مولا علی کرم۔ ہی صدیق اکبر و فاروق اعظم
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : «عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا عَلِيٌّ»
حضرت حُبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے :’’ علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، میری طرف سے صرف علی رضی اللہ عنہ ہی ادا کریں گے ۔‘‘
سُنن ابن ماجه#119 سنت کی اہمیت وفضیلت
Status: صحیح www.theislam360.com
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الرَّازِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالَ : أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ : «أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ ، لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ ، صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ لِسَبْعِ سِنِينَ»
حضرت عباد بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضي اللہ عنہ نے فرمایا : میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کے رسول کا بھائی ہوں ، میں صدیق اکبر ہوں ، میرے بعد یہ بات وہی کہے گا جو انتہائی جھوٹا ہے ۔ میں نے دوسروں سے سات سال پہلے نماز پڑھی ہے ۔
سُنن ابن ماجه#120 سنت کی اہمیت وفضیلت
Status: ضعیف www.theislam360.com
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْوَاسِطِيُّ قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا»
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما جنتی جوانوں کے سردار ہیں ، اور ان کے والد ان سے افضل ہیں ۔‘‘
سُنن ابن ماجه#118 سنت کی اہمیت وفضیلت
Status: صحیح www.theislam360.com
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : قَدِمَ مُعَاوِيَةُ فِي بَعْضِ حَجَّاتِهِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَعْدٌ ، فَذَكَرُوا عَلِيًّا ، فَنَالَ مِنْهُ ، فَغَضِبَ سَعْدٌ ، وَقَالَ : تَقُولُ هَذَا لِرَجُلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» ، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ»
حضرت سعد بن ابووقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا : ایک بار حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حج کے لیے تشریف لائے تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس ( ملاقات کے لیے ) گئے ۔ ( اثنائے گفتگو میں ) حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ چھڑ گیا ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے متعلق کچھ تنقیدی الفاظ کہے ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا اور فرمایا : آپ ایسے شخص کے بارے میں یہ بات کہہ رہے ہیں جس کے متعلق میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے :’’ جس کا مولیٰ میں ہوں ، علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا مولیٰ ( دوست ) ہے ۔‘‘ اور میں نے آپ ﷺ سے سنا کہ آپ نے ( علی رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا :’’ تیرا مجھ سے وہی تعلق ہے جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا ، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔‘‘ اور میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا :’’ آج میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ سے اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ۔ ( اور وہ جھنڈا علی رضی اللہ عنہ کو ملا ۔ ) ‘‘
سُنن ابن ماجه#121 سنت کی اہمیت وفضیلت
Status: صحیح www.theislam360.com
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ : «أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى»
حضرت سعد بن ابووقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا :’’ کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ میرے ساتھ تیری وہ نسبت ہو جو ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام سے تھی ؟‘‘
سُنن ابن ماجه#115 سنت کی اہمیت وفضیلت
Status: صحیح www.theislam360.com
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَنَّهُ لَا يُحِبُّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَلَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ»
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : نبی امی ﷺ نے مجھے بالتاکید خبر دی کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا ، اور مجھ سے صرف منافق ہی نفرت کرے گا ۔
سُنن ابن ماجه#114 سنت کی اہمیت وفضیلت
Status: صحیح www.theislam360.com
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے بعد طائف کی طرف روانہ ہوئے اور سات یا آٹھ دن ان کا محاصرہ کیا پھر آپ ﷺ نے ایک صبح یا ( شاید فرمایا ) شام وہاں سے کوچ فرمایا پھر ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا اور وہاں سے دوپہر کے وقت روانگی اختیار کی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! میں تمہارے اوپر خوش ہوں اور میں تمہیں اپنی اولاد کے بارے میں بھلائی کی تاکید کرتا ہوں ، میری تم سے ملاقات حوض کوثر پر ہو گی ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے تم ضرور نمازیں قائم کرو گے اور تم ضرور زکوۃ ادا کرو گے ورنہ میں تم پر اپنی طرف سے یا ( شاید یہ فرمایا ) اپنے جیسا ایک آدمی بھیجوں گا جو تمہارے جنگ جوؤں کی گردنیں مارے گا اور تمہارے بچوں کو قیدی بنائے گا ( عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : لوگ یہ سمجھے کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ ہے لیکن آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : یہ ہیں ۔
المسترک الحاکم الحیحین،2559
No comments:
Post a Comment