Monday, January 12, 2026

عرب و خانوادہ رسولؐ اسٹیکر کی مختصر توضیح


عرب و خانوادہ رسولؐ اسٹیکر کی مختصر توضیح 

1. حضرت عمر فاروق رضی اللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا " کیا تم جانتے ہو بنو ہاشم میں سے خلیفہ کیوں نہیں بنا ؟ انہیں نے فرمایا: نہیں، آپ بتا دیجئے۔ حضرت عمر فاروق رض نے فرمایا: اس لئے کہ عرب/قریش نہیں چاہتے کہ نبوت و خلافت ایک ہی گھرانے میں رہے۔۔۔۔۔۔

2. حضرت عمر  فاروق رضی عنہ نے از خود فرامین رسولؐ(احادیث) سننے،سنانے،جمع کرنے پہ سخت پابندی عائد کر دی تھی۔ جیسے کہ امت محمدیہ کو معلوم ہے ، پ ص کے سفر آخرت سے دو تین روز پیشتر یہ فرماتے ہوئے کہ کاغذ قلم لاؤ ،میں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں جس پہ عمل کرتے ہوئے تم کبھی گمراہ نہ ہوگے، آپ ص سے کہا گیا: ہمارے لئے قرآن کافی ہے۔۔۔۔۔

3. مولا علی کرم اللہ وجہہ کریم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قرآن جمع کرنے کا اعلان سن کر آپ رض کے پاس اپنا جمع کردہ قرآن لے کر دینے گئے تو ان سے کہا گیا: ہمیں اس(قرآن) کی ضرورت نہیں۔ آپ کرم۔ واپس آ گئے۔ دوبارہ ایسا ہی موقع حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں آیا تو آپ کرم۔ نے اپنے صاحب زادے حضرت محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کو قرآن دے کر دربار خلافت میں بھیجا۔ ان کی پیشکش سن کر ان سے بھی کم و بیش وہی الفاظ کہے گئے جو مولا علی کرم سے کہے گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔

4-5. اسلام میں سب سے پہلے فقہ مرتب کرنے والے حضرت امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ(حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے پڑ پوتے) ہیں۔ انہیں اور ان کی فقہ کو عربوں(بڑی بھاری اکثریت)نے قبول نہیں کیا۔ صرف ان ہی کو و کی نہیں بلکہ امام اعظم ابو حنیفہ رح، امام مالک رح، امام شافعی رح کو/ کی فقہ کو بھی قبول نہیں قبول کیا کہ ان تینوں فقہی ائمہ نے اپنی اپنی فقہ میں،اصول میں، حق اہل بیت اطہار  ع کا بدرجہ اتم خیال رکھا اور عربوں کو ان کے درجے پہ رکھا۔ امام احمد بن حنبل رح نے اس اصول میں تھوڑی تبدیلی کی اور عربوں کے درجات بلند کر کے دکھائے یا ان کی کارگزاریاں کسی قدر چھپائیں،۔ مثلا،  مشازرات صحابہ " کا غیر حق پسندانہ اصول انہوں نے ہی وضع کیا، جس سے عربوں کی کارگزاریوں کے تمام نقائص پردو اخفاء میں چلے جاتے ہیں، یعنی حق دو طرفہ طور پر پوری طرح روشن ہو کر عوام الناس کے سامنے نہیں آتا۔۔۔۔۔۔اس لئے امام حنبل و ان کی فقہ کو عربوں نے کافی یا کسی حد تک  قبول کر لیا۔۔۔۔۔۔ممکن ہے یہ بے بنیاد اصول بلکہ اصول لفظ کی توہین، انہوں نے کسی نیک نیت سے وضع کیا ہو۔مثلا، ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی وفات کے چند سال بعد ہی " ملک عضوض" کے شیعوں نے حضرت امام نسائی (احادیث کی چھ معتبر ترین کتب میں سے ایک کے محدث) کو اتنا مارا پیٹا تھا کہ ان کی موت ہو گئی تھی۔۔۔۔۔خدا دونوں پہ اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔

6. اولیاء اللہ، اسٹیکر  میں صرف عربوں(بڑی بھاری اکثریت) کو اس لئے کہا گیا کہ وہی اس عقیدے کے اصل موجد، ماننے والے،پھیلانے والے ہیں ۔ باقی جو بھی عربوں سے جتنا متاثر ہوتا ہے، اتنا ہی اولیاء اللہ سے بغض و عناد میں بڑھا ہوا ہوتا ہے۔عربوں کے اس عقیدے کے پس پشت  آل رسول کریمؐ سے خصوصی بغض ہے جیسے کہ حضرت عمر رض کے قول سے واضح ہے اور بیشتر  عظیم اولیاء اللہ، آل رسول کریمؐ سے ہیں، مثلا، تصوف کے چاروں بڑے سلسلے غوث پاک حضرت محی الدین عبد القادر جیلانی رح ( سلسلہ قادریہ)،خواجہ معین الدین چشتی رح(؛سلسلہ چشتیہ، چشت افغانستان کے صوبے حیرات میں واقع ایک شہر کا نام ہے، مگر یہ سلسلہ ہی نہیں اسلام، فقہ حنفی  اور موجودہ مسلمانوں کی 80/90% آبادی بھی کم از کم بر صغیر میں حضرت اجمیری و ان کے خلفاء رح  کی جد و جہد  اور کاوشوں کا نتیجہ ہیں)،حضرت سہروردی رح(سلسلہ سہروردیہ)، اور خواجہ نقشبند رح ( سلسلہ نقشبندیہ عالیہ), چاروں بزرگ خانوادہ رسول کریمؐ کے چشم و چراغ ہیں۔۔۔۔۔۔۔ یہی نہیں، عرب چاہتے ہیں کہ روضہ رسول صلی اللہ و عالیہ آلہ وسلم بھی منہدم کر کے زمین برابر کر دی جائے۔

7. چونکہ عربوں کو خانوادہ رسول کریمؐ سے خصوصی بیر رہا ہے سو اولیاء اللہ کی تمام چیزیں بھی نامنظور رہیں خواہ روضے ہوں، درگاہئیں یا  یا شعائر۔۔۔۔۔۔۔

8. حضرت عمر رض کے متذکرہ قول سے یک گونہ یہ بھی واضع ہے کہ عربوں کو فضیلت خانوادہ رسول کریمؐ کبھی منظور نہ ہوئی۔ ایک اور عام مثال: خود نبی کریمؐ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو درود ابراہیمی سکھائی جو نماز میں پڑھنی فرض یا واجب ہے اور تقریر و تحریر کے وقت کے لئے " صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم" پڑھنا لازمی قرار دیا۔ معلوم نہیں کب کس نے مگر غالب گمان ہے کہ عربوں کے " آل رسول کریمؐ " سے بغض و کینے نے " آل " (اخص الخاص حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی اولاد اور علماء کے مطابق،عمومی طور پر امت محمدیہ بھی) کا صیغہ ہی حذف کر/کروادیا۔ کوئی بھی تمام ادیان نو بنو کے مولویوں کی تقریروں و تحریروں میں یہ رجحان عام‌دیکھ سکتا ہے۔  کیوں کہ کم و بیش سب عربوں و ان کے درہم و دینار کے زیر اثر ہیں۔۔۔۔۔۔۔

9۔ ذکر خانوادہ رسول کریمؐ، یہ بھی عام دیکھا جا سکتا ہے کہ جب بھی آل رسول کریمؐ کے تذکرے کا موقع ہوگا، اس میں صحابہ کرام رض کے ذکر کو خصوصی طور پہ داخل کر دیا جائے گا اور صحابہ کا پروگرام ہوگا تو شاز و نادر یا مجبوری میں مولا علی کرم کا سرسری طور پہ ذکر کر کے تیزی سے آگے گزر جائیں گے۔ یا مثلا، خاص محرم کے ایام میں فلاں یا فلاں صحابی کے خصوصی پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔ممبئی میں اس منظر کو آپ مغل مسجد سے آگے واقع تراہے بچوں کی جیل کی دیوار کے سائے  میں ہر سال ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔دیگر شہروں میں بھی ایسے مناظر وافر تعداد میں نظر نواز ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔
10. صحابی رسول کریمؐ حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو محبت علی کرم۔ کے جرم میں " ملک عضوض" نے قتل کرا دیا تھا۔ اس کے پیروکاروں ( ISI ) نے حال ہی میں چھ سات سال ہوئے شام میں واقع ان کے جسد خاکی کو مزار سے نکال کے خدا ہی جانے کیا کیا ؟  یوں بھی آپ دیکھ سکتے ہیں کہ راقم کی فیسبک پنڈ پوسٹ کو فقط 35/36 لائکس میسر آئے حالانکہ یہ 13 دسمبر 2022 سے پنڈ ہے۔ وجہ پہ غور کر لیجئے۔۔۔۔۔۔

11.دونوں خلفأئے راشدین مولا علی کرم۔ و امام حسن سمیت  تمام ائمہ اہل بیت رسول کریمؐ کو عربوں نے قتل کیا۔ بندے کو حضرت زین العابدین رح کے بارے میں صحیح معلومات نہیں۔

اتنے مظالم دنیا کے کسی گھرانے نے اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں نہیں سہے جتنے آل فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا 1445 سال سے سہن کر رہی ہے۔ حقیقی اہل تصوف اور شیعوں کے علاوہ آغاز اسلام سے اس لمحے تک تمام امت محمدیہ ان پر مظالم کے پہاڑ توڑتے ہوئے چلی آ رہی ہے۔ تمام، بلا کس شک و شبہ کے تمام ۔منافقت کے درجہ کمال کے مطابق،فرق تھوڑا کم زیادہ ہو سکتا ہے،مگر جب تک آل رسول کریمؐ کی توہین و تذلیل نہ کر لیں تب تک اپنا خود ساختہ اسلام ہی ثابت نہیں کر سکتے۔
امید ہے بندہ  مختصرا ہی سہی حق بات پہنچانے میں کچھ نہ کچھ کامیاب ہوگا ۔باقی آپ سمجھدار ہیں ۔۔۔۔۔
اللہ بیلی



No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...