Sunday, January 11, 2026

حوالے،دلیل نبوت ص،عظمت امام حسن و حشر مخفی

حوالے،دلیل نبوت ص،عظمت امام حسن و حشر مخفی
شخص !
1. میرا یہ بیٹا سردار ہے۔۔۔
عمار رض کا قاتل گروہ ۔۔۔
3۔ مولا علی کرم۔۔۔مومن و منافق کی شناخت۔۔۔
اہلبیت ع سے جنگ یا صلح آپ ص سے جنگ و صلح۔۔۔
کٹکھنا شاہ حدیث ،مسند احمد۔۔
______________________________________
1. میرا یہ بیٹا سردار ہے۔۔۔۔۔
  سیدنا ابوبکرہ  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  خطبہ دے رہے تھے کہ سیدنا حسن بن علی  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  آگئے، وہ آکر آپ کے پاس منبر پر چلے گئے، نبی کریم  ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے انہیں اپنے سینے سے لگالیا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا:  میر ایہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کراے گا۔ مسند احمد،12395,صحیح

عن الحسن سمع أبا بكرة : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم على المنبر والحسن إلى جنبه ينظر إلى الناس مرة وإليه مرة ويقول " ابني هذا سيد ولعل الله أن يصلح به بين فئتين من المسلمين ۔
ترجمہ : حضرت حسن بصری رح نے حضرت ابو بکرة رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم منبر پر جلوہ افروز تھے اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کبھی آپ کی طرف دیکھتے اور کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے اور اللہ تعالی اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے گروہ میں صلح کرائے گا ۔ -صحیح بخاری,2704،صحیح۔

۔۔۔۔۔۔حسن بصری نے کہا کہ میں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ حسن رضی اللہ عنہ آئے تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دے گا ۔بخاری،7109،صحیح

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ  ﷺ  کو منبر پر ( خطبہ دیتے ) دیکھا جب کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے ۔ آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی ان کی طرف ۔ آپ فرما رہے تھے :’’ یقیناً میرا یہ بیٹا سردار ہو گا ، قوی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کروائے گا ۔‘‘ نسائی،1411،صحیح۔
___________________________
عمار رض کا قاتل گروہ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ افسوس ! عمار کو ایک باغی جماعت مارے گی ‘ یہ تو انہیں اللہ کی (اطاعت کی)طرف دعوت دے رہا ہو گا لیکن وہ اسے جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے ۔بخاری،2812,صحیح

۔۔۔۔۔۔۔افسوس ! عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔ جسے عمار جنت کی دعوت دیں گے اور وہ جماعت عمار کو جہنم کی دعوت دے رہی ہو گی۔ بخاری،447،صحیح
________________________________
مولا علی کرم۔۔۔مومن و منافق کی شناخت۔۔۔۔۔
حضرت زر بن حبیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا (اور اس سے اناج اور نباتات اگائے) اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا، حضور نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مجھ سے عہد ہے کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا۔ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
مسلم،240/ الحدیث رقم 117 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الدليل علي أن حب الأنصار و علي من الإيمان، 1 / 86، الحديث رقم : 78، و ابن حبان في الصحيح، 15 / 367، الحديث رقم : 6924، والنسائي في السنن الکبري، 5 / 47، الحديث رقم : 8153، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 365، الحديث رقم : 32064، وأبويعلي في المسند، 1 / 250، الحديث رقم : 291، و البزار في المسند، 2 / 182، الحديث رقم : 560، و ابن ابي عاصم في السنة، 2 / 598، الحديث رقم : 1325.
_____________
حضرت مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور روح کو تخلیق کیا ! نبی امی ﷺ نے مجھے بتا دیا تھا کہ ’’ میرے ساتھ مومن کے سوا کوئی محبت نہیں کرے گا اور منافق کے سوا کوئی بغض نہیں رکھے گا ۔‘‘ مسلم، -240۔

اہلبیت کا دشمن جہنمی:
أن رسول الله (صلي الله عليه وآله وسلم) قال : والذي نفسي بيده لا يبغضنا أهل البيت رجل إلا أدخله الله النار .

صحيح ابن حبان ، ج15 ص435 .

رسول خدا ( صلي الله عليه وآله وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کی قبضہ قدرت میں میری جان ہے ،کوئی بھی ہم اھل بیت سے دشمنی کرئے تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔   
حاكم نيشابوري نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے  :
هذا حديث صحيح علي شرط مسلم ولم يخرجاه .
المستدرك: ج3 ص162، تحقيق: مصطفي عبد القادر عطا، ط1 سنة 1990، دار الكتب العلمية - بيروت .
یہ روایت صحیح مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے لیکن بخاری اور مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا ہے  .
 الباني جو عصر حاضر کے وہابی علماء میں سے ہے ،انہوں نے اس روایت کو اپنی کتاب "سلسله احاديث صحيحه" میں نقل کیا ہے .
السلسلة ، ج5 ص643، مكتبة الم عارف - الرياض .

____________________________________

اہلبیت ع سے جنگ یا صلح آپ ص سے جنگ و صلح۔۔۔۔۔
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنھم سے فرمایا : تم جس سے لڑو گے میں اُس کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں اور جس سے تم صلح کرنے والے ہو میں بھی اُس سے صلح کرنے والا ہوں۔‘‘ اسے امام ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
الحديث رقم 51 : أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : المناقب عن رسول الله ﷺ، باب : فضل فاطمة بنت محمد ﷺ،ج 5 /ص 699، الرقم : 3870، وابن ماجة في السنن، المقدمة، باب : فضل الحسن والحسين ابنَي عَلِيِّ بْنِ أبي طالِبٍ رضي الله عنهم، 1 / 52، الرقم : 145، والحاکم في المستدرک، 3 / 161، الرقم : 4714، والطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 182، الرقم : 5015، وفي المعجم الکبير، 3 / 40، الرقم : 2620، والصيداوي في معجم الشيوخ، 1 / 133، الرقم :85.

صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے حضرتِ سیِّدُنا  علی، حضرتِ سیِّدتُنافاطمہ، حضرتِ سیِّدُنا حسن اور حضرتِ سیِّدُناحسین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمم کے بارے میں   فرمایا :   ’’ جو اِن سے جنگ کرے گا میں اس سے جنگ کروں گا اور جو اِن سے صُلح رکھے گا میں اُس سے صُلح رکھوں   گا ۔  ‘‘  (سُنَنُ التِّرْمِذِیّ  ج۵۵ 55،ص۴۶۵ 465،حدیث ۳۸۹۶3896 )

__________________________________
کٹکھنا شاہ حدیث ،مسند احمد۔۔۔۔۔
قال رسول الله صلى الله علیه وسلم: تكون النبوة فیكم ما شاء الله أن تكون، ثم یرفعها إذا شاء أن یرفعها. ثم تكون خلافة على منهاج النبوة، فتكون ما شاء الله أن تكون ثم یرفعها إذا شاء الله أن یرفعها. ثم تكون مُلكا عاضا، فیكون ما شاء الله أن یكون، ثم یرفعها إذا شاء أن یرفعها. ثم تكون ملكا جبریة، فتكون ما شاء الله أن تكون، ثم یرفعها إذا شاء أن یرفعها. ثم تكون خلافة على منهاج النبوة، ثم سكت.

اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے درمیان اس وقت تک نبوت باقی رہے گی جب تک اللہ چاہے گا اور پھر جب اللہ کی منشا ہوگی وہ نبوت کو اٹھالے گا۔ پھر نبوت کے منہج پر خلافت قائم ہوگی اور اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہے۔ پھر اللہ جب چاہے گا اس کو بھی اٹھالے گا۔ پھر  کٹکھنی بادشاہت ہوگی جب تک اللہ چاہے پھر جب اللہ چاہے گا اس کو بھی اٹھالے گا۔ پھر  جابر و مستبد  شاہ ہوں گے جب تک اللہ چاہے۔ پھر جب اللہ چاہے گا اس کو بھی اٹھالے گا۔ پھر نبوت کے منہج پر خلافت قائم ہوگی۔ پھر آپ خاموش ہوگئے۔

۔ (۱۲۰۳۴/12034)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ، قَالَ: کُنَّا قُعُوْدًا فِیْ الْمَسْجِدِ۔ وَکَانَ بَشِیْرٌ رَجُلاً یَکُفُّ حَدِیْثَہٗ۔ فَجَائَ أَبُوْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ، فَقَالَ: یَابَشِیْرُ بْنُ سَعْدٍ! أَتَحْفَظُ حَدِیْثَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  فِیْ الْأَمْرِ، فَقَالَ حُذَیْفَۃُ: أَنَا أَحْفَظُ خُطْبَتَہٗ فَجَلَسَ أَبُوْ ثَعْلَبَۃَ، قَالَ حُذَیْفَۃُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَکُوْنُ النُّبُوَّۃُ فِیْکُمْ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا اللّٰہُ إِذَا شَائَ أَنْ یَّرْفَعَھَاَ، ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّۃِ فِیْکُمْ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَائَ أَنْ یَّرْفَعَھَا، ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا عَاضًّا فَتَکُوْنُ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَّرْفَعَھَا ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا جَبْرِیًّا، فَتَکُوْنُ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ، ثُمَّ یَرْفَعُھَا إِذَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَّرْفَعَھَا، ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النُّبُوَّۃِ، ثُمَّ سَکَتَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۹۶)

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...