Wednesday, January 14, 2026

سیّدوسادات مضمون مع راقم کا کامنٹ


سیّدوسادات مضمون مع راقم کا کامنٹ

اسلام میں نسل یا قومیت کی بنا پر کسی کو امتیازی حیثیت حاصل نہیں ہاں اگر الله کی نظر میں کسی کی اہمیت ہے تو اسکے تقوے کی بنا پر ۔۔👇👇
"اے انسانو ! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد وعورت سے پیدا کیا ہے اور تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیئے ہیں،
اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو ۔(لیکن) بےشک اللہ کے نزدیک تم سب میں زیادہ باعزت وه ہے جو متقی (زیاده ڈرنے واﻻ پرہیز گار) ہے۔ یقین مانو کہ اللہ دانا اور باخبر ہے
49-Al-Hujurat : 13
اور نبی صلی الله عليه وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر طواف کعبہ کے بعد تقریر کی اور فرمایا :
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے تم سے جاہلیت کا عیب اور اپنے باپ دادا پر فخر کو ختم کر دیا ہے،  لوگو انسان دو ہی گروہ میں تقسیم ہوتے ہیں ۔مومن اور پرہیز گار جو کہ الله کی نگاہ میں عزت والا ہے،،، اور دوسرا فاجر و شقی جو الله کی نگاہ میں ذلیل ہے ۔ورنہ تو سارے انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے ہیں“۔
(جامع ترمذی :کتاب المناقب)
حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا :
"لوگو!  آگاہ رہو کہ تم سب کا رب ایک ہی ہے، کسی عربی کو عجمی اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقوے کی وجہ سے،، اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے ۔"
قرآن وحدیث کی ان واضح تعلیمات کے باوجود، خود کو مسلمان کہلانے والوں میں جاہلیت کے دور کی طرح نسلی اور خاندانی بنیاد پر بڑائی اور دوسروں سے برتر ہونے کی گمراہی پائی جاتی ہے ۔ بڑائی کا یہ جاہلانہ تصور ایک وبا کی طرح پھیلا ہوا ہے ۔اور خاص طور سے برصغیر کے مسلمانوں میں تو ذات پات کی تفریق ہندوؤں سے کسی طرح کم نہیں ۔ہندوؤں میں "برہمن" سب سے اونچی ذات سمجھی جاتی ہے تو مسلمان کہلانے والوں میں "سید ذات" کا مقام سب سے اونچا قرار دیا جاتا ہے ۔سید کہلانے والوں کو دوسرے لوگوں سے اونچا اور برتر سمجھا جاتا ہے، اس لیے کہ یہ آلِ رسولؐ ہیں، بخشے بخشائے ہیں، جنت ان کے لیے ہے، یہ جہنم میں نہیں جا سکتے، دنیا میں بھی اگر سید آگ میں ہاتھ ڈالے تو نہیں جلے گا ۔۔۔۔۔۔ حتی کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سید اور غیر سید کا نکاح بھی نہیں ہو سکتا ۔اور اگر کسی کے ماں اور باپ دونوں سید ہوں تو اسے نجیب الطرفین کہا جاتا ہے ۔
کچھ لوگ تو اپنے سید ہونے کا رعب ڈالکر لوگوں کا مال لوٹتے ہیں، نذرانے وصول کرتے ہیں، آبروئیں بھی برباد کرتے ہیں ۔
حالانکہ یاد رکھیے کہ!
سید نہ تو کسی قوم کانام ہے نہ خاندان اور نہ ہی قبیلے کا ۔بلکہ یہ سردار، اور قوم کے بڑے کے لیئے استعمال ہونے والا ایک لفظ ہے چاہے وہ سردار کافر ہو یا مومن
سید کا دعویٰ کرنے والے یہ بتائیں کہ سید خاندان شروع کس انسان سے ہوتا ہے؟؟ سب انسانوں کا نسب تو ایک ہی باپ آدم علیہ السلام تک پہنچتا ہے ۔چاہیے تو یہ کہ پھر سارے ہی سید ہوں۔ اللہ سب انسانوں کا رب ہے، سب اسکی نگاہ میں برابر ہیں، محض نام و نسب کی بنا پر کوئی بھی نجات نہیں پاسکتا ورنہ نبیوں کے باپ، چچا، بیٹے، اور بیویاں اپنے کفروشرک کی بنا پر جہنم میں نہ جاتے بلکہ نبیوں کی نسبت رکھنے کی وجہ سے اللہ کے قہر سے بچ جاتے۔
اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ کے نبیۖ نے اسلام کے آغاز میں ہی اعلان کردیا:
"اے بنی عبد مناف! اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لو۔ اے زبیر بن عوام کی والدہ! رسول کی پھوپھی! اے فاطمہ بنت محمدۖ! اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لو۔میں تمہارے لئے اللہ کی بارگاہ میں کچھ کام نہیں آ سکتا ۔تم میرے مال میں سے جتنا چاہے مانگ لو۔"
(صحیح بخاری :کتاب الانبیاء )
اور یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ نبیۖ نے تو اپنے خاندان والوں کو صدقہ کھانے سے بھی منع فرما دیا تھا تاکہ اس بات میں شبہ تک نہ رہ جائے کہ انہوں نے دین پھیلانے کی کسی بھی قسم کی کوئی اجرت وصول کی جبکہ آج سید کہلانے والوں کی اکثریت کا کام آل نبی ہونے کے دعوے کی بنا پر مال، تحائف وصول کرنا ہے ۔
اب ہم عربی کے لفظ "سید" کے بارے میں آپکو بتائیں گے کہ اس سے کیا مراد ہے ؟
سیّدوسادات

سید ایک عربی لفظ ہے جسکا اردو ترجمہ "سردار" یا "بڑا"، ہوتا ہے ۔ چاہے کسی بھی قوم کا سردار ہو، کافر ہو یا مومن ، اسے عربی میں سید ہی کہیں گے ۔ عربی لغات میں سید کا ترجمہ۔۔۔۔👇
اَلسَّیِّدُ۔ رئیس*(تاج)۔(صاحب سودا۔جس کے ساتھ بہت سی جماعت ہو)۔
بادشاہ۔ آقا۔ شوہر۔
اَلسِّیَادَۃُ۔ سرداری۔ اَلْاَسْوَدُ مِنَ الْقَوْمِ۔ قوم کا سب سے بڑاا ور جلیل المرتبہ آدمی۔ بزرگِ قوم*(تاج)۔

قرآن و حدیث میں لفظ سید کا استعمال ان مطالب کو واضح طور پر بیان کرتا، ہے ۔آپ کے لیے چند احادیث اور آیات درج ذیل ہیں ۔

📖قرآن میں اس لفظ "سید" کا استعمال بمعنی سردار اور شوہر کے ہوا ہے :
مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِين
"وہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرنے واﻻ، سردار اور پاکباز نبی اور صالحین میں سے ہوگا "۔
3-Al Imran : 39
وَ قَدَّتۡ قَمِیۡصَہٗ مِنۡ دُبُرٍ وَّ اَلۡفَیَا سَیِّدَہَا لَدَا الۡبَابِ ؕ
"اس عورت نے یوسف کا کرتہ پیچھے کی طرف سے کھینچ کر پھاڑ ڈالا اور دروازے کے پاس ہی عورت کا سید  (شوہر) دونوں کو مل گیا،
12-Yousaf : 25

📓اب دیکھیے احادیث میں "سید" کا استعمال مسلمانوں کے لیے:

بلال ابن رباح رضی اللہ عنہ نبیۖ کے صحابہؓ میں نمایاں مقام رکھتے تھے ۔اور نبیۖ اور صحابہؓ ان کی بہت عزت کرتے تھے ،نام ونسب کی وجہ سے نہیں کیونکہ وہ تو حبشی اور غلام تھے، بلکہ انکے اعمال اور عمل کی وجہ سے ۔اور عمر فاروق اسی لیے ان کو اپنا سردار بھی کہتے تھے۔۔
Sahih Bukhari Hadees # 3754
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ عُمَرُ،‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ ""أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا""يَعْنِي:‏‏‏‏ بِلَالًا..
"ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سید (سردار) ہیں اور انہوں نے ہمارے سید (سردار) یعنی بلال رضی اللہ عنہ کو آزاد کرایا ہے۔"
نبیۖ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کا نام خلافت کے لیے تجویز کرنے کے بعد ابو بکر صدیق رض کے لیے فرمایا:
" بَلْ نُبَايِعُكَ أَنْتَ فَأَنْتَ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا،‏‏‏‏ وَأَحَبُّنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَأَخَذَ عُمَرُ بِيَدِهِ فَبَايَعَهُ وَبَايَعَهُ النَّاسُ،"
"نہیں ہم آپ کی ہی بیعت کریں گے۔ کیونکہ آپ ہمارے سید (سردار) ہیں، ہم میں سب سے بہتر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آپ ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں۔"
(صحیح بخاری :کتاب فضائل اصحاب النبی)
ایک موقع پر سعد بن عبادہ نے نبیۖ کے سامنے کوئی بات کہی تو نبیؐ نے صحابہؓ سے فرمایا:
"اِسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ "‏  ‏.‏
"رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا ( اور صحابہ سے ) سنو تمہارے سید (سردار) کیا کہتے ہیں"۔
(صحیح بخاری :کتاب الاستئذان)
یہ نبیؐ نے سعد بن عبادہ کے نسب کی بنا پر ان کو سید نہیں کہا بلکہ انصار قبیلے "اوس" کے سردار ہونے کی بنا پر ان کے لیے سید کا لفظ استعمال کیا ۔
نبیؐ نے ایک بار حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے لئے فرمایا:
"وَيَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ"".
"اور کہا! میرا یہ بیٹا سید (سردار) ہے اور شاید اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔"
حسن رضی اللہ عنہ کو نبیۖ نے ذات والا سید قرار نہیں دیا بلکہ آئندہ ہونے والے ایک واقعے کی خبر دیتے ہوئے ان کے لیے عزت والا لفظ استعمال کیا ۔

📓"سید" لفظ کا استعمال کافروں کے لیے:
ابو سفیان کفر کی حالت میں صلح حدیبیہ کی تجدید کے لیے جب مدینہ آئے تو سلمان، صہیب اور بلال رضی اللہ عنہما نے انہیں دیکھ کر کہا کہ کیا الله کے دشمن کی گردن سے اللہ کی تلواروں نے اپنا حق وصول نہیں کیا؟ تو ابو بکر رض نے ان صحابہؓ سے کہا:
"أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ؟
"تم لوگ قریش کے شیخ اور سردار کے متعلق ایسی بات کہتے ہو"۔
(مسلم:کتاب فضائل صحابہ)
کیا ابوسفیان کسی سید قوم سے تعلق رکھتے تھے؟
ایک بار سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عمرہ کرنے گئے تو ان کی ابوجہل سے تلخ کلامی ہونے لگی تو امیہ بن خلف نے سعد رض سے کہا:

"لَا تَرْفَعْ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ فَإِنَّهُ سَيِّدُ أَهْلِ الْوَادِي،"
"ابوالحکم ( ابوجہل ) کے سامنے اونچی آواز سے نہ بولو۔ وہ اس وادی ( مکہ ) کا سید (سردار) ہے۔"
اسی طرح ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا مشہور واقعہ ہے کہ جب وہ صحابہ کی جماعت کے ساتھ سفر پر تھے تو ایک قبیلے والوں کے پاس پہنچے اور ان سے مہمان نوازی کا کہا تو انہوں نے انکار کردیا اس کے بعد ۔۔۔
"‏‏‏‏‏‏فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِكَ الْحَيِّ،
"پھر قبیلہ کے سید (سردار) کو بچھو نے کاٹ لیا ہے "۔
(صحیح بخاری:کتاب الاجارہ)
یعنی کافروں کے قبیلے کا سردار بھی انکا سید تھا، ذات کا سید نہیں ۔
احادیث تو بےشمار ہیں آخر میں آپ کے لیے اسامہ بن زید کی روایت پیش خدمت ہے جو بخاری :کتاب الادب میں موجود ہے ۔
"فلما غرا رسول اللہ صلی الله عليه وسلم بدرا فقتل اللہ بھا من قتل من صنادید الکفار وسادۃ قریش"
"پھر جب رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے غزوہ بدر کیا اور اس میں قریش کے کئ عمائد و سید (سردار) قتل ہوئے۔۔۔۔۔"۔
معلوم ہوا کہ قتل ہونے والے ذات کے سید نہیں بلکہ "سادۃ قریش" بمعنی "قریش کے سردار" تھے ۔
امید ہے کہ آپ سب پر سید لفظ کی حقیقت ظاہر ہوچکی ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں جاہلیت کی باتوں اور کاموں سے بچائے۔
کاپی..

سید کون ؟

کیا بات ہے !
وہ اصحاب کساء نہیں، مسلمانوں کے پورے مذہبی اور تاریخی لٹریچر میں #سید فقط اصحاب کساء اور ان کی ذریت کو ہی کہا گیا ہے۔ کون سی کتابیں پڑھتے ہو !
کبھی کہیں پڑھا سنا کہ سید بکر عمرو  و عاص و زید و خالد ؟ تلاش کرو ، کہیں نہیں ملے گا .

This title only for Banu Fatima salam...
Not for any other wives of Ali karam....

مولی علی کرم۔ کی دیگر ازواج کی اولادیں علوی لکھتی/ کہلاتی ہیں۔ جو نہیں لکھتے وہ بھی خود کو علوی بتاتے ہیں، نہ کہ سید یا فاطمی یا آل رسول ص۔ عقیل کی اولاد کی تو بات ہی کیا، عباس و جعفر کی اولاد کے ناموں کے ساتھ بھی تاریخ کے کسی کونے کھدرے میں بھی ایک ایسا عباسی نہیں ملے گا جس نے خود کو یا کسی اور نے کسی عباسی کو سید لکھا بتایا ہو۔
الا " ملک عضوض " کے بنائے ہووں کے، جس نے آل فاطمہ یعنی آل رسول ص کی ( نعوذ باللہ) توہین و۔۔۔۔کرنے کے لئے اور مسلمانوں کو ان کے تعلق سے شک میں مبتلا کرنے کے لئے نقلی سید بنا بنا کے پھیلائے تھے۔

عربوں میں تیل نکلے کے بعد سے عضوضی/ناصبی بڑے سرگرم ہیں، لوگ انہیں کے جعل میں پھنس رہے ہیں۔

ویسے، قیامت بھی آنی ہے، اور وہ تب تک نہیں آ سکتی، جب تک لوگ حق کو باطل اور باطل کو حق نہ ماننے لگیں گے۔ تمام بندگان خدا (علاوہ اہل ایمان،) آہستہ آہستہ ہی اس منزل پہ پہنچیں گے، ابھی تو سفر شروع ہوئے ستر اسی یا سو سال ہی  ہوئے ہیں۔

احادیث متواترہ حدیث ثقلین کے تمام طریق سامنے رکھ کے غور کرو !







جی، چار سطری پیراگراف کا آخری جملہ غالبا اس طرح ہونا چاہے۔ باقی اہل بیت رسول ص کو ہاشمی یا قریشی کہتے ہیں۔ سید فقط حضرات ائمہ حسنین کریمین علیھم السلام کی اولاد کو ہی پکارا جاتا ہے۔ اور امت محمدیہ کے امت امویہ میں تبدیل ہونے تک پکارا جاتا رہے گا۔ ہاں، جیسے جیسے اموی مشن کے کارندے( خواہ وہ دانستہ بنے ہوں یا انجانے میں) امت محمدیہ کو مختلف طریقوں سے امت امویہ میں بدلتے جائیں گے ( جا رہے ہیں) ویسے ویسے سیدوں کو متعدد طریقوں سے تنقید و تنقیص و تذلیل و توہین کا نشانہ بنا بنا کر انہیں سید نہ لکھنے، بتانے پہ مجبور کیا جاتا رہے گا۔اور پھر وہ دور بھی آئے گا جب #بظاہر کرہ عرض پہ کوئی بھی سید نہ رہے گا‌۔ اللہ تمام اصیلوں کو حقیقی ایمان پہ قائم رکھے۔








در اصل ہماری ( جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کی) اپنی روایات و تاریخ اس قدر معتبر، پختہ اور طویل ہیں کہ ہمیں اسلام کے تعلق سے #الف کے بارے میں جاننے  کے لئے بھی جنوبی ایشیاء سے باہر کچھ بھی ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اگر ضرورت پڑ ہی جائے تو بطور سنی حنفی ترکوں کی مذہبی روایت ہماری روایات سے لگا کھاتی ہیں نہ کہ عربوں کی‌۔ وہ آپ ص کے پردہ فرماتے ہی 95% مرتد ہو گئے تھے، سو نا قابل اعتبار رہے۔ اسی لئے انہیں حقارت سے دور سلطنت و دور بادشاہت میں، سوس خور کہتے تھے۔

مولانا شوکت علی رح نے اسی لئے آل سعود کو حجاز کی حکومت سپرد کرنے سے پہلے انگریزوں سے خصوصی ملاقات کر کے گزارش کی تھی کہ مکہ و مدینہ کا مقدس خطہ آل سعود کو نہ دیا جائے۔ اس کے لئے عالم اسلام کے تمام ممالک کے نمائندوں پہ مبنی کوئی نظام تشکیل کر کے،اس کے کارندوں کے سپرد کیا جائے۔ ہماری بد قسمتی کہ ایسا نہ ہو سکا۔ خیر خدا قادر مطلق ہے، بہتر جانتا ہے۔

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...