#کیا_امیر_المؤمنین_علی_ابن_ابی_طالب_عليه_السلام_سے_خطاء_اجتہادی_ہوئی_نواصب_کی_جہالت_کا_رد
بعض نواصب کو دیکھ رہا ہوں جو بعض دوسرے صحابہ کرام کی وکالت میں اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ اب امیر المؤمنین کے فیصلوں پر اعتراضات کرنا شروع کردئیے ہیں اور اپنی لاعلمی کی بنا پر امیر المؤمنین کے اجتہاد کو خطاء پر محمول کیا جارہا ہے وہ علی ابن ابی طالب جنکے بارے میں امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم فرمایا کرتے تھے :
وَأَقْضَانَا عَلِيٌّ ، عبد الله قال: كنا نتحدث أن من أقضى أهل المدينة ابن أبي طالب
سیدنا امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم میں سب سے بہترین قاضی علی ابن ابی طالب ہیں اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم کہا کرتے تھے کہ اہل مدینہ میں سب سے بڑے قاضی علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں ۔
( صحیح بخاری - رقم الحدیث 4481 )
( كتاب الطبقات الكبرى - ط العلمية 2/258 وسندہ صحیح )
مزید سیدنا عمر فاروق نے فرمایا :
لولا علي لهلك عمر
اگر علی نہ ہوتے تو میں عمر ہلاک ہو جاتا ۔ رضی اللہ عنہما
( كتاب الاستيعاب في معرفة الأصحاب 3/1103 وسندہ حسن )
امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ایک اجتہاد کہ آپ نے مرتدین کو جلا کر سزائے موت دی بعض لوگ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول اٹھا کر امیر المومنین پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان سے خطا اجتہادی ہوئی حالانکہ یہ ان لوگوں کی جہالت ہے وہ اس مسئلے کی اور اس میں اختلاف کی نوعیت سے ناواقف ہیں ہم ذیل میں اس مسئلے پر صحابہ کرام کی اور آئمہ کرام کی آراء کو ذکر کریں گے ۔
امام محمد بن اسماعیل البخاری م256ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَرَّقَ قَوْمًا فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ، وَلَقَتَلْتُهُمْ"، كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کو جلا دیا تھا۔ جب یہ خبر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو آپ نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو کبھی انہیں نہ جلاتا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب کی سزا کسی کو نہ دو ‘ البتہ میں انہیں قتل ضرور کرتا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین تبدیل کر دے اسے قتل کر دو۔
سنن ترمذی میں یہ تصریح موجود ہے کہ وہ لوگ مرتد تھے جنہیں امیر المؤمنین نے جلا کر قتل کیا ۔
مسند احمد ، سنن نسائی ، سنن ابی داؤد میں یہ زیادت موجود ہے کہ جب امیر المؤمنین کو ابن عباس کے قول کے بارے میں پتہ چل تو آپ نے فرمایا اللہ ابن عباس کی ماں پر رحم فرمائے رضی اللہ عنہما اور ترمذی میں الفاظ ہیں ابن عباس نے سچ کہا ۔
( صحیح بخاری رقم الحدیث - 3017 )
( سنن ترمذی رقم الحدیث - 1458 )
( سنن ابی داؤد رقم الحدیث - 4351 )
اسی باب میں جلانے کی ممانعت میں مرفوع حدیث بھی مروی ہے جس سے استدلال کرتے ہوئے بعض نواصب نے حد سے تجاوز کرتے ہوئے یہاں تک کہ دیا کہ انہوں نے سنت اور شریعت کے مخالف عمل کردیا (نعوذباللہ)
چنانچہ امام محمد بن اسماعیل البخاری م256ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ، فَقَالَ:" إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ"، ثُمَّ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ إِنِّي أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا، وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ فرمایا اور یہ ہدایت فرمائی کہ اگر تمہیں فلاں اور فلاں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا ‘ پھر جب ہم نے روانگی کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ فلاں اور فلاں کو جلا دینا۔ لیکن آگ ایک ایسی چیز ہے جس کی سزا صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے۔ اس لیے اگر وہ تمہیں ملیں تو انہیں قتل کرنا (آگ میں نہ جلانا) ۔
( صحیح بخاری رقم الحدیث - 3016 )
اب ہم صحابہ کرام کے اجتہادات اور آئمہ کرام کی آراء کو ان روایات کے ضمن میں پیش کریں گے تاکہ یہ چیز واضح ہو جائے کہ آیا ان روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام یا کسی بھی صحابی رسول کو خطاء پر کہا جا سکتا ہے یا نہیں اور آئمہ کرام نے ان روایات کی کیا توضیحات اور تشریحات بیان کی ہیں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
[ #حافـظ_ابـن_حجـر_عسقـلانی_کـی_شـرح ]
امام ابن حجر عسقلانی م852ھ رحمہ اللہ صحیح بخاری کی روایت کے تحت تفصیلی کلام فرماتے ہیں اور اس کی وضاحت میں آئمہ کے اقوال نقل کرتے ہیں چنانچہ آپ فرماتے ہیں :
واختلف السلف في التحريق: فكره ذلك عمر، وابن عباس وغيرهما مطلقا سواء كان ذلك بسبب كفر أو في حال مقاتلة أو كان قصاصا، وأجازه علي، وخالد بن الوليد وغيرهما
آگ سے سزا دینے کے بارے میں اسلاف میں اختلاف رہا ہے، سیّدنا عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم مطلقاً اسے مکروہ سمجھتے تھے خواہ یہ سزا ارتداد کی وجہ سے دی جارہی ہو، یا قصاص میں ہو، یا حالت جنگ میں ہو۔ جب کہ سیّدنا علی اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما اسے جائز سمجھتے تھے۔
ابن حجر عسقلانی کے کلام سے اتنی بات تو واضح ہوئی کہ یہ مسئلہ صحابہ کرام کے درمیان اختلافی تھا مزید فرماتے ہیں :
وقال المهلب: ليس هذا النهي على التحريم بل على سبيل التواضع، ويدل على جواز التحريق فعل الصحابة، وقد سمل النبي ﷺ أعين العرنيين بالحديد المحمي، وقد حرق أبو بكر البغاة بالنار بحضرة الصحابة، وحرق خالد بن الوليد بالنار ناسا من أهل الردة ۔۔۔
مہلب بن ابی صفرۃ م435ھ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : (سیدنا ابو ہریرہ سے مروی) حدیث میں ممانعت تحریمی نہیں ہے، بلکہ بطور تواضع ہے، آگ کے ذریعہ سے سزا دینے کے جواز پر صحابہ کا عمل ثابت ہے، خود نبی اکرم ﷺ نے عرنیین کی آنکھوں میں گرم لوہے کی سلائیاں پھیریں، اور صحابہ کی موجودگی میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے باغیوں اور مرتدین کو آگ سے جلایا۔ خالد بن ولید نے بھی مرتدین کو آگ سے جلایا۔
( كتاب فتح الباري بشرح البخاري - ط السلفية 6/150 )
امام مہلب بن ابی صفرہ کے کلام سے یہ واضح ہوا کہ مرتدین کو جلا کر قتل کرنے میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب کا تفرد نہیں تھا بلکہ خلیفہ بلا فصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی ایسا ہی فرمایا کئی صحابہ کرام کی موجودگی میں لہذا اگر یہ حرام ہوتا اور نبی کریم کے فرمان سے نسخ ثابت ہو رہا ہوتا تو صحابہ حضرت ابوبکر کو ضرور ٹوکتے بلکہ صحابہ کا ٹوکنا تو بعد میں تھا سیدنا ابوبکر صدیق ہی خود ایسا عمل نہ فرماتے ہیں مزید یہ کہ سیدنا خالد ابن ولید نے بھی ایسا ہی کیا مرتدین کو آگ میں جلایا اور ابن حجر عسقلانی کی نقل کردہ کلام سے یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ یہ مسئلہ نہ صرف صحابہ کرام میں اختلافی تھا بلکہ صحابہ کے بعد آئمہ اسلام میں بھی یہ مسئلہ مختلف فی رہا ہے ۔......
یہی شرح صحیح بخاری کے شارح حافظ سراج الدین ابن ملقن م804ھ رحمہ اللہ نے بھی فرمائی ۔
( كتاب التوضيح لشرح الجامع الصحيح 18/190 )
[ #حافـظ_زرقـانـی_کـی_شـرح ]
امام محمد بن عبدالباقی زرقانی مالکی م1122ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
فقال علي رضي الله عنه ( ويح أم ابن عباس ) وهو محتمل أنه لم يرض اعتراضه عليه ورأى أن النهي للتنزيه ; لأن عليا كان يرى جواز التحريق، وكذا خالد بن الوليد وغيرهما تشديدا على الكفار ومبالغة في النكاية والنكال، ولا يعارض ذلك ما روي: فبلغ ذلك عليا فقال: صدق ابن عباس. لأن تصديقه من حيث التنزيه
امیر المؤمنین مولا علی علیہ السلام کا فرمان ( اللہ ابن عباس کی ماں پر رحم فرمائے ) ممکن ہے کہ مولا علی نے ابن عباس کے اعتراض سے اتفاق نا کیا ہو بلکہ انہوں نے حدیث میں ممانعت سے ممانعت تنزیہی مراد لی ہو کیونکہ امیر المؤمنین آگ سے جلانے کو جائز سمجھتے تھے جیسا کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ وغیرہ بھی جائز سمجھتے تھے اور یہ بات اس روایت کے منافی نہیں جس میں ہے کہ جب مولا علی کو ابن عباس کا قول پہنچا تو آپ نے فرمایا ابن عباس نے سچ کہا کیونکہ یہ تصدیق منع تنزیہی کے اعتبار سے ہے ۔
( كتاب شرح الزرقاني على الموطأ 4/41 )
امام زرقانی رحمہ اللہ کے کلام سے یہ بات واضح ہوئی کہ مولا علی علیہ السلام کا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کی تصدیق کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ انکے استدلال سے بھی متفق ہیں انہوں نے حدیث کی تصدیق کی لیکن اس میں ممانعت سے مراد منع تنزیہی لیا نا کہ مطلقاً مکروہ جیسا ابن عباس سمجھتے تھے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
[ #سیـدنا_ابـو_بـکر_صـدیـق_کا_عمـل : ]
امام ابوبکر محمد بن جعفر الخرائطی م327ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَصَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ كَتَبَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا، أَنَّهُ وَجَدَ فِي بَعْضِ ضَوَاحِي الْعَرَبِ رَجُلًا يُنْكَحُ كَمَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ، وَقَامَتْ عَلَيْهِ بِذَلِكَ الْبَيِّنَةُ، فَاسْتَشَارَ أَبُو بَكْرٍ فِي ذَلِكَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ أَشَدَّهُمْ فِي ذَلِكَ قَوْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، قَالَ: «إِنَّ هَذَا ذَنْبٌ لَمْ تَعْصِ بِهِ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ إِلَّا أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ، صَنَعَ اللَّهُ تَعَالَى بِهَا مَا عَلِمْتُمْ، أَرَى أَنْ نُحَرِّقَهُ بِالنَّارِ» . فَكَتَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ تُحَرِّقُهُ بِالنَّارِ، ثُمَّ حَرَّقَهُمُ ابْنُ الزُّبَيْرِ فِي زَمَانِهِ بِالنَّارِ، ثُمَّ حَرَّقَهُمْ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثُمَّ حَرَّقَهُمُ الْقَسْرِيُّ بِالْعِرَاقِ
محمد بن منکدر ، صفوان بن سلیم ، موسی بن عقبہ تینوں جلیل القدر تابعین بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جانب انکے دور خلافت میں خط لکھ کر بھیجا کہ یہاں عرب کے بعض مضافات میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو مردوں سے ایسے نکاح کرتے ہیں جیسے عورتوں سے کیا جاتا ہے آپ بتائیں میں کیا کروں ؟؟ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کی رائے لینے کے لیئے انہیں جمع کیا اس دن سب سے زیادہ سخت بات مولا علی نے فرمائی آپ نے فرمایا یہ ایسا گناہ ہے جو صرف ایک امت سے سرزد ہوا اور پھر جو اللہ نے انکے ساتھ کیا یہ آپ بھی جانتے ہیں میرا خیال یہ ہے کہ انہیں آگ میں جلا دیا جائے ۔ (امام بیہقی کی روایت میں الفاظ ہیں کہ تمام صحابہ کرام اسی رائے پر متفق ہوگئے) سیدنا ابو بکر نے سیدنا خالد کو لکھا کہ انہیں آگ سے جلا دو اسی طرح عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے انہیں اپنے زمانے میں جلایا اسی طرح ہشام بن عبد الملک نے انہیں اپنے زمانے میں جلایا اسی طرح اموی حاکم قسری نے انہیں اپنے زمانے میں جلایا ۔
( كتاب مساوئ الأخلاق للخرائطي ص205 رجاله الثقات وسنده صحيح على التابعين )
( كتاب السنن الكبرى - البيهقي - ط العلمية 8/405 رجاله الثقات )
حافظ ابو عمرو ابن عبدالبر اندلسی م463ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
قال: وحدثني معن بن عيسي، عن معاوية بن صالح، عن عياض بن عبد الله، قال: لما استشارهم أبو بكر قالوا: نرى أن ترجمه. فقال علي: أرى أن تحرقوه، فإن العرب تأنف من المثلة، ولا تأنف من الحدود. فحرقوه.
عیاض بن عبداللہ المدنی تابعی کہتے ہیں : جب سیدنا ابو بکر صدیق نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا ہمارا خیال ہے آپ انہیں سنگسار کردیں مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کہا میں سمجھتا ہوں آپ انہیں آگ سے جلا دیں کیونکہ عرب اس طرح کی سزاؤں سے کنارہ کش رہتے ہیں حدود سے نہیں رہتے چنانچہ سیدنا ابو بکر نے انہیں جلانے کا حکم دیا ۔
( كتاب التمهيد - ابن عبد البر - ت بشار 3/713 وسندہ صحیح علی العياض بن عبدالله )
اب نواصب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہیں گے ؟؟ جنہوں نے نا صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق کیا بلکہ اس پر عمل کرتے ہوئے ان لوگوں کو آگ سے جلانے کا حکم صادر کیا کیا انہیں بھی نسخ معلوم نہیں تھی ؟؟؟ یا ان سے بھی خطاء اجتہادی ہوئی ؟؟ اور وہ صحابہ جن کے سامنے یہ رائے پیش کی گئی انہیں بھی نسخ معلوم نہیں تھی ؟؟؟ اور سیدنا خالد بن ولید کو بھی معلوم نہیں تھی جنہیں حکم دیا گیا جلانے کا اور انہوں نے عمل کیا ؟؟
اب نواصب یہاں ضرور تاویلات کریں گے لیکن کبھی جرت نہیں کریں گے ان اکابر صحابہ پر معاذاللہ شریعت کی مخالفت کی تہمت لگائیں انکا بغض فقط اہلبیت علیہم السلام سے ہے جسکا یہ لوگ آئے دن اظہار کرتے رہتے ہیں ۔
حافظ عبد العظیم المنذری م656ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حرق اللوطية بالنار أربعة من الخلفاء أبو بكر الصديق وعلي بن أبي طالب وعبد الله بن الزبير وهشام بن عبد الملك
اغلام بازی (لواطت) کرنے والے کو چار خلفاء نے آگ سے جلایا ابوبکر صدیق ، علی ابن ابی طالب ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم اور ھشام بن عبدالملک ۔
( كتاب الترغيب والترهيب للمنذري - ط العلمية 3/198 )
مولا علی علیہ السلام کو تو معاذاللہ نسخ معلوم نہیں تھی باقی دو جلیل القدر صحابہ کو بھی معلوم نہیں تھی ؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
[ #سیـدنا_ابـو_موسـیٰ_اشعـری_اور_سیـدنا_معـاذ_بـن #جبـل_کا_عمـل : ]
امام سلیمان بن احمد الطبرانی م360ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَأَمَرَهُمَا أَنْ يُعَلِّمَا النَّاسَ الْقُرْآنَ» ، فَجَاءَ مُعَاذٌ إِلَى أَبِي مُوسَى يَزُورُهُ، وَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ مُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ: يَا أَخِي أَبُعِثْنَا نُعَذِّبُ النَّاسَ أُمْ بُعِثْنَا نُعَلِّمُهُمْ وَنَأْمُرُهُمْ بِمَا يَنْفَعُهُمْ؟ فَقَالَ لَهُ: أَسْلَمَ، ثُمَّ كَفَرَ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ لَا أَبْرَحُ حَتَّى أَحْرِقَهُ بِالنَّارِ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: إِنَّ لَنَا عِنْدَهُ بَقِيَّةً، قَالَ مُعَاذٌ: وَاللهِ لَا أَبْرَحُ أَبَدًا، قَالَ: فَأُتِيَ بِحَطَبٍ فَأُلْهِبَتْ فِيهِ النَّارُ، وَطَرَحَهُ
ابو بردہ رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے اور معاذ بن جبل کو رسول اللہ ﷺ نے یمن روانہ کیا اور حکم دیا کہ ہم وہاں لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیں چنانچہ سیدنا معاذ سیدنا ابو موسیٰ اشعری کے پاس ان سے ملنے گئے تو انہوں نے دیکھا وہاں ایک شخص زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے سیدنا معاذ نے کہا اے میرے بھائی ہمیں یہاں لوگوں کو اذیت دینے کے لیے بھیجا گیا ہے یا ہمیں انہیں علم سکھانے اور ان چیزوں کا حکم دینے کے لئے بھیجا گیا ہے جو انکے لئے فائدہ مند ہیں ؟؟سیدنا ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا یہ پہلے اسلام لایا اور پھر اس نے کفر کیا (یعنی مرتد ہوگیا) سیدنا معاذ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤں گا جب تک اسے آگ میں نا جلادوں سیدنا ابو موسیٰ اشعری نے فرمایا ہمارا اس کے پاس کچھ باقی ہے سیدنا معاذ نے فرمایا اللہ کی قسم میں نہیں جاؤں گا پھر وہ لکڑیاں لائے آگ جلائی اور اس میں اسے پھینک دیا ۔
( كتاب المعجم الكبير للطبراني 20/43 وسندہ حسن )
سیدنا معاذ بن جبل تو صحابہ کرام میں سب سے زیادہ حلال و حرام کو جاننے والے شمار ہوتے ہیں!! اب نواصب ان دو جلیل القدر صحابہ کے بارے میں کیا کہیں گے معاذاللہ انہوں نے بھی سنت و شریعت کی مخالفت کی ؟؟ انہیں بھی نسخ کا علم نہیں تھا ؟؟؟
اصل بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ صحابہ کرام کے درمیان اختلافی تھا سیدنا ابوبکر صدیق ، مولا علی ، خالد بن ولید ، معاذ بن جبل ، ابو موسیٰ اشعری ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم وغیرہ آگ سے جلانے کو جائز سمجھتے تھے اور وہ ممانعت کی احادیث کو منع تنزیہی پر محمول کرتے تھے اور سیدنا عمر و ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ اسے حرام سمجھتے تھے لہذا اس مسئلہ میں سیدنا امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا تفرد نہیں تھا اور اگر انہیں انکے عمل کی بنا پر خطاء اجتہادی یا سنت و شریعت کا مخالف کہنا ہے معاذاللہ تو باقی جلیل القدر صحابہ پر بھی یہی حکم لگتا ہے نعوذباللہ ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
[ #آگــ_سـے_جـلانـے_کـے_حـوالـے_سے_آئمـہ_کـرام #کـی_آراء : ]
امام ابو حفص سراج الدین ابن ملقن م804ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وذهبت طائفة في حق المرتد إلى مذهب علي، وقالت طائفة: من حرق يحرق، وبه قَالَ مالك وأهل المدينة والشافعي وأصحابه وأحمد وإسحاق
”مرتد کے معاملے میں ایک جماعت نے سیدنا علی علیہ السلام کا موقف اختیار کیا، ایک جماعت نے کہا: جس نے کسی کو جلا کر قتل کیا اسے بھی آگ میں جلا کر قتل کیا جائے گا یہی امام مالک اور اھلِ مدینہ ، امام شافعی اور انکے اصحاب ، امام احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔“
( كتاب التوضيح لشرح الجامع الصحيح 18/61 )
شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی م852ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وَقَدْ ذَهَبَ الْجُمْهُورُ إِلَى جَوَازِ التَّحْرِيقِ وَالتَّخْرِيبِ فِي بِلَادِ الْعَدُوِّ
”جمہور علماء دشمنوں کے شہروں میں تخریب کاری اور آتش کے جواز کے قائل ہیں۔“
( كتاب فتح الباري بشرح البخاري - ط السلفية 6/155 )
مزید فرماتے ہیں :
وَأَكْثَرُ عُلَمَاءِ الْمَدِينَةِ يُجِيزُونَ تَحْرِيقَ الْحُصُونِ وَالْمَرَاكِبَ عَلَى أَهْلِهَا، قَالَهُ الثوِريُّ، وَالْأَوْزَاعِيُّ.
”مدینہ کے اکثر علماء دشمن کے قلعوں اور ان کی سواریوں کو نذر آتش کرنے کی اجازت دیتے رہے، یہی مسلک امام ثوری اور اوزاعی کا بھی ہے۔“
( كتاب فتح الباري بشرح البخاري - ط السلفية 6/150 )
ابو ابراہیم اسماعیل بن یحیی المزنی م264ھ صاحب امام شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں :
باب القصاص بغير السيف : قال الشافعي: وإنْ طَرَحَه في نارٍ حتّى يَمُوتَ .. طُرِحَ في النّارِ حتّى يَمُوتَ.
”بغیر تلوار کے قصاص لینے کا بیان : امام شافعی نے فرمایا اگر اسے آگ میں جلا کر قتل کیا گیا ہے تو قاتل کو بھی آگ میں پھینک دیا جائے حتیٰ کہ وہ مر جائے۔“
( كتاب مختصر المزني - ت الداغستاني 2/366 )
امام ابو العباس احمد بن محمد الصاوی المالکی م1241ھ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
(وَقُتِلَ) الْقَاتِلُ (بِمَا قَتَلَ) بِهِ (وَلَوْ نَارًا) عَلَى الْمَشْهُورِ
”قاتل کو ویسے ہی قتل کیا جائے جیسے اس نے قتل کیا پھر چاہے آگ میں جلا کر ہی کیوں نا ہو مشہور قول کے مطابق۔“
( كتاب حاشية الصاوي على الشرح الصغير 4/369 )
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
[ #خـلاصـہ_کـلام : ]
تحریر کی مزید طوالت کے خوف سے ہم نے درجنوں دلائل کو حذف کیا ہے اور مرویات کی اسناد پر ابحاث سے بھی گریز کیا اور چند آئمہ کرام کے اقوال اور چند مرویات ہی پر اکتفاء کیا ہے اس سے اتنا تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ سب اہل علم آئمہ کسی نا کسی صورت میں آگ سے جلانے کے قائل ہیں کسی نے بھی اس حدیث سے مطلقاً تحریم مراد نہیں لی ۔
احباب تمام دلائل دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ آیا نواصب کا کیا امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام پر خلاف سنت و شریعت عمل کرنے کا الزام لگانا درست ہے ؟؟
الحمدللہ ہم نے دلائل معتبرہ معتمدہ مشہورہ سے ثابت کیا کہ آگ سے جلا کر قتل کرنے میں امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا تفرد نہیں ہے بلکہ کئی جلیل القدر صحابہ کرام سے یہ عمل ثابت ہے اور کئی جلیل القدر آئمہ کرام نے اس عمل کو کرنے کی اجازت و رخصت دی ہے لہذا نعوذباللہ اگر یہ عمل فرما کر امیر المومنین علی علیہ السلام خطاء اجتہادی پر ہیں اور خلاف سنت و شریعت عمل کررہے ہیں تو وہ تمام صحابہ اور آئمہ بھی اسی زمرے میں آئیں گے ۔
ہم نے اس تحریر میں جو دلائل نقل کئے اسکے خلاف بھی آئمہ کے اقوال و آثار موجود ہیں جو ہم نے ذکر نہیں کئے کیونکہ وہ ہمارا موضوع بحث نہیں ہم نے یہ تحریر امیر المؤمنین کے عمل کے دفاع میں لکھی ہے نا کہ اس مسئلہ پر لکھی ہے کہ آگ سے جلا کر سزا دینا جائز ہے یا نا جائز اگر ہم اس مسئلہ پر لکھتے تو پھر جانبین کے دلائل کو ذکر کرنا ہم پر لازم تھا ۔
سیدنا ابن عباس کے کلام سے ظاہر ہے کہ انہوں نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے عمل کو غلط نہیں کہا بلکہ اپنی رائے پیش کی کہ اگر میں ہوتا تو ایسا نا کرتا اور امیر المومنین کا ابن عباس کے قول کی تصدیق کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ انکی رائے سے بھی متفق ہیں جیسا کہ امام زرقانی کے کلام کے ضمن میں گزرا ۔ بلکہ میرے علم کے مطابق کسی بھی امام اہلسنت نے امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کو ان کے اس عمل کی بنیاد پر خطاء اجتہادی پر نہیں کہا ۔ اور ویسے بھی ابن عباس مولا علی علیہ السلام کے عمل کو کیسے غلط کہ سکتے تھے جبکہ وہ خود فرماتے ہیں :
إذا حدثنا ثقة عن علي بفتيا لا نعدوها
جب ہمیں کوئی ثقہ امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا فتویٰ بتاتا تو ہم اس کی مخالفت نہیں کرتے ۔
( كتاب الطبقات الكبرى - ط العلمية 2/258 وسندہ صحیح )
آخر میں ان صحابہ و آئمہ اور حکام کے اسماء بترتیب درج ہیں جنہوں نے آگ سے جلا کر قتل کرنے کا حکم دیا یا عمل کیا یا جواز کا فتویٰ دیا جنکا تذکرہ ہم تحریر میں کر چکے ہیں ۔
(1) امیر المؤمنین سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ
(2) امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ
(3) امیر المؤمنین سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ
(4) سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ
(5) سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ
(6) سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ
(7) ھشام بن عبدالملک
(8) خالد بن عبداللہ القسری
(9) امام مالک رحمہ اللہ
(10) امام شافعی رحمہ اللہ
(11) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ
(12) امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ
(13) امام سفیان ثوری رحمہ اللہ
(14) امام اوزاعی رحمہ اللہ
اللہ تعالی نواصب کو نست و نابود فرمائے اور ہمیں راہ حق پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرمائے صحابہ اور اہل البیت علیہم الصلوۃ والسلام کی تعظیم اور توقیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
هذا ما عندي والعلم عند الله
مؤرخہ 22 جمادی الآخر 1445ھ
خادم الحدیث النبوی ﷺ سید محمد عاقب حسین
No comments:
Post a Comment