اہل بیت کے بارے میں ایک پوسٹ کے جواب میں!!
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاندان یا صحابہ یا کسی اور گروہ کی ترویج کے لیے تشریف لائے تو پھر اس سے باہر کوئی کیوں اسلام قبول کرے؟
اگر کوئی ثابت کر دے تو میں بلا تاخیر اسلام چھوڑ دوں گا۔
وہ PUBH رحمت اللعالمین تھے، اکیلے اپنے خاندان یا دوستوں کے لیے نہیں۔
عارف اسلام۔
IN RESPONSE TO A POST ABOUT AHL E BAIT!!
If the exalted Prophet pbuh came to promote his family or Sahaba or any other group , then why should anyone outside it embrace Islam????
If anyone proves it , I would, without delay immediately leave Islam.
He PUBH was Rahmatul Lil Aalamin , not for his family or friends alone.
Arif Islam .
अहल-ए-बैत के बारे में एक पोस्ट के जवाब में!!
अगर महान पैगंबर मुहम्मद साहब अपने परिवार या सहाबा या किसी अन्य समूह को बढ़ावा देने के लिए आए थे, तो इसके बाहर किसी को इस्लाम क्यों अपनाना चाहिए????
अगर कोई यह साबित कर दे, तो मैं बिना देर किए तुरंत इस्लाम छोड़ दूंगा।
वह रहमतुल लिल आलमीन थे, न कि केवल अपने परिवार या दोस्तों के लिए।
आरिफ इस्लाम।
حاضرین اکرام متوجہ ہوں !
آنجناب کا کہنا ہے کہ یہ ابھی فورا اسلام چھوڑ دیں گے اگر ان کی فلاں فلاں بات کے جواب دے دیئے گئے۔
اس بارے میں سب سے پہلے عرض ہے کہ اگر آنجناب بندے کی طرح اسلام پہ عمل کریں اور بندے کے نظریات کو آگے بھی بڑھائیں تو ہی کسی کام کے ہیں، ورنہ چھوڑیں یا رہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان جسے دو، دس، دس ہزار،دس لاکھ، دس کروڑ یا زیادہ ہوں تو بھی اور ایک یا دس کروڑ کم یا زیادہ ہو جائیں تو بھی۔بندے کو ہی نہیں کسی کو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جس طرح پڑتا ہے، اس کے یہ قائل ہی نہیں۔
قرآن سے جواب چاہتے ہیں تو قرآن نماز قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ اب جس طرح نماز پڑھتے ہوں گے،انہیں قرآن نے تو ہرگز نہیں سکھائی تھی کہ وہ سکھا ہی نہیں سکتا، سکھانا تو چھوڑئے وہ بتا بھی نہیں سکتا، سمجھانا سکھانا تو دور کی بات ہے۔ بتاتا، سکھاتا، سمجھاتا صرف انسان ہے۔ مولویوں اور صوفیوں کو یہ مانتے نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نماز قائم نہیں کرتے ہوں گے۔ اگر کسی انسان نے سکھائی تھی تو انہیں وہ طریقہ قبول نہیں کرنا چاہئے کہ قرآن میں صلاۃ قائم کرنے کی تفصیل نہیں ہے۔ ان کے اصول کے مطابق کسی انسان کی بات نہیں ماننی چاہئے، خواہ عالم دین ہی کیوں نہ ہو۔ اگر یہ کہتے ہیں کہ عالم دین کی ہی نہیں ماننی چاہئے تو کس سمندر میں غرق ہیں، سمجھا جا سکتا۔ پھر انہیں قرآن کی ترتیب اور قرآن کو بھی نہیں ماننا چاہئے کہ یہ صوفیوں اور مولویوں کے ذریعے ہی ان تک پہنچا۔ پڑھنا بھی نہیں چاہئے کہ طباعت کے وقت کی اس سے متعلق بیشتر اہم ترین ذمےداریاں ادا کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔ پہلے مرحلے سے پروف ریڈنگ تک۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment