بریلویوں نے اس نکتہ نظر پہ قبضہ ضرور کر لیا، وگرنہ تمام نو سنی نو ناصبی اپنے مدسروں میں اسی نکتہ نظر کے مطابق تعلیم دیتے اور تقاریر کرتے ہیں۔
ابھی چند منٹ قبل خانہ کھاتے ہوئے، ایک پاکستانی مرحوم صوفی کی تقریر سن رہا تھا۔ کسی نے سوال کیا تو جواب تھا: کافر ( و مشرک ) سے دوستی نہیں کرنی چاہئے۔
یعنی اس کا سب سے پہلا مطلب یہ ہے کہ مولویوں کو اسلام پہ اعتبار ہے نہ اپنی تربیت پہ اور نہ ہی مسلمانوں پہ۔ پاکستان کے حالات مولویوں نے ایسے بنا دیئے ہیں کہ آپ کسی کافر کے دل و دماغ میں مسلمانوں اور اسلام کے تعلق سے جو نفرت بھری گئی، اسے نکال سکتے ہیں نہ نرم گوشۂ پیدا کر سکتے ہیں۔ خدا سے اسے ہدایت دینے کی دعا کے ساتھ اپنے برتاؤ سے مسلمان کرنے کی سعی کرنے کے بارے میں سوجنا تو دور کی بات ہے۔ مزید یہ کہ جو نا مسلم نفرت نہیں کرتا،وہ بھی نفرت سے بھر جائے۔ اور مزید در مزید یہ کہ مسلمان( مولوی) ہرگز نہیں چاہتے کہ اب کوئی قوم ،ذات برادری یا فرد مسلمان ہو ۔۔۔ سو یہ صرف بریلویوں کی روش نہیں ہے۔
آپ نائک یا دوسروں کے ذریعے مسلمان کرنے کی بات کہہ سکتے ہیں۔اس سلسلے میں دو تین باتیں عرض ہیں۔ پہلی، انہیں مکاری سے مسلمان کیا جاتا ہے۔ دوسری، وہ مسلمان ہو گئے، مگر جنہوں نے انہیں مسلمان بنایا ناصبی مسلمان بنایا اور حالات کے مطابق ان کی نسلوں کے بارے میں اسی نہج پہ غور کریں تو ان کی نسلوں کا امام مہدی ع کو قتل کرنے کی نیت سے سفیانی کے لشکر میں شامل ہو جانے کا قوی سے قوی تر نہیں، یقینی امکان ہے۔ پلس اصیل مسلمانوں اور ان کی نسلوں کے اسلام، ایمان و جان کے لئے خطرات بڑھتے جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔جیسے Zionist نے اصلی یہود و یہودیت کو خطرے میں ڈالا ہوا ہے۔
جب بھی دو سو سال میں پیدہ ہوئے مولویوں کے حجروں میں بیٹھ کے گھڑے گئے یا جا رہے مسالک و مکاتب کے تعلق سے گفتگو کریں یا غور و فکر، امام مہدی ع کے تنہا یا چند ساتھیوں کے ساتھ رات کو مدینے سے مکے کی طرف ہجرت کرنے کے منظر نامے کو ذہن میں رکھا کریں۔
چند نفوس کو چھوڑ کر پورا مدینہ مثنی محمد ص امام مہدی ع کے خلاف ہوگا۔۔۔۔۔
راقم ذاتی طور پہ ایک نو مسلم کو جانتا (جوانی میں ہی انتقال کر گیا) تھا۔ جو بچپن سے دوستوں کے ساتھ مزاروں پہ جانے کی وجہ سے مسلمان ہوا تھا۔ بعد میں وہ بریلوی بن گیا،چند سال بعد دیوبندی اور انتقال کرتے وقت اہل حدیث تھا۔ خدا اس کی مغفرت فرمائے اور اسے ورغلانے والوں کو سزائے شدید دے۔
وہ تو انتقال کر گیا مگر کل یا پرسوں ایک نو مسلم کو اللہ یاری سے گفتگو کرتے ہوئے ( آپ بھی چاہئیں تو سن و دیکھ سکتے ہیں) سنا، وہ پہلے سنی مسلمان ہوا ( کون سا سنی؟ معلوم نہیں ) ، پھر شعہ ہو گیا اور اب منکرین حدیث ہے۔ اس کے یا اس کے بچوں کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں سوچا جا سکتا کہ کل وہ کیا ہو گا۔ امکان: ( خدا اس پر رحم کرے) ملحد ہونے کا امکان ہی بچا ہے۔ جیسے کہ یوٹیوب پہ ایک Sachwala نامی روپوش شخص کو سن کر بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جدی دین چھوڑنے والوں یا ان کی نسلوں کا آخری ٹھکانا ( سفیانی کے امام مہدی ع کو قتل کرنے کے لئے لشکر لے کر نکلنے سے قبل) الحاد ہونے کا، مسلمان رہنے سے زیادہ قوی امکان ہے۔
جس نے عقائد بدلے کب دین بدل لے، بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
خیر، یہ شری مان کلکی پیٹھ ادھیشور جی، چشتی صوفیاء اور شعہ حضرات کی مشترکہ مصابحت کا پروڈکٹ ہیں ، ظاہر ہے وہ گیانی ہیں اس تعلق سے اپنی کتابیں بھی پڑھیں ہوں گی۔
مولوی اپنی ایسی کتابوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں ؟
چھوٹا سا ویڈیو کلپ ملاحظہ فرمائیں :
https://www.facebook.com/share/v/VwAyxV7habsvoKwz/?mibextid=D5vuiz
راقم نے " مدارج النبوت " کے بریلوی و دیوبندی اردو تراجم دیکھے، یہ بیان کیا، غالبا اس تعلق سے لکھا گیا پورا باب یا چیپٹر ہی اڑا دیا گیا ہے۔ مصنف نے فارسی کے اپنے فور فرڈس میں " کتب صابقہ " کے حوالے سے کچھ لکھنے کی بات کہی ہے لیکن بندہ اب تک ( جو کچھ پڑھنے کی کوشش کی) صرف یہ دو لفظ ہی سمجھ سکا۔ ان دو لفظوں سے یہ تو واضح ہے ہی کہ صاحب مدارج النبوت نے ہندوؤں کی کتابوں میں آپ ص و اہل بیت اطہار ع سے متعلق وارد ہوئی پیشگوئیوں کو قلمبند کیا ہوگا۔ لیکن ۔۔۔۔
اسی طرح دوسری کتاب ( در اصل کتابچہ ہے ) کے ساتھ بھی کیا گیا۔ یہی نہیں، چونکہ وہ صرف 27 صفحات پہ مبنی کتابچہ ہے سو اس میں سے یہ پیشگوئی نکال کے دوسری چیزیں داخل کردیں۔
دونوں کی پی ڈی ایف ان لائن دستیاب ہیں۔
کیا آپ نے کبھی کسی مولوی یا اسلامی اسکالر سے پنج تن پاک سے متعلق یکجا کوئی ایسی بات سنی یا پڑھی ؟
______________________________________
فلاں فلاں محب اہل بیت ہیں ! ہاں،بے شک لیکن۔۔۔
جی، بے شک محب اہل بیت ہیں مگر اہل تصوف بالخصوص خواجگان چشتیہ کے عقائد و تعلیمات و شعائر جنوبی ایشیاء ( افغانستآن،پاکستان،ہندوستان،بنگلہ دیش،نیپال، بھوٹان، اور برمہ بھی) میں دینی، اصولی، آفاقی،عقلی،علمی،منطقی ہر اعتبار سے سب سے اہم اور ان ملکوں کے مسلمانوں کے لئے اپنانا لازم و ملزوم ہیں۔
مثلا، راقم نے کوئی دو ہفتے قبل ایک ہم عمر سید بریلوی مدرسے کے مہتمم مولانا صاحب سے پوچھا کہ اگر کسی عالم کے علم کے آپ ص تک پہنچنے والے اساتذہ کے سلسلے میں سے کوئی استاذ کسی بھی وجہ سے غائب ہو جائے تو کیا ہوگا ؟ بنا آگے پڑھے آپ سوج کے رکھئے کہ علماء کے اصول کے مطابق کیا ہوگا ؟
۔
۔
۔
۔
۔
انہوں نے جواب دیا کہ '' اس کا علم معتبر نہیں رہے گا۔"
دینی معاملے میں ( اور دوسرے اعتبار سے بھی) یہ اصول پوری طرح درست ہے۔ نہ صرف دینی عالم و دینی علم کے لئے بلکہ پوری دنیا میں مسلمان رہنے کے لئے بھی۔ اسی طرح جنوبی ایشیاء میں بھی۔ اب خواہ مولنا مودودی رح ہوں یا مولانا اسحاق رح یا انجینئر صاحب یا دو ڈھائی سو سال میں پیدا ہوئے سارے نو سنی علماء سب کے لئے ایک ہی اصول ہے۔ صرف مسلمان رہنے کے بارے میں نہیں ، سنی رہنے کے بارے میں بھی اور حنفی رہنے کے بارے میں بھی۔ بے شک اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر بندے کو خدا کے کچھ بھی ماننے نہ ماننے کا بخشا گیا اختیار کا حق ختم ہو گیا، وہ بہر حال ہر وقت، ہر خطے میں محفوظ ہے۔ مگر جب یہ اختیار آپ ص کے سپرد کر دیا خواہ بلا واسطہ یا بالواسطہ یعنی ڈائریکٹ یا ان ڈایریکٹ تو جنوبی ایشیاء کے عربی النسل اور ترکی النسل مسلمانوں کے علاوہ ( حالانکہ ان میں بھی ایک پہلو ہے) اور شافعی مسلمانوں کے علاوہ ( حالانکہ ان میں بھی ایک پہلو ہے) اور حضرت داتا گنج بخش قدس سرہ کے دست حق پرست پہ اسلام میں داخل ہوئے ( حالانکہ ان میں بھی ایک پہلو ہے ) اور یہ سب مل ملا کر دو پانچ فیصد سے زیادہ نہ ہوں گے؛ جنوبی ایشیاء کے امام مہدی ع کے ظاہر ہونے تک کے سب کے سب مسلمان خواجگان چشتیہ کے واسطے سے ہی آپ ص تک پہنچتے ہیں . . . . .
No comments:
Post a Comment