Wednesday, January 14, 2026

آل سعود نے پاکستان بننے سے پچیس سال پہلے اپنی دانش میں تمام مزاروں کے نام و نشان مٹا دیئے

آل سعود نے پاکستان بننے سے پچیس سال پہلے اپنی دانش میں تمام مزاروں کے نام و نشان مٹا دیئے، کیا انہوں نے یورپ کے کسی اپنی آبادی کے مماثل ملک کے برابر یونیورسٹیاں قائم کیں،بے‌ سمار مفت کی دولت ہونے کے باوجود کر بھی نہیں سکتے بالفرض کر بھی لیں تو کیا اس ملک کے برابر نہیں آدھی، تہائی، چوتھائی کیا پانچ فیصد بھی ایجادات کر سکتے،اس لمحے تک کی تاریخ کی شہادت ہے کہ ہرگز نہیں کر سکتے۔

کیا عربوں کے علاوہ دنیا میں کسی نے اپنے بزرگوں کی نشانیوں کو مٹایا، کوئی مثال نہیں۔
کسی غیر عرب مسلم ملک نے ایسا یہ کیا ہو، کوئی مہم چلائی ہو، استثنی بھی قبول ہوگا۔

جب سے عربوں کے ہاتھ میں  مفت کی دولت آنی شروع ہوئی، یعنی سوا ڈیڑھ سو سال قبل کی پوری مسلم اقوام کی 1300 سالہ  مذہبی تاریخ، خیالات، نظریات، عقائد و کردار پتہ کریئے۔
عربوں نے مفت کی دولت کے ذریعے اپنی ازلی اور دائمی احسان فراموشی کی عادت، اس کو بھی ڈال دی جو انہیں نا پسند ہی کیوں نہ کرتا ہو مگر زیادہ سے زیادہ اپنی مرضی چلانے کی خو رکھتا ہو۔ یقینا آپ کو پتہ ہوگا، آپ ص کے پردہ فرماتے ہی تین مسجدوں کے نمازی چھوڑ کر سارا عرب مرتد ہو گیا تھا۔ بیشتر مزارات میں کس کی ذریت مدفون ہے ؟

عربوں کے تین بادشاہ کافی مشہور ہیں۔ عمر بن عبد العزیز، ہارون رشید اور مامون۔ تینوں کی مزہبی زندگی میں جھانکئے، وہاں کوئی نہ کوئی آل رسول ص ملےگا یا ان کا بے حد و حساب محب۔ صلاح دین ایوبی کی مزہبی زندگی میں بھی جھانک سکتے ہیں اور تمام عثمانی سلاطین کی بھی۔ ادھر جنوبی ایشیاء کے اورنگزیب سے پہلے تمام سلطانوں،بادشبہوں، نوابوں اور زمینداروں کی مذہبی زندگی کھنگالئے۔ پھر اس پورے دور پہ نظر ڈالئے، مسلمانوں نے کب سے کب تک ہر میدان میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیئے اور کب سے کس تعلیم و فکر کو کمزور سے کمزور تر کرتے جانے اور کس تعلیم و فکر کو وسعت دیتے جانے سے دنیا کی تمام مسلم اقوام تمام میدانوں میں پست سے پست تر ہوتی چلی گئی۔ جا رہی ہے۔ یہاں تک کے ایک پاکستانی دوست کے مطابق، تیس فیصد پاکستانی 2011 کی مردم شُماری میں اسلام چھوڑ چکے تھے۔ تصدیق کریں تو راقم کو بھی مطلع کیجئے گا تاکہ اس کے قول کی صداقت بندے کے یقین میں اضافے کرتی رہے۔

برے صغیر یا جنوبی ایشیاء کی معلومات آسانی سے حاصل کر ہی سکتے ہیں۔
آغاز کے لئے دور، بندہ عرض کر دیتا ہے،اکبر اعظم کے دور کی تمام بڑی مزہبی ہستیوں( صوفیاء و علماء ) کی کارگزاریوں ، ان کے نظریات و خیالات، عقائد و معاملات، کتب و رسائل اور مکتوبات کے مطالعے سے آغاز کیجئے۔

تحقیق کے لئے مزید دو اشارے ۔
" انسان کو سمندر، سورج اور زمین کی طرح ہونا چاہئے۔" یہ قول  جنوبی ایشیاء میں آٹھ ساڑھے آٹھ سو سال قبل آیا اور اس پہ عمل کرنے والوں نے ہی پورے خطے میں چپے چپے پر اسلام پھیلایا۔

دوسرا قول :  " مسلمان کافروں کے ساتھ عداوت رکھنے اور ان پر سختی کرنے کے لئے معمور ہیں۔" یہ قول چار ساڑھے چار سو سال قبل یعنی اکبر اعظم یا شاہجہاں کے دور میں آیا۔ اس کے ذریعے پہلے قول کو اندر خانے دو سو سال تک کمزور کیا جاتا رہا اور مغلیہ ( مسلم) سلطنت ختم، مسلمان سب سے بڑی برائی تکبر میں مبتلا، سب سے بڑی نحوست مفلسی کے غلام، سب سے بڑی ذلت لا علمی کے اسیر،سب سے بڑی پستی بد اخلاقی کا پتلا بنتا کیا۔ یہاں تک کے جنوب ایشیاء کے تمام مسلمانوں کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔یہ کام اس قول نے باقیدہ منظم طور پہ  منظر عام پہ آکر ڈیڑھ دو سو سال قبل کرنا شروع کیا ۔۔۔۔۔ تحقیق آپ کو کرنی ہے اپنے لئے، حق کے لئے اور حق تعالی کے لئے۔۔۔۔۔۔
عربوں کے دامن میں دنیا کو دکھانے بتانے کے لئے  ان کا کیا دھرا کبھی بھی، کچھ بھی نہیں رہا۔ ایک محمد ص کی ذات کے بعد آل رسول ص تھے، ان سے عربوں نے دور رسول ص میں بغض رکھنا شروع کر دیا تھا جو اب تک ہے۔۔۔۔ اور امام مہدی علیہ اسلام کو قتل کرنے کے لئے لشکر لے کر نکلنے والے سفیانی کے مع لشکر ( الا ایک) زمین میں دھنسنے تک رہے گا۔

یہاں اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ عرب( بنو امیہ کے پیروکار) مثنی محمد ص ( امام مہدی ع) کے آنے تک مکمل دین محمدی نافذ نہیں ہونے دیں گے. دوسرے الفاظ میں بنو امیہ کے ماننے والوں کے کرہ عرض سے  پوری طرح مٹنے کے بعد ہی مکمل اسلام رائج و نافذ ہو سکے گا۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...