حضرت شیخ بہاؤ الدین انصاری قادری جنیدی شطاری حسینی رح
حضرت شیخ بہاء الدین رضی اللّٰه عنہ اپنے رسالۂ شطاریہ میں تحریر فرماتے ہیں: کہ خداوند قدوس تک رسائی کے طریقے مخلوق کے انفاس کے برابر ہیں یعنی بہت ہیں۔ ان سارے طریقوں میں تین طریقے زیادہ مشہور و معروف ہیں۔
پہلا طریقہ : اخیار کاہے اور وہ نماز، روزہ، تلاوتِ قرآن مجید، حج اور جہاد ہے۔ اس طریقے پر چلنے والے طویل سفر طے کرنے کے باوجود بہت کم ہی منزلِ مقصود تک پہنچتے ہیں۔
دوسرا طریقہ: اس میں اخلاقِ ذمیمہ کی تبدیلی، تزکیۂ نفس، تصفیہ دل اور جلائے روح کے لیے مجاہدات و ریاضت کیے جاتے ہیں۔اس راستے سے منزل مقصود تک پہنچنے والوں کی تعداد پہلے طریقہ کی بنسبت زیادہ ہے۔
تیسرا طریقہ: شطاریہ ہے۔ اس طریقہ پر چلنے والے ابتدا ہی میں ان منازل سے آگے نکل جاتے ہیں جن پر دوسرے طریقوں کی بنسبت زیادہ عمدہ اور تقرب الی اللہ کے اعتبار سے زیادہ قریب ہے۔[1]
۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment