Tuesday, January 13, 2026

محفوظ خطا ہونے کی نصوص،تعریف و توضیح

محفوظ خطا ہونے کی نصوص،تعریف و توضیح
قرآن کی دو آیتیں (آیات تطہیر و مباہلہ) اور آپ ص کے دو عمل و دعا اس عقیدے کی بنیاد ہیں۔ آیت تطہیر کا مفہوم " اے نبی کے گھر والو ! اللہ تعالی چاہتا ہے کہ تمہیں ہر قسم کے رجس سے پاک(مطہر) کر دے۔"  یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ص نے حضرات فاطمہ،علی و حسن و حسین علیھم السلام کو مع اپنے ایک چادر میں لیا اور اللہ تعالی سے دعا کی کہ یا اللہ یہ میرے #اہل (گھروالے,اصل معنی و مفہوم گھروالوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے) ہیں، انہیں پاک و صاف فرمادے۔

آیت مباہلہ،اللہ تعالی نے آپ ص کی نجران(یمن) سے آئے عیسائی علماء سے گفت و شنید کے بعد نازل کی۔ مفہوم، اے محبوب ! ان سے کہو اگر تم سچے ہو، اپنی عورتوں،بیٹوں اور جانوں کو لے کر آؤ اور ہم بھی لاتے ہیں۔پھر ہم سب مل کر خدا کی بارگاہ میں کہیں گے کہ جو جھوٹا ہو ،اس پہ خدا کا عذاب نازل ہو۔ آپ ص پھر مذکورہ بالا چاروں ہستیوں کو اپنے ساتھ طے مقام کی جانب لے کر گئے۔ عیسائی علماء انہیں دور سے ہی دیکھ کر ڈرے کہ یہ چہرے اگر دعا کریں گے تو پہاڑ بھی اپنی جگہ چھوڑ دیں گے وغیرہ ۔ وہ مباہلہ کرنے سے انکار اور جزیہ دینے پہ صلح کر کے واپس چلے گئے۔

ان آیات قرآن اور آپ ص کے قول و عمل کے بڑے معانی اور مفاہم علماء اور ان سے بھی زیادہ صوفیاء کرام نے بیان کئے ہیں۔ مختصر یہ کہ ان چاروں کو آپ ص نے اپنے نبی و رسول ہونے کے گواہوں کے طور پہ پیش کیا اور حضرت عیسی علیہ السلام کے اللہ کا بیٹا نہ ہونے اور نبی ہونے کی دلیل کے طور پہ۔

صوفیاء تو صوفیاء ہیں علماء اہل سنت والجماعت (احناف، مالکی، شوافع،حنابلی وغیرہ کی متفقہ تحقیق ہے کہ ان چاروں سے کبھی کوئی خطا سر زد نہیں ہوئی اور اگر کوئی کہتا بھی ہے کہ ایک آدھ ہوئی، اس کا بھی ماننا ہے کہ اللہ تعالی نے رجوع کی توفیق عطا فرما دی تھی اور ان میں سے اگر کسی سے خطا ہوئی بھی تھی تو اس نے رجوع کر لیا تھا یا پھر وہ خطا دوبارہ نہیں کی۔

اس عقیدے میں آگے چل کر تھوڑے یا زیادہ اختلاف کے ساتھ شیعہ بھی اہل تسنن سے ہم آہنگ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ الا ناصبی پوری امت محمدیہ ان چاروں کے تعلق سے ایک ہی عقیدہ رکھتی ہے۔ اسی لئے ان کے ہر قول و عمل سے دین اخذ کیا جاتا رہا ہے۔
وضاحت: اہل سنت کے یہاں ان کے لئے " محفوظ عن الخطا" اور اہل تشیع کے یہاں " معصومیت صغری '' کی اصطلاح رائج ہے۔ دونوں میں معنا قابل ذکر فرق نہیں ہے۔

تعریف: انبیاء علیہم السلام " معصوم عن الخطا " ہیں۔ یعنی ان سے کوئی خطا ہو ہی نہیں سکتی۔اور ان چاروں یا چاروں میں سے کسی سے خطا کا صدور ممکن ہے مگر خدا ان کی خطا سے حفاظت فرماتا ہے۔

کیپشن میں ' بھول گئے ' اس لئے کہا گیا ہے کہ دو سو خصوصا ستر 70 اسی 80 برس سے تمام مسلکوں کے اکثر سنی علماء بھولے تو نہیں مگر  گٹلاتے ہیی، چھپاتے ہیں یا اس طرح بیان کرتے ہیں کہ عام مسلمان سمجھ نہ سکیں (واقعہ بھی یہی ہے کہ اب بیشتر کلمہ گو اس قدیم عقیدے سے بے بہرہ ہو گئے ہیں) اور خود پر موقع آن پڑے تو اس عقیدے کو ماننے کا دعویٰ بھی ثابت کر سکیں۔
امید ہے بندے کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو آپ زیادہ بہتر طور پہ سمجھ لیں گے۔


1: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چھ (6) ماہ تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول رہا کہ جب نمازِ فجر کے لئے نکلتے اور حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیہا کے دروازہ کے پاس سے گزرتے تو فرماتے : اے اہل بیت! نماز قائم کرو (اور پھر یہ آیتِ مبارکہ پڑھتے : )۔ اے اھلِ بیت! اﷲ چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح کی) آلودگی دُور کر دے اور تم کو خوب پاک و صاف کر دے۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 3 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : تفسير القرآن، باب : ومن سورة الأحزاب، 5 / 352، الرقم : 3206، و أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 259، 285، و في فضائل الصحابة، 2 / 761، الرقم : 1340، 1341، و ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 388، الرقم : 32272، و الشيباني في الآحادو المثاني، 5 / 360، الرقم : 2953، و عبد بن حميد في المسند : 367، الرقم : 12223، و الحاکم في المستدرک، 3 / 172، الرقم
[04/01, 7:13 am] +91 99209 69261: حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، پس جس نے اسے ناراض کیا اُس نے مجھے ناراض کیا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ امام بخاری کے ہیں۔

الحديث رقم 5 : أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : المناقب، باب : مناقب قرابة رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، 3 / 1361، الرقم : 3510، و في کتاب : المناقب، باب : مناقب فاطمة، 3 / 1374، الرقم : 3556، و مسلم في الصحيح، کتاب : فضائل الصحابة، باب : فضائل فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وآله وسلم، 4 / 1903، الرقم : 2449، و ابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 388، الرقم : 32269،   الطبراني في المعجم الکبير، 202 / 404، الرقم : 1012.
[04/01, 7:16 am] +91 99209 69261: ’’حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ میرا جگر گوشہ ہے، اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے اور اسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 10 : أخرجه الترمذي في في السنن، کتاب : المناقب، باب : ماجاء في فضل فاطمة بنت محمد صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 698، الرقم : 3869، و أحمد بن حنبل في المسند، 4 / 5، و في فضائل الصحابة، 2 / 756، الرقم : 1327، و الحاکم في المستدرک، 3 / 173، الرقم : 4751،
[04/01, 7:17 am] +91 99209 69261: ’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ سے فرمایا : بیشک اﷲ تعالیٰ تیری ناراضگی پر ناراض ہوتا ہے اور تیری رضا پر راضی ہوتا ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 11 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 167، الرقم : 4730، و الشيباني في الآحاد و المثاني، 5 / 363، الرقم : 2959، و الطبراني في المعجم الکبير، 1 / 108، الرقم : 182، 22 / 401، الرقم : 1001، و
[04/01, 7:18 am] +91 99209 69261: حضرت جمیع بن عمیر تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی پھوپھی کے ہمراہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کون زیادہ محبوب تھا؟ اُمُّ المؤمنین رضی اﷲ عنہا نے فرمایا : فاطمہ سلام اﷲ علیہا۔ عرض کیا گیا : مردوں میں سے (کون زیادہ محبوب تھا)؟ فرمایا : اُن کے شوہر، جہاں تک میں جانتی ہوں وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والے اور راتوں کو عبادت کے لئے بہت قیام کرنے والے تھے۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 14 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : ماجاء في فضل فاطمة بنت محمد صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 701، الرقم : 3874، و الحاکم في المستدرک، 3 / 171، الرقم : 4744، و الطبراني في المعجم الکبير، 22 / 403، 404، الرقم : 1008، 1009، و ابن الأثير في أسد الغابة، 7 / 219، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 / 125، و المزي في تهذيب الکمال، 4 /
[04/01, 7:20 am] +91 99209 69261: حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبت حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اﷲ علیہا سے تھی اور مردوں میں سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ محبوب تھے۔‘‘ اس حدیث کو امام ترمذی، نسائی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔

الحديث رقم 15 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب، باب : ماجاء في فضل فاطمة بنت محمد صلي الله عليه وآله وسلم، 5 / 698، الرقم : 3868، و النسائي في السنن الکبري، 5 / 140، الرقم : 8498، و الحاکم في المستدرک، 3 / 168، الرقم : 4735، و الطبراني في المعجم الأوسط، 7 / 199، الرقم : 7262، و الذهبي في سير أعلام النبلاء، 2 /

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...