھ عالم بھی غیر مستند ہو گیا ؟ بولے: ہاں ۔

راقم نے پھر سوال کیا کہ اگر احقر کے ایمان لانے کے ایمانی سلسلے میں سے کوئی غائب ہو جائے تو ؟
ایک گھنٹے ساتھ رہنے کے باوجود بار بار پوچھنے پر بھی جواب ندارد رہا۔
بندہ سوال کا جواب ادھار رہا، کہہ کر سلام کرکے چلا آیا۔ ممکن ہے اگلی ملاقات میں جواب دے دیں۔
خدا ان کی مدد فرمائے





آپ سے عرض کرنے سے خود کو روک نہیں سکا۔ معذرت
یہ " ملک عضوض " کے مشن کا کارندہ ہے، خواہ خود جانتا ہو یا نہیں۔
کیسے ؟ صرف ، حقائق کا بلا لاگ لپیٹ حق کی روشنی میں، حق کے لئے مطالعہ کیجئے ۔

بندہ ایک دو اشارے کر دیتا ہے۔ سجاع نامی جھوٹی نبی مع اپنے و اپنی ننہیال و حامی قبیلوں کے مدینہ منورہ میں موجود تینوں خلفائے ثلاثہ کے 25 سالہ دور خلافت میں زیر(قتل)ہوئی ہے نہ مسلمان ( خیال رہے، مولا علی کرم۔ کو ایک لمحے کے لئے بھی چین نہیں لینے دیا گیا تھا،سو وہ اس سے بری الذمہ ہیں) اور شام میں بیٹھا ہوا " ملک عضوض " اسے مع اس کے حامیوں سمیت شام بلاتا ہے اور وہ بھاگی بھاگی پہنچ جاتی ہے۔۔۔۔۔۔! ؟
موٹے طور پہ سمجھ لیجئے،جو بھی صرف قرآن و حدیث کی بات کرتا ہے، 99.09% " ملک عضوض " کے جال ( مشن) میں پھنسا ہوا ہے خواہ وہ جانتا ہو یا نہیں۔

آپ جانتے ہیں کہ قرآن خدا کا کلام ہے اور اسے اہل زبان ( اہل زبان،مادری زبان یا قومی زبان والے نہیں) کو سمجھانے کے لئے محبوب ترین رسول ص کو مبعوث کیا گیا۔ دوسرے قرآن کے تعلق سے کہنے والے یا والوں نے کہا تھا کہ " ہمارے لئے قرآن کافی ہے۔ " مگر ہوا کیا ؟ کہنا پڑا کہ " عمر ہلاک ہو جاتا اگر علی نہ ہوتے۔
حدیث، بخاری میں ہے کہ امام بخاری کو سات لاکھ 7,00,000 احادیث یاد تھیں.  انہوں نے لکھی کتنی ؟ فقط چھبیس سو 2,600 باقی دو پانچ ہزار کہیں اور ہو سکتی ہیں مگر بخاری رح کی تمام چھان پھٹک کے باوجود سیکڑوں حدیثیں حسن و ضعیف !  یہ علماء کی چھلنی سے نکلیں اگر کسی اللہ کے ولی نے اپنی چھلنی کا حال لکھا ہوتا تو غالبا سو ہی صحیح نکلتی 2,500 ضعیف و موضوع۔ یاد رہے، اسی لئے جب تک (400 سال پہلے تک  اور 800 سو سال تک) بر صغیر میں صوفیاء کرام ( اولیاء اللہ ) کی سنی جاتی رہی, کوئی بھی بخاری مسلم اور صحیحہ ستہ تو چھوڑئے، احادیث کی کوئی بھی کتاب برے صغیر میں نہیں لایا۔صوفی نہ عالم، بادشاہ نہ صوبےدار، نواب نہ جاگیردار، تاجر نہ زمیندار۔۔۔۔۔۔


اے انس و جن ! جہاں جہاں سے تم گزرو، کہتے جاؤ، حق کی راہ پہ وقت رہتے لوٹ آؤ، ورنہ باطل راہ بند کر دی جائے گی۔ پھر تم ذلیل و خوار ہونے کے علاوہ کچھ نہ کر سکو گے۔ یہ ہر ماتھے کی آنکھ  رکھنے والا بھی صاف دیکھ سکے گا۔ 024-11-05

حق، حق تعالی کا نمائندہ ہے، اسے چھپانا حق تعالی سے جنگ کرنے کا اعلان ہے۔
ویسے تو جنوبی ایشیاء میں بھی چار ساڑھے چار سو سال قبل اس کا آغاز ہو چکا تھا مگر دو سو سال سے با قاعدہ طور پہ حق چھپانے، کم زیادہ کر کے بتانے کے لئے نئے نئے فرقے مسلک وضع کیئے جانے لگے۔
اپنے ایمان کے ساتھ اسلام، اسلام کی عظیم ترین ہستیوں اور مسلمانوں کو حقیقی امت محمدیہ بنائے رکھنے کے لئے، چق کو حق کی طرح بیان کرنے کا حق ادا کرتے ہئے منظر عام پہ آشکار کرنا جاننے والے کے لئے فرض عین ہے،اس میں کسی بھی قسم کی کسی بھی بہانے سے کوتاہی حق کو پوری طرح مٹاتی جائے گی۔ یعنی حق کو چھپانے والے قیامت برپا ہونے کا سب سے بڑا سبب بن رہے ہیں/ بنیں گے۔ 024-11-07





چھنٹائی کر لو، موٹے طور پہ چھ حصوں میں اور اپنا ضمرہ بھی طے کر لو۔
1. جاں نثار کرنے والے صحابہ، 2۔ مہاجر، 3۔ انصار، 4۔ علاوہ قریش و انصار ،5۔ طلقاء، 6۔ منافقین۔




  Difference of mysticism & spirituality
The concept of spirituality is found in all religions of the world, they consider the soul as powerful and attribute every relationship with the soul. While the concept of  Mysticism only in Islam,  Mysticism not related to the soul but to the creator of the soul.

دنیا بھر کے احناف، کل امت محمدیہ کا کم و بیش 80%، بخاری و مسلم اور ان کے روات سے زیادہ معتبر، آپ ص کے زمانے سے زیادہ قریب تر روات و ائمہ فقہ اور پینتیس مفتیوں کی مجلس میں آیات قرآن و ان کو پہنچیں احادیث پہ خوووووب خووووب جرح و تعدیل کرکے طے کئے گئے ارکان اسلام پہ عمل کرتے ہیں۔
نماز، نماز مولی علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو پڑھتے ہوئے دیکھنے والوں کی شہادت کے مطابق پڑھتے ہیں۔ یاد رہے، چاہو تو تحقیق کرو ! مولی علی کرم۔ کی مانند کوئی سنت رسول ص پہ عمل کرنے والا نہ ملے گا۔۔۔۔۔۔انجینئر صاحب کو کوئی بتاؤ ، احناف، حجت البلاغہ ہو یا بخاری مسلم، ان کے مرتبین سے زیادہ قابل اعتبار اور ان کے روات سے زیادہ معتبر اور ان کے منظر عام پہ آنے سے سو اور دو سو سال پہلے کے اصحاب علوم ثقہ یعنی 35 تابعین و تبع تابعین کی مجلس کے مفتیوں کے ہر معاملے و مسئلے پر مہینے مہینے بھر بحث و مباحثے، کھوج بین اور چھان پھٹک پہ اعتبار کر کے عمل کرتے ہیں۔مزید یہ کہ صرف یہی نہیں ہے۔ باقی حق جاننا ہے تو حق کو حق تعالی کا دل و دماغ سے نمائندہ مان کر حق تلاش کریں۔۔۔۔۔

اور آئندہ قرآن کی آیتوں کی اپنی سمجھ پیش کرنے سے قبل زیر نظر اسٹیکر میں بتائے گئے طریقے پہ عمل کرکے کوئی آیت، اس کے معانی و مفاہیم خوب اچھی طرح سمجھنے کے بعد ہی شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ کے ترجمہ کردہ قرآن کی ہر آیت کے ترجمے سے پوری طرح معانا مطابقت رکھنے والے اردو الفاظ ہی منظر عام پہ لانا۔



" #یہ . . . . . جتنے_مجنوں_کا_رول_کرنے_والے_ہیں،         #हिंदीभी #ان_کے_چہروں_سےمکھوٹے_اکھاااااڑ_پھینکو..... !!! "    
" . . . . .  بہت محبت محبت، عشق عشق کے نعرے لگاتے ہیں ! اس کے کان میں کہنا کہ رقیب دیکھ کے محبت کرنا، محبت کے اصول کے خلاف ہے ! ولین کو دیکھ کے ہیرو سے محبت کروگے ؟ محبت، محبت ہوتی ہے۔ ایک لاکھ مجنوں ہوں، تو کیا ہم مجنوں نہ بنیں ! ؟ مجنوں بننے والا،دوسرے مجنوں کی پرواہ کرے تو مجنوں ہوا کہاں؟ تب تو وہ مجنوں کا رول کر رہا ہے ! یہ جتنے مجنوں کا رول کرنے والے ہیں، #ان_کے_چہروں_سے_مکھوٹے_اکھاااااڑ_پھینکو.....!!! "
آخری 2 منت 17 سیکنڈ کا بیان

" #यह_जितने_मजनूं_का_रोल_कर_रहे_हैं,                 #اردوبھی #इनके_चेहरों_से_मुखौटे_उखाड़_फैंको..... !!! "
" . . . . . बहुत मोह़ब्बत मोह़ब्बत, इश्क़ इश्क़ के नारे लगाते हैं ! उसके कान में कहना कि रक़ीब देखके मोह़ब्बत करना, मोह़ब्बत के उसूल के ख़िलाफ़ है ! विलेन को देखके हीरो से मोहब्बत करोगे ! ? मोह़ब्बत, मोह़ब्बत होती है ! एक लाख मजनूं हों, तो क्या हम मजनूं ना बनें ! ? मजनूं बनने वाला, दूसरे मजनूं की परवाह करे तो मजनूं हुआ कहां ? ! तब तो वह मजनूं का रोल कर रहा है ! यह जितने मजनूं का रोल कर रहे हैं, #इनके_चेहरों_से_मुखौटे_उखाड़_फैंको..... !!! "
आख़री 2 मिनिट 17 सैकंड का बयान       13-11-2024
यूटयूब पे वीडियो अपलोडिंग तारीख़ : 09-11-2024

https://youtu.be/AJYX9OEsd9w?si=6FOW_Tfaz955mg83

یہ سنیت کے خلاف ہی نہیں، خدا، رسول ص، اہل بیت، اسلام، اولیاء اللہ، صلحاء، انسانیت کے خلاف ہے۔ اور صحابہ کرام رض کے اسماء کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
ویسے، یہ صرف برلںویت نہیں، ڈیڑھ دو سو سال میں حجروں کے اندر بیٹھ کے اپنے خیالات و رجحان کے تحت گھڑے گئے/ جارہے تمام نو سنی مسلک، مکتب، مشرب، طائفے، جماعتیں، فرقے ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔اخص الخاص اہل بیت علیھم السلام سے کھلی دشمنی اور بنو امیہ کی ثنا خونی میں۔ کوئی کم کوئی زیادہ، بس اتنا سا فرق ہے۔



یہ بیانیہ ڈاکٹر قادری صاحب سے بہتر ہے۔ پر مکمل حقائق سے اب بھی کوسوں دور۔ خالص حق ہی حق ہوتا ہے، اس میں ذرا سی کمی بیشی احتیاط سے کہا جائے تو اسے گدلا یا دھندلا کر دیتی ہے اور واضح طور پہ کہا جائے تو حق میں باطل ملانے پہ وہ شرک بن جاتا ہے اور گھٹانے پہ زندہ لاش۔ پس ہم دو سو سال میں پیدہ ہوئے علماء کے ذریعے حق کو زندہ لاش بنانے کے دور میں جی رہے ہیں۔ ہمیں اس سے دور سے نکلنے کے لئے حق کو حق بیان کرنے کا حق ادا کرتے ہوئے حق کا طاقتور بیانیہ تخلیق کرنا ہوگا۔ ورنہ امت محمدیہ امت امویہ میں تبدیل کرکے فنا کر دی جائے گی اور اسی کے ساتھ دین محمدی بھی۔ باقی جو اللہ چاہئے ہونا وہی ہے۔


ایک، یہ سب دو سو سال میں نئے نئے مسلک بنانے،
دو، سوا سو سال سے کتب احادیث کا ترجمہ کرنے اور
تین، سوا چار سو سال قبل جنوبی ایشیاء میں کتب احادیث لانے کا بدیہی نتیجہ ہے۔

اب تباہی کو روکنے کا راقم کے نزدیک واحد طریقہ لوگوں کو خواجگان چشتیہ کی طرف واپس آنے کی دعوت دینے کا ہی ہو سکتا۔ یاد رکھنا چاہئے کہ جنوبی ایشیاء میں ایک ہزار سال تک اسی وجہ سے کتب احادیث، صوفیائے اکرام لائے نہ ان کے مریدین زمیندار،نواب، امراء،بادشاہ اور نہ ہی صوفیاء اور تصوف کے ازلی مخالفین علماء۔ بندے کو اس کے علاوہ احادیث کی کتب اس قدر طویل ادوار میں یہاں نہ لانے کی کوئی اور وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔

مزید یہ کہ اس میں سب سے اہم کردار ہی نہیں چشتیوں کا فرض عین اور حق ہے کہ وہی 95% خواجگان چشتیہ کے واسطے سے مسلمان ہوئے اور دو سو سال میں گمراہ کر دیئے گئے تمام سابق چشتیوں کو راہ راست پہ لانے کی جدو جہد کریں۔

نرمی کا نتیجہ امت محمدیہ میں انتشار و افتراق کے علاوہ تمام قسم کی برائیوں کی صورت میں نکالا ہے، ضروری ہے کہ جس قدر بھی جو چشتی مناسب سمجھے، سخت اور معقول الفاظ سے کام لے۔



हमारी किताबों में तौहीन आमेज़ मवाद कैसे आया
तुम इस्लाम को जानते समझते हो ना पेग़म्बर स़. को और ना अरबों को। सो जो तुमने दो सो साल में पैदा हुए मौलवियों से सुन या उनका लिखा हुआ पढ़ के  सोचा समझा, अपने तौर पे सही मगर हक़ीक़त बहुत कुछ अलग है।

जैसे, मैं ने पैग़म्बर स़. की बेटी की शादी के समय उम्र 16 साल लिखी। ठीक ? , लेकिन एक दूसरे बयान के अनूसार उनकी उस समय उम्र 20 साल भी लिखी है और स्वर्ग सिधारने की आयु 28 बरस।
इसी तरह इक और बयान 9 साल की आयु में शादी और 17 साल की आयु में स्वर्ग सिधारना भी लिखा है।
ऐसा ही कुछ हिस्ट्री में आएशा साहिबा के बारे में भी लिखा हुआ
ऐसा क्यूं है ? इसका कारण यह है, कि तुमने जिन नाम के मुस्लिम आतंकवादियों (जैसे आई एस आई और उसामा बिन लादेन के संगठन)  के बारे में सुना पढ़ा, वह सब पैग़म्बर स़. की हत्या करने के लिए सात आठ सो किलो मीटर दूर मक्का से रेगिस्तानी पहाड़ी सफ़र कर कर के मदीने पे चढ़ाई करने जाने वालों और मक्का की विजय के बाद मजबूर होके अपनी मर्ज़ी से हिप्पोक्रिटिक्ली मुसलमान होने वालों के वंशज हैं। तुमने शायद मुआविया का नाम सुना हो, सारे मुस्लिम नाम वाले आतंकवादियों का असली आदर्श और हीरो वही है। यह मुआवीया हिंदा (कुड़ा करकट) जिगर ख़ौर ( पैगम्बर स़.से दुश्मनी में उनके चाचा की धोके से हत्या करवाके उनकी लाश से दिल,गुर्दे,इत्यादि निकाल के चबाने वाली) और अबू सुफियान (जिसने इक्किस बाइस साल तक मक्के से मदीने तक पैग़म्बर स़. को क़त्ल करने के लिए घर में घुस के हत्या करने की कोशीश से लेकर मदीने पे बार बार सेना ले जाके चढ़ाई करने वाले का बेटा था। इसी मुआविया ने आज के सिरया पे 21 बरस बतौर गवर्नर और 20 साल बतौर राजा राज किया। इन 41 बरसों में उसने पैग़म्बर स़. को इन डायरैक्ट निशाना बनाने के लिए उनके घर वालों (बेटी,दामाद,नवासों और बीवियों) के बारे में लाखों झूठी बातें घड़वा घड़वा के और पैगम्बर स़. से जोड़ जोड़ के  पूरे राज्य में फैलवाईं। ऐसी सारी बातें उसी की फैलवाई हुई हैं और उन लाखों झूठी बातों में से सो दो सो हज़ार पांच सो झूठी बातें सच्चों की छान फटक के बाद भी हमारी कीताबों में नक़्ल भी हो गईं हैं। दो चार दस बीस मौलवियों से पता करो, मुसलमानों में क़ुर्आन के बाद सबसे भरोसे वाली किताब लिखने वाले इमाम बुखारी साहब ने सात लाख हदीसें (पैग़म्बर स़. की उक्तियां) दूर दूर जा जा के सुनी व याद कीं और जब लिखने का समय आया तो सच्ची झूठी का पता लगाने के नियमों की कसौटी पे कस कस के बुख़ारी (किताब का नाम) में सिर्फ़ 2,600 ह़दीसें ही लिखीं । मौलवी मुआविया के बारे में ना मानें और बहस करें तो कहना इमाम मदाइनी (शहर मदाइन के बाशिंदे, जन्म-135 और सवर्गवास बस़रा- लगभग 225 हिजरी) की किताबें देख लें।
बस,तुम चाहो तो महापुरुषों से महान बातों को जोड़ के देख सकते हो और चाहो तो उसके उलट।


          حق دریافت کریں یا . . . . . !            

سب سے پہلے ایشیا کی تمام اقوام میں
825 سال سے مصدقہ و متداول ترجمہ
قرآن سعدی ر سےملان کرکے اپنےتراجم 
قرآن کے ہر لفظ،معانی،مفاہیم اور منشا 
  ومقاصد رب العالمین کی تصدیق کریں! 
             
            सच तलाश करें या . . . . . !

सब से पहले एशिया की तमाम क़ौमों में
825 साल से मुस़द्दक़ा व राइज तर्जुमा ए
क़ुर्आन शैख़ सादी रह. से मिलान कर के
अपने तराजिम ए क़ुर्आन के हरेक लफ़्ज़,
मआनी,मफ़ाहीम और मंशा ओ मक़ास़िदे
रब्बुल्-आलमीन की तस़्दीक़ करें . . . . . !!!

ذرا بڑھئے ! " ملک عضوض " نے 40 اور اس کے نمائندوں نے 72 سال میں سیاست، معیشت و معاشرت دین مبین  اس قدر دھندلے بنا دیئے تھے کہ ان کے بعد کی کسی ایک دہائی میں بھی پورے عالم اسلام میں کہیں بھی ممکن نہ ہو سکا کہ شرعیت محمدی پہ پوری طرح عمل  کیا جا سکے۔
حضرت انس بن مالک رض ( وصال-93 ہجری، امویوں کی ملوکیت ختم ہونے سے 39 سال قبل) کی چشم دید شہادت و گواہی کے الفاظ :- "   میں نبی ﷺ کے عہد کی کوئی بات اس زمانہ میں نہیں پاتا ۔ لوگوں نے کہا ، نماز تو ہے ۔ فرمایا اس کے اندر بھی تم نے کر رکھا ہے جو کر رکھا ہے ۔" بخاری-529

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...