شاہ صاحب نے بہت سی حدیثوں کو فراموش کیا ہے۔ مثلا، مولی علی کرم۔ کے اپنے اسلام قبول کرنے و سب (مردوں) سے سات سال قبل نماز پڑھنے کے دعوے کو۔ آپ کرم۔ سے متعلق حضرت عباس بن عبد المطلب رض کی گواہی اور ان کے ایک دوست صحابی رض کے آپ ص، حضرت خدیجۃ الکبری اور مولی علی علیہم السلام کے کعبے کے صحن میں ایک ساتھ نماز پڑھتے ہوئے دیکھنے کے واقعے کو۔۔۔۔۔۔اسی طرح اور بھی بہت سی روایات کو۔
انہوں نے خواجگان چشتیہ کے جنوبی ایشیا میں تیسری صدی ہجری کے نصف اول سے با قاعدہ طور پہ اسلام پھیلانے کے آغاز سے لے کر اپنے زمانے تک جلے آ رہے مسلمانوں کے مسلمہ عقائد کو توڑنے مروڑنے کی کامیاب کوشش کی۔ ان کے بعد کے علماء نے ان ہی کی روش پہ آگے بڑھتے ہوئے، مسلمانوں کے عقائد و تعلیمات و شعائر (کلی دین اسلام و مسلمانوں) کو بدل کر موجودہ حالت میں پہنچا دیا۔پتھر پہ نقش ثبوت و دلیل و گواہی ملاحظہ فرمائے :-
No comments:
Post a Comment