Monday, January 12, 2026

بڑے چرچے ہیں ! کیسے معلوم فلاں کام #بدعت ہے؟

بڑے چرچے ہیں  !  کیسے معلوم فلاں کام #بدعت ہے؟                                                                       
حدیث سے۔     مگر ۔۔۔۔۔۔۔.                                 2/1                   
#احادیث-جمع کرنا تو #سب-سے-بڑی-بدعتوں میں سے ایک ہے۔۔۔۔۔ ! میلاد النبیؐ کی خوشی ایک دن، ماہ یا خاص مواقع پہ منائی جاتی ہے، ادھر جیسے ہی کوئی تحریر و تقریر و گفتگو کے دوران حدیث بیان کرتا ہے، فورا  بدعت پہ عمل کرنے کا مرتکب ہو جاتا ہے ! ملاحظہ فرمائے :-  

یہ (میلاد نبیؐ ) روح و روحانیت کا معاملہ ہے ! مادے کے ماہر اسے قرآن و حدیث و آثار میں تلاش نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہ انہیں قرآن و حدیث و آثار سے ہی ثابت بھی کیوں نہ کر دیا جائے، تسلیم نہیں کریں گے، جیسے سائنسدانوں پہ کیاجاتا ہے، نہیں مانتے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پورے عرب کے مرتدوں اور چھوٹےنبیوں نے چین نہیں لینے دیا۔ بعد از سیکڑوں سال سے مستحکم چلی آ رہیں دنیا کی دو سپر پاور شہنشاہیتیں روم اور فارس تمام جنگی ساز و سامان و افواج کے ساتھ دونوں جانب سے نبردآزما ہو گئیں؛ وسائل کی انتہائی کمی کے باوجود ان سے مقابلہ کرنے میں مصروف ہونے نے۔۔۔ان سے قبل 22 سال دشمن اسلام کفار مکہ کی لگاتار سات سات سو  700/700  کلومیٹر کا ریگستانی و پہاڑی سفر طے کر کے بارمبار برسائی گئیں قہر سامانیوں۔۔۔نے، کم مائیگی و بے بضاعتی نے۔ خلفائے راشدین رض کے بعد سو 100 برس کے اندر دین محمدی ص کا کیا حشر کیا گیا ! ! ! :- "  #اب #دور  #رسولؐ کی نماز بھی نہ رہی ! :آپ ص کے خادم خاص حضرت انس بن مالک رض، وصال- 93 ہجری، عمر- زائد از 100 برس۔ ۔۔۔۔۔۔۔  "اب میں عہد نبوی ص کی #نماز #بھی #نہیں پاتا ! " : امام مالک رح، وقات- 176 ہجری، عمر- زائد از 80 سال۔ بخاری کی وحشت-ناک #صحیح روایتوں کے ان الفاظ میں پنہاں معانی و مطالب سے ہر صاحب علم و نظر واقف ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی، انہیں اس کے لئے کسی خاص اہتمام کی بالکل ضرورت نہیں تھی۔ یہ سب ہمیں بدعت کے ذریعے معلوم ہوا۔

مخالفین بدعت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب جو بھی حدیث بیان کرتے ہیں، خواہ اس یا کسی اور موضوع سے متعلق، حضرتِ عمر فاروق رض نے تمام احادیث رسولؐ کے سننے, سنانے, جمع کرنے پہ سخت پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کا روز روشن کی طرح واضح مطلب ہے کہ اصول مخالفین بدعت کے مطابق ، بعد میں کبھی بھی ، کسی کو بھی احادیث رسولؐ ہرگز جمع۔۔۔۔۔ نہیں کرنی چاہئیں تھیں کہ صحابہؓ نے تو نہ صرف جمع نہیں کی تھیں بلکہ حکم امیر المومنین رض کے تحت سننے, سنانے سے بھی باز رہے تھے، الا استثنیٰ۔ یہ بھی ہمیں بدعتیوں کے صدقے سے معلوم ہوا۔ مع صحاح ستہ تمام کتب احادیث میں رقم کردہ کل روایتیں بدعت پہ عمل   کرنے کا ہی نتیجہ ہیں۔ ان وجوہات  کی بنا پر مخالفین بدعت کے اصول کی رو سے انہیں کسی ایک بھی حدیث کو سننے, سنانے، جمع کرنے، عبارت و خطاب و کلام میں بیان کرنے سے قطعاً کوئی واسطہ نہیں ہونا چاہئے۔

طرہ یہ کہ آپ ص کے پردہ فرمانے کے ڈھائی تین سو 300/250  سال بعد ، بدعت کے ذریعے  کشید  کر کے قلمبند کی  گئیں تمام روایتوں کے بارے میں کامل یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ وہی الفاظ ارشاد گرامی ہیں جو آپ ص کی زبان مبارک سے جاری و ساری ہوئے یا کس میں کتنی کمی بیشی ہوئی، جیسے,تواتر کی بنا پہ قرآن و متواتر احادیث کے بارے میں پورے وثوق سے !  آپ ص سے منسوب احادیث پہ ایقان و اعتماد اس لئے کیا (جو جیسی جتنی جس کے نزدیک معقول ہے) جاتا ہے کہ حضرات مؤلفین ( محدثین رح ) نے سخت محنت اور اپنے تئیں پوری ایماندارانہ کوشش سے جمع کردہ منتخبہ و معیاری روایتیں بیان کیں۔ بعد از محققین نے بھی ان پہ خوب کام کیا اور آج تک جاری ہے۔ اس طریقہ کار سے  علم جرح و تعدیل وجود میں آیا، جو علم بدعت کا ہی ایک بچہ ہے۔ یہ بھی ہمیں #بدعت #ایجاد کرنے سے ہی معلوم ہوا۔

غور کیجئے !  ایک ایک محدث کو پانچ پانچ سات سات لاکھ احادیث کے عظیم ذخیرے ازبر، اور لکھیں صرف پانچ پانچ سات سات ہزار ہی  ! ! !  ؟؟؟  یہ بھی ہمیں بدعت کے طفیل ہی معلوم ہوا۔۔۔۔۔۔





بڑے چرچے ہیں۔۔۔۔۔2/2
اگر پھنس گئے ہیں، عربیت سے پنڈ چھڑائے ! عربیت اسلام نہیں ہے۔ اسلام عربیت (جاہلیت) کے خلاف اٹھا تھا۔ دین اسلام رب العالمین و خاتم النبیین رحمت  اللعالؐمین کے کائناتی اصولوں اور مقاصد کے مجموعے کا نام ہے۔ ورنہ %99 امکان ہے، ایسے ہی بن جائیں گے کہ ایک فیصد %01 سچے لوگ بھی اعتبار نہیں کریں گے۔ جیسے محدثین رح نے نہیں کیا اور ایک ایک کر کے عمر بھر کی محنت شاقہ سے جمع کردہ %99 روایتیں دماغ کے نہاں خانوں میں ہی دفن کر دیں۔ یاد رہے !  تمام قابل قبول حدیثوں کے سبھی معزز روات عرب ہیں اور ادھر، محدثین  نے جن %99  یعنی پانچ  5 لاکھ میں سے چار 4 لاکھ پچیانوے 95 ہزار حدیثوں کو  موضوعہ، خود ساختہ،جھوٹی, گھڑی گئیں  اور باطل قرار دے کر دفن کیا، کے تمام روات بھی %200 عرب ہی ہوں گے۔ اور یہ سب بھی ہمیں بدعتیوں کے وسیلے سے ہی معلوم ہوا۔

احادیث کے روات کی روداد کو بڑا انوکھا کارنامہ بتایا جاتا ہے، ( ہے بھی) مگر حقیقت نہیں بتائی جاتی کہ اس کارنامے کے منصہ شہود پہ آنے کی وجہ کیا ہے !  اشارے کر دیئے گئے، #غور و خوض کیجئے !  اصول مخالفین بدعت کے تحت ان کے پاس قرآن کے بعینہ الفاظ پہ عمل کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ انہیں چاہئے کہ تراجم قرآن کے انبار، تفاسیر قرآن کے ذخائر، کتب احادیث و تراجم کے خزینے، فقہ کے دفینے، شروحات کے خزائن، علم کلام کا بحر زخار، فلسفہ و تاریخ کے بھنڈار وغیرہ وغیرہ، سب سےدستبردار ہو جائیں۔ صرف ان علوم و کتب ہی سے کیوں !  ان مسلمانوں سے بھی اعلانیہ برائت کا اظہار کریں جنہوں نے یہ سارے شاہکار تخلیق کئے اور ان سے بھی جو ان پہ بارہ تیرہ سو 1300/1200 سال عمل کرتے رہے۔  یہ سب بدعتیوں اور ان کے ایجاد کردہ علوم بدعت کے ذریعے تخلیقی مراحل سے گزر کے وجود میں آئے شاہکار ہیں ؛  انہیں ہر دور کے بدعتیوں نے اگلے دور کے بدعتیوں کو بحفاظت منتقل کیا، یہاں تک کہ موجودہ بدعتی مسلمانوں کو پہنچایا۔ پس، انہیں  ہرگز بدعتیوں کے شاہکاروں اور علوم بدعت سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے۔ بقول  مخالفین بدعت اور ان کے اپنے اصول کے تحت بی وہ علوم بدعت سے مستفیض ہو کر گمراہی کے راستے پہ چل رہے ہیں جو شرک تک پہنچاتا ہے۔ ان کے اسی اصول کے تحت ان پر علم بدعت و اس کے بطن سے بیدا کی گئی ہر چیز کو یک لخت ٹھوکر مارنا واجب ہے۔ اپنے اس اصول پہ عمل کر کے وہ أمیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حکم کی روز نا-فرمانی کرنے سے ہی نہیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متضاد عمل کرنے سے بھی محفوظ رہیں گے اور ان کی مکمل طور پہ اتباع کرنے کا فریضہ بھی ادا کریں گے۔ بدعت سے پوری طرح پاک صاف ہو کر  شرک کی طرف بڑھ رہے قدموں کو بھی روک لیں گے اور اس کی تمام غلاظتوں سے مصفا و منزہ ہو کر دودھ کے نہیں، نور کے دھلے ہو جائیں گے۔ قوی امید ہے، آج سے ہی، مخالفین بدعت عربی قرآن کے علاوہ تمام پڑھی، سنی حدیثیں اور علوم کسی دوسرے کو پڑھائیں گے نہ پڑھیں گے، سنائیں گے نہ سنیں گے، عرض کریں گے نہ حضور میں پیش کریں گے اور نہ ہی کسی بھی طرح، کبھی بھی، کہیں بھی ثبت کریں گے۔ یہی ان کے ایمان و اعتقاد و اصول کا تقاضا ہے۔ ہاں، خود ان پہ عمل ضرور کر لیں، لیکن آ گے کسی بھی وسیلے سے دوسروں کو ہرگز نہیں پہنچانی چاہئیں۔

  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔    
  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ 
  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ 
  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  
  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔  ۔۔۔۔۔

مخالفین بدعت کو یہ بھی خوب اچھی طرح سمجھ اور یاد رکھ لینا چاہئے کہ ان و ان کے بڑوں کی مانند کم مایہ عقل و علم، فہم و فراست، ادراک و وجدان، شعور و تفکر، متعصبانہ ذہنیت اور ڈیڑھ دو سو سال سے ہی قرآن و حدیث کا مطالعہ نہیں کیا گیا بلکہ اس کے بر عکس چودہ سو ستاون 1457 برس سے سیکڑوں جلیل القدر، وسیع الذہن، کہنہ مشق، ہمہ جہتی علوم کے غواص، سیرت و سنت رسول ص کے پابند بدعتی علماء اور بزرگان دین، رب العالمین و رحمت اللعالؐمین کے آفاقی مقاصد و منشاء و مقتضا-اسلام برائے انسان، حال، ماضی مستقبل ، قوموں کی نفسیات و ضروریات ، دنیا و آخرت کے حالات و واقعات کی روشنی میں قرآن کے ایک ایک نقطے، حرف و لفظ پہ متعدد پہلوؤں سے غور و فکر کرتے رہے، آج بھی کرتے ہیں، آئندہ بھی کرتے رہیں گے اور اسی طریق پہ ہر حدیث کے ہر ہر نقطے، حرف، لفظ، کے معانی و مطالب مقاصد اور محل استعمال پہ بھی.....
نظر ثانی - 22-12-31
                                                                  -المہر خاں     
          You can read here too:-
     Fb page link :-(( the Danka ))
(( https://www.facebook.com/profile.php?id=100065451491487&mibextid=ZbWKwL ))

    Fb page link :-(( Danka news ))     ((https://www.facebook.com/profile.php?id=100087052285886&mibextid=ZbWL ))

 Fb wall link :-(( Al-Miher Khan ))
(( https://www.facebook.com/almiher.khan ))

Twitter link:-(( Al-Miher Khan ))
(( https://twitter.com/miher_al?s=20 ))
(( https://twitter.com/miher_al?t=_6raqMEJLUyTzu0KHcCC5Q&s=07 ))

LinkedIn link:- ((https://lnkd.in/gEUhH5JP ))

 YT  Ch. link :-(( Al-Miher Khan ))
( https://youtube.com/@al-miherkhan5200 )
  In Community Section

.
.
.
کیسی مضحکہ خیز بات ہے ! ! ! دو سو سال سے ہر پچیس 25 پچاس 50 سال بعد بنا نبوت کا دعویٰ کئے کوئی اٹھتا ہے اور گول مول الفاظ میں کہتا ہے کہ جب تک قدیم مسلمان اس کے خود ساختہ نئے دین ، نئے عقائد کو نہیں مانے گا کافر ہے، مشرک ہے، بدعتی ہے، گمراہ ہے، بد دین، بے دین, ناقص مسلمان ہے۔ سوشل میڈیا پہ "کلمہ گو مشرک " کی نئی اصطلاح رائج کر دی گئی ہے۔ نئے نئے کھڑے جا رہے ادیان نو بنو میں داخل ہوئے نو دینیوں کو بتایا جاتا ہے کہ آپ ص کے 12 / 13/ 14 سو سال بعد اس کا / ان کا گھڑا گیا / جا رہا دین ہی دین خدا و رسول ص ہے۔ حالانکہ یہ سب دین رب العالمین و رحمت اللعالمین ص سے دکھاوے کا ہی واسطہ رکھتے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی حقیقی معنی میں نبوت و رسالت کا کام نہیں کرتا۔ کام کرنا تو دور کی بات ہے؛ لگتا ہے،انہیں نبوت و رسالت کے معانی بھی نہیں معلوم یا معلوم ہیں تو اس کے معانی حکومت و اقتدار و عوام الناس پہ تسلط کر لئے ہیں۔ یہ مخلوق و بندگان خدا سے نبی و رسول ص کی سیرت و کردار و سنت کے مطابق عمل کرتے ہیں نہ پاس و لحاظ، الا دکھاوے ۔ سب کا اپنے اپنے طریقے سے ایک ہی آخری مقصد ہے، حکومت یا حکمراں طبقے میں اثر و رسوخ و بندگان خدا پہ تغلب۔ اس پر طرہ یہ کہ سارے کے سارے مدعی ہیں، اور وہ بھی ان کے مقابلے میں جو آغاز اسلام سے آج تک اسی دین رب العالمین و رحمت اللعالمین ص پہ ہزار بارہ سو سال سے عمل پیرا ہیں جو ان کے آبا و اجداد کو کلمہ شہادت پڑھا کے مسلمان بنانے والوں نے بتایا، سمجھایا، سکھایا، پہنچایا، کہ یہی ادیان نو بنو ، ان کے بانین و پیروکار ہی سچے ہیں،تمہارا اسلام و تم جھوٹے۔۔۔۔۔ ! ! ! !  حالانکہ،خود ادیان نو بنو کے بانیوں اور پیروکار ں کے آبا و اجداد بھی انہیں کلمہ گو مشرکوں، کافروں، بدعتیوں،  گمراہوں، بد دینوں ، بے دینوں کے بزرگوں کی مصاحبت اختیار کر کے ہی، اولا ان پہ ایمان لانے کے بعد ہی دین  رب العالمین و رحمت اللعالمین ص میں داخلے کے اہل ہوئے اور ان کے ہاتھ پہ ہی کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام میں داخل بھی۔ حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ دو سو سال میں جتنے بھی دین گھڑے گئے/جا رہے ہیں, سب کی بنیاد ایک  دوسرے  سے نفرت پہ رکھی ہونے کے  علاوہ مشترکہ طور پہ سب کی نفرت کا نشانہ، ہدف، ٹارگیٹ قدیم مسلمان و اسلام ہی ہیں، اہل تصوف (صوفی ، پیر فقیر، درگاہیں،خانقاہیں، مزارات)۔ یہاں تک کہ ان کے دل و دماغ میں قدیم مسلمانوں و اسلام کی قدیم اصطلاحات سے بھی بیر و بغض کے سمندر ہلورے مارتے ہیں۔ اسی پر ہی بس نہیں،انہوں نے اپنی شناخت ایک دوسرے اور قدیم مسلمانوں سے الگ بنانے دکھانے کے لئے ٹوپیوں کرتے پائے جاموں لباسوں کی تراش خراش ہی نہیں رنگ اور پہننے کے طور طریقے بھی مختلف اور خاص کر لئے ہیں ! اس کا صاف و واضح مطلب ہے کہ ہر نئے دین کو ماننے والے خود مانتے/ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ کس فلاں دین نو کے پیروکار ہیں‌۔بر صغیر میں دو سو سال میں گھڑا گیا ہر نیا دین، آج دین رب العالمین و رحمت اللعالمین ص کے مقابلے پہ کھڑا ہے، حیران کن یہ کے اسی کے نام پہ ! ! !

بر صغیر میں دو سو سال قبل اولین دین نو کے بانی نے قدیم سے چلے آ رہے اسلام کے چند عقائد سے انکار و اجتناب کیا اور چند  عقائد میں تبدیلی کر کے نیا دین گھڑا۔ دوسرے آئے، انہوں نے مع فقہ دیگر بہت سے عقائد و قدیم  اسلام سے انکار کر کے نئے دین کی بنیاد رکھی۔چند برس بعد تیسرے آئے انہوں نے  پہلے دو سے ذرا مختلف پالیسی اختیار کی اور خود کو پہلوں سے زیادہ قدیم اسلام و عقائد کے قریب ظاہر کیا مگر قدیم اسلام میں کمی  بیشی خوب کی۔ ان تینوں نے  بر صغیر میں قدیم و حقیقی اسلام پہ احسان یہ کیا تھا  کہ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی سطح پہ قدیم اسلام و عقائد اور  اس کی برگزیدہ ہستیوں یا یوں کہیں کے بر صغیر کے بندگان خدا کو اسلام میں داخل کرنے  والوں سے رشتہ استوار رکھا تھا۔تینوں نے بحث و مباحثوں کے بازار گرم رکھے اور قدیم مسلمانوں کو ہی نو مسلم بنانے کا کام بھی۔ ملت میں ان کا پھیلایا جا رہا تفرقہ و انتشار جاری ہی تھا  کہ چند عشرے بعد چوتھے نے ( ممکن ہے ،ان صاحب  سے پہلے  بھی مزید  بانیین ادیان نو آئے ہوں اور انہوں نے بھی اپنے اپنے دین گھڑے ہوں مگر بندے کو علم نہ ہو)  آ کر قدیم اسلام کو " چنیا بیگم " سے تشبیہات  دی۔ پانچویں آئے انہوں نے برصغیر کے قدیم اسلام کو عربوں کے جدید اسلام کے متوازی  دین قرار دے دیا۔ مگر براہ راست بزرگان  دین کی توہین و تذلیل کرنے سے سب بچتے ر ہے۔ اب، ان سب کے حصے بخرے ہو گئے اور ان میں سے وہ لوگ اٹھے ہیں جو ہر اعتبار سے نئے نئے بالکل نئے دین گھڑ رہے ہیں۔ انہوں نے بر صغیر کے قدیم اسلام و عقائد و بزرگوں  سے پوری طرح کنارہ کش ہو کر نئے ادیان گھڑنے پہ کمر باندھی ہے۔کسی کے نزدیک، اگر مطلب نکلتا ہو، احادیث قرآن کے مساوی تو کسی کے نزدیک مطلب نہ نکلتا ہو تو،صرف قرآن ہی قابل اتباع ہے۔متواتر احادیث،ثقہ تفاسیر،فقہ و دیگر علوم و روایات و اقوال بزرگاں سب ردی کی ٹوکری کے حوالے۔ 

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...