Wednesday, January 14, 2026

جس نے اپنی ذات کو پہچانا، رب کو پہچانا حدیثِ قُدسی :


جس نے اپنی ذات کو پہچانا، رب کو پہچانا
حدیثِ قُدسی :
                  ”جس نے مجھے طلب کیا اُس نے مجھے پا لیا۔ جِس نے مجھے پا لیا اُس نے مجھے پہچان لیا۔ جِس نے مجھے پہچان لیا وہ میرا مُحِب بن گیا اور جو میرا مُحِب بن گیا وہ میرا عاشق ہو گیا۔ جو میرا عاشق ہو جاتا ہے میں اُسے قتل کر دیتا ہوں اور جسے میں قتل کر دیتا ہوں اُس کی دیت یعنی خون بہا مجھ پہ لازم ہو جاتا ہے۔ اور میں وہ دیت اِس طرح ادا کرتا ہوں کہ میں خود اُس کا ہو جاتا ہوں“
﴿نورالہدیٰ﴾
ص : 259

مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ
رجمہ جس نے اپنی ذات کو پہچانا اس نے یقیناً اپنے ربّ کو پہچانا           
اللہ کی پہچان کا طریقہ اس حدیث شریف میں بیان کیا گیا ہے

کنت کنزاً مخفیاً فأحببت أن اُعرف فخلقتُ الخلق لکَی اُعرف

میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں اس لیے میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔ اس حدیثِ قدسی سے واضح ہو گیا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی پہچان اور معرفت ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی پہچان کیسے حاصل ہو گی ؟
اس حدیث میں اللّہ تعالی اپنی پہچان کروانے کے لیے مخلوق کی تخلیق کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے. اس نے کیوں مخلوق کو بنایا ؟ اللہ پاک کا اپنی پہچان کا ارادہ ہوا۔‌ اس نے مخلوقات بنائی-زمین چرند پرند جن ملائک جانور
سب سے آخر میں انسان کا بت بنایا یعنی حضرت آدم علیہ اسلام اور آدم علیہ السلام کی تخلیق اپنی ہی صورت پر کی

خَلَق اللهُ آدَمَ على صورتِه
اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پہ پیدا کیا
اور اس آدم میں اپنی روح ڈالی

فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ.
29 جب اس کو صورت انسانیہ میں درست کر لوں اور اس میں اپنی  بےبہا چیز یعنی روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا. اب سوال پیدا ہوتا ہے ک آدم کو سجدہ اپنی روح ڈالنے کہ بعد کیوں کروایا ؟ اس سے پہلے بھی تو کروا سکتا تھا. سجدہ دراصل بت آدم کو نہیں, اپنے آپ کو کروایا. آدم میں آ کہ آپ سمایا۔ آدم کی تخلیق کا مقصد اپنے آپ کو اس میں چھپا کہ آنا تھا

سورہ الزاریات آیت 21
ترجمہ اور میں تمہارے اندر ہوں کیا تم غور سے نہیں دیکھتے
ترجمہ اور ہم تو شہ رگ سے بھی نزدیک ہیں  سورۃ ق 16
نہ میں زمین میں سماتا ہوں اور نہ آسمانوں میں لیکن بندہ مومن کے دل میں سماجاتا ہوں

قلب المومن عرش اللّہ تعالٰی
ترجمہ مومن کادل اﷲ تعالیٰ کا عرش ہے

حدیث قدسی
میرا بندہ جب نوافل کے ساتھ میرا قرب حاصل کرتا ہے تم میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا اور میں اس کیآ آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اس کا قدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور جب وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اور جب بخشش طلب کرتا ہے تو میں اسے بخش دیتا ہوں اور جب میری پناہ میں آنا چاہتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں
فتح الباری حدیث نمبر  6502

چھپے ہوئے خزانے سے لے کر آدم کی تخلیق تک کے سفر میں مقصد صرف ایک-اپنے آپ کی پہچان
اور پہچان کے لیے کسی خاص صورت کی ضرورت اور وہ صورت صرف آدم،اور آدم میں صورت سرکار مدینہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی
سرکار مدینہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا
مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ
جس نے مجھے دیکھا اس نے حق دیکھا
ایک جگہ اور فرمایا کہ
حدیث قدسی

أنا أحمد بلا ميم
أنا عرب بلا عين
ترجمہ
میں احمد ہوں میم کے بغیر
میں عرب ہوں عین کے بغیر

اگر احمد سے میم نکال دیا جائے تو احد بن جاتا اور احد تو صرف اللّہ پاک کی ذات ہے
ویسے ہی عرب سے اگر ع نکال دیا جائے تو رب بن جائے
تمام اولیاء اللّہ نے بھی احد اور احمد کو ایک کہا اور ایک کہنے کا درس بھی دیا ہے
حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
اللّہ ھک ہے ھک ہے ھک ہے
جیکو ھک کوں دوں کر جانے او کافر مشرق ہے
حضرت سچل سرمست رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
انت بحر دی خبر نہ کائی
رنگی رنگ بنایا
اللّہ آدمی بن آیا

حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
احد احمد وچ فرق نہ بُلّھیا
اک رتّی بھیت مروڑی دا

تحقیق کرنا انسان کی فطرت کا حُسن ہے۔ جہاں تک حدِّ نظر ہے انسان بیٹھے بٹھائے دیکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔‌‌حدِّ نظر سے پرے دیکھنے کی طاقت پاس نہ ہو تو پہلے وہ طاقت حاصل کرتا ہے کہ اپنی اوقعات سے زیادہ بھی دیکھ سکے
اِسی کا نام تجسس ہے اِسی تجسس کا بہت بگڑا ہوا نام بھی استعمال کیا جائے تو وہ جاسوسی ہے۔ انسان اپنی اِسی جبلت کے ہاتھوں مجبور ہو کر جب اپنی ذات کے بیرون کو دیکھ دیکھ کر اکتا گیا تو سمندروں کی تہیں کھنگالنے میں لگ گیا چاند پر پہنچنے کی کوششیں کرنے لگا زمین کی پرتیں ادھیڑنے میں لگ گیا۔ اپنے اِسی تجسس کی تشنگی مٹانے کے لئے جتنے بھی جتن کرتا آ رہا ہے، وہ سب بیرونی ذرائع سے نادیدہ قوتوں پر تسخیر کرنے کے لئے کچھ ناکافی قوتوں کے سہارے پر کرتا آیا ہے بلاآخر کریگا کیا ؟
فرعونیت کا مظہر بنتے ہوئے ربوبیت کا دعوٰی کر بیٹھے گا ماضی قریب و بعید کو دیکھا جائے تو مچھر اور ابابیل جیسی انتہائی حقیر ترین اور کمزور ترین مخلوقات کے ہاتھوں ایسے ہی کتنے ہی خدائی کے دعویداروں کا عبرت ناک انجام اِسی انسانی تاریخ کا ایک سبق آموز باب ہے
وجہ کیا ہے ؟ انسان میں کائنات کے درپردہ رازوں تک رسائی حاصل کرنے کا ایک اندرونی مادہ شروع سے رکھ دیا گیا ہے۔
انسان اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر انتہائی غیر فطری نتیجے پر پہنچنے کے خواب دیکھنے لگ جاتا یے اور خواب دیکھنے کی عادت بھی انسان کو تبھی پڑتی ہے جب یہ حقیقت سے آنکھیں چُرا لیتا ہے۔ حقیقت سے خود کو دور کر لیتا ہے حقیقت سے نا آشنا ہو جاتا ہے۔ حقیقت ہے کیا ؟
حدیثِ قُدسی میں ربُّ العزت کا فرمان ہے
الاِنسَانُ سِرِّی وَاَنَا سِرُّہُ
انسان میرا راز ہے اور میں انسان کا راز ہوں

انسان جب اپنے خدا کے اس راز کو پانے کی کوشش کریگا تو اُسے بیرونی ذرائع کے سہارے کی ضرورت ہی نہیں پڑیگی۔ کیونکہ اس راز کا تعلق انسان کی اندرونی ہستی کے ساتھ ہے۔ جیسا کہ حضور حضرت سخی سُلطان باھُو رحمتہ اللّہ علیہ فرماتے ہیں کہ

اے تن رب سچے دا حجرہ وچ پا فقیرا جھاتی ھو‌‌‌‌‌ نہ کر منت خواج خضر دی تیرے اندر آب حیاتی ھو شوق دا ڈیوا بال اندھیرے متاں لبھی یار کھڑاتی ھو

راز اندر ہے تو رازداں باہر نہیں ہے اور جب رازداں باہر نہیں ہے تو انسان اندر کیوں نہیں ہے ؟ انسان کا اللّٰہ پاک کے راز کو پالینا ہی اُس کی کائنات پر تسخیر ہے کہ اللّٰہ پاک کی تخلیق شدہ مادی کائنات پر چلنے پھرنے والا انسان جب اللّٰہ پاک کے راز کو پالیتا ہے تو اللّٰہ پاک کی غیر مادی کائنات یعنی اپنے دل کی لامتناہی وسعتوں سے آشنا ہوجاتا ہے۔ پھر اُسے خدائی کا یا ربوبیت کا دعوٰی نہیں کرنا پڑتا بلکہ اللّٰہ پاک اُسے خود اپنی نیابت و خلافت کا تاج پہنا دیتا ہے

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِینَ آمَنُو مِنکُم وَ عَمِلُو الصّٰلِحٰتِ لَیَستَخلِفَنَّھُم فِی الاَرض  کَمَا استَخلَفَ الَّذِینَ مِن قَبلِھِم   قرآن کریم

اللّٰہ پاک کا ان مومنین سے وعدہ ہے جو ایمان لائے اور عملِ صالح پر کاربند رہے کہ اُنہیں زمین پر خلافت عطا کریگا جس طرح اُن سے پہلوں کو خلافت عطا کی تھی

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا

*ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللّہ علیہ*

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...