Thursday, January 8, 2026

معاویہ اور نمائندہ خدا و رسول ص

معاویہ اور نمائندہ خدا و رسول ص
حدثنا محمد بن عبد الحميد العطار الكوفي، عن يونس بن يعقوب، عن فضيل غلام محمد بن راشد، قال: سمعت أبا عبد الله عليه السلام: يقول: إن معاوية كتب إلى الحسن بن علي (صلوات الله عليهما) ان أقدم أنت والحسين وأصحاب علي.
فخرج معهم قيس بن سعد بن عبادة الأنصاري وقدموا الشام، فأذن لهم معاوية وأعد لهم الخطباء، فقال يا حسن قم فبايع فقام فبايع، ثم قال للحسين عليه السلام قم فبايع فقام فبايع، ثم قال قم يا قيس فبايع فالتفت إلى الحسين عليه السلام ينظر ما يأمره، فقال يا قيس انه امامي يعني الحسن عليه السلام.

معاویہ نے حسن بن علی صلوات اللہ علیہما کو لکھا کہ آپ، حسین اور علی کے دوسرے ساتھی میرے پاس آئیں، ان کے ساتھ قیس بن سعد بن عباد انصاری بھی چل پڑا۔ یہ لوگ شام پہنچے، معاویہ نے انہیں آنے کی اجازت دی۔ اور ان کے لئے خطباء کو تیار کیا۔ کہنے لگا اے حسن! اٹھ اور بیت کر، آپ اٹھے اور بیعت کرلی، پھر حسین سے کہا: اٹھ اور بیعت کر، پھر کہا: اے قیس! اٹھ اور بیعت کر، میں نے حسین کی طرف دیکھا کہ دیکھوں، وہ کیا حکم دیتے ہیں، تو انہوں نے کہا: اے قیس! یہ میرے امام ہیں، یعنی حسن علیہ السلام.

ملاحظہ فرمائیں: صفحه104 اختيار معرفة الرجال المعروف بـ رجال الكشي - شيخ الطائفة ابي جعفر محمد بن الحسن بن علي الطوسي - مؤسسة النشر الاسلامي التابعة لجماعة المدرسين بقم المشرفة
یونیکود لنک صفحه 325 جلد 01 اختيار معرفة الرجال المعروف بـ رجال الكشي - شيخ الطائفة ابي جعفر محمد بن الحسن بن علي الطوسي - مكتبة الشیعة ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف صلح نہیں بیعت بھی

_________________________________________مصنف ابن ابی شیبہ میں روایت موجود ہے جس میں سیدنا حسنؓ کی سیدنا معاویہ سے بیعت کی تصریح ہے :
حدثنا أبو أسامة قال حدثنا هشام عن أبيه قال: كان قيس بن عبادة مع علي مقدمته , ومعه خمسة آلاف قد حلقوا رءوسهم بعدما مات علي , فلما دخل الحسن في بيعة معاوية أبى قيس أن يدخل , فقال لأصحابه: ما شئتم؟ إن شئتم جالدت بكم أبدا حتى يموت الأعجل , وإن شئتم أخذت لكم أمانا , فقالوا له: خذ لنا أمانا , فأخذ لهم أن لهم كذا وكذا ولا يعاقبوا بشيء ; وإني رجل منهم , ولم يأخذ لنفسه شيئا , فلما ارتحلوا نحو المدينة ومضى بأصحابه جعل ينحر لهم كل يوم جزورا حتى بلغ (مصنف ابن ابی شیبہ، باب الامراء )
ترجمہ :
جناب عروہ سے روایت ہے کہ قیس بن سعد بن عبادہ جناب علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے لشکر کے اگلے حصّے میں رہے تھے، اور ان کے ساتھ پانچ ہزار افراد تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اپنے سروں کو منڈوا لیا تھا،
پس جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت میں داخل ہوگئے تو قیس نے بیعت میں داخل ہونے سے انکار کردیا، پھر اپنے ساتھیوں سے کہا تم کیا چاہتے ہو ؟
اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں لے کر ہمیشہ لڑتا رہوں گا یہاں تک کہ ہم میں سے پہلے مرنے والا مرجائے، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے امان طلب کرلوں، وہ کہنے لگے آپ ہمارے لئے امان طلب کرلیں، چناچہ انہوں نے ان کے لئے کچھ شرائط اور معاوضے کے ساتھ صلح کرلی، اور شرط ٹھہرائی کہ ان کو کسی قسم کی سزا نہ دی جائے ، اور یہ کہا کہ میں ان کا ایک فرد ہوں گا، اور اپنے لئے کوئی شرط نہیں لگائی، جب وہ مدینہ کی طرف اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس چلے تو سارے راستے میں روزانہ ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کرتے رہے یہاں تک کہ مدینہ پہنچ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف صلح نہیں کی تھی بلکہ سیدنا حسن نے سیدنا معاویہ کی بیعت بھی کی تھی

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...