ہر چیز کے متعدد درجے ہوتے ہیں ۔ادنی ترین سے اعلی ترین تک ۔ صوفیائے کرام ( حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ) امت کی اعلی ترین مذہبی فکر و روحانیت کے اعتبار سے امت کے اعلی ترین ذہنوں میں ہیں۔ ایک comen minimum program ہوتا ہے، جیسے کہ آپ جانتے ہیں، شرعیت (اللہ تعالی و رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احکام) پوری امت کے لئے comen minimum program ہے۔ اس سے کوئی بھی مبرا نہیں حضرت شیخ اکبر نہ حضرت غریب نواز، حضرت جنید بغدادی نہ حضرت غوٹ پاک، حضرت شبلی نہ حضرت حسن بصری قدس اللہ سرہم۔ آپ ص کے ہر امتی کا اس پہ عمل کرنا لازم ہے۔
تصوف (تزکیہ نفس) خدا اور رسول ص کا اعلی ترین مذہبی ذہنوں کے لئے عطا کردہ program ہے۔ اس کی تبلیغ و تعلیم فقط اسے ہی کی جاتی ہے، جو از خود چل کر اس کی طلب و تلاش میں صوفی کے در پہ آئے۔
تصوف کی کتابوں میں روایت ہے، مفہوم: ایک مرتبہ آپ ص تنہا بیٹھے ہوئے سوچ رہے تھے کہ سب ظاہر (شرعیت) کے احکام معلوم کرنے آتے ہیں،کوئی روحانیت (حقیقت) کے بارے میں نہیں پوچھتا ! لمحے بھر بعد ہی مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم تشریف لائے اور آپ ص سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ص ! مجھے خدا اور چیزوں کی حقیقت کا علم عطا فرمائے۔۔۔۔۔
پس، شیخ اکبر قدس سرہ یا کسی دیگر صوفی کی مثال قرآن کے ظاہری معانی comen minimum program کے مقابلے پہ نہیں دینی چاہئے۔ جس نے بھی دی یا دیتا ہے ،زیادتی کرتا ہے،اس کی نیت جو بھی ہو، بظاہر تصوف اور اولیاء اللہ کے خلاف عوام کی ذہن سازی کرتا ہے۔ خدا وند قہار کے غصے کو دعوت دیتا ہے کہ اس کے خلاف اعلان جنگ کر دے۔فرمان رسولؐ: اللہ تعالی فرماتا ہے، جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی،میرا اس سے اعلان جنگ ہے۔ بخاری-6502
تصوف یا کسی بھی علم کے بارے میں کچھ کہنے سے قبل اس کا گہرائی میں جاکر غیر جانبدارانہ مطالعہ کر لینا چاہئے۔ یہ اس وقت اور بھی ضروری ہو جاتا ہے جب بندہ کسی کے خلاف کوئی بات کہنی چاہتا ہو۔
خیر، سب سے پہلے نبوت کو سمجھئے،بعد از اس کے مقصد یا مقاصد کا تعین کیجئے،اس کے بعد ہی تصوف سمجھ میں آ سکتا ہے، وہ بھی تب جب بالکل عدم جانبداری اور مکمل ایمانداری سے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ یہ وہ راستہ ہے، جس پہ چلنے کے متمنی خاص ذہنوں کو چلنے کی اجازت دینے (بیعت کرنے) سے پہلے صوفیائے کرام حسب ضرورت سخت امتحانات سے گزارتے رہے ہیں۔ ایسے امتحانات سے جنہیں عام ذہن ناقابل اعتبار گردان کر " کہانیاں ہیں " کہہ کر دامن جھاڑ کے چل دیتا ہے۔ بھول جاتا ہے کہ وہ چودہ صدی پہ محیط ہزاروں کامیاب تجربوں کے خلاف بات کہہ رہا ہے۔
دوسری بات یہ کہ آغاز شیخ اکبر قدس سرہ یعنی تصوف سے اور اختتام مولوی کی بات پہ !
راقم کی معلومات کے مطابق،اہل تصوف کے یہاں مولوی چار قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک- مولوی سو، دو- خالص مولوی، تین- مولوی صوفی اور چار- صوفی مولوی۔ اہل تصوف میں فقط چوتھے کو ہی کچھ اعتبار حاصل ہے، پوری طرح اسے بھی نہیں کہ نا معلوم کب اس کی مولویت اس پہ غلبہ پا لے۔یہاں تک کہ وہ مولویت سے دستبردار اور تصوف کا دل و دماغ سے طلبگار ہو جائے، جیسے، حضرت مولانا روم قدس سرہ ہوئے۔
لہذا، تصوف، تزکیہ نفس، صوفیاء، روحانیت، باطنی علم یا ایک لفظ میں کہیں تو " حقیقت" کے بارے میں بات کرنے سے قبل اس کی حقیقت جان لینی چاہئے۔ یہ عام اصول بھی ہے کہ اگر کوئی ماہر سافٹ ویئر انجینئر نہیں ہے تو وہ اس بارے میں بولنے سے گریز کرے۔ سطحی اور ناپختہ معلومات کی بنیاد پہ کسی علم یا طبقے کے بارے میں بات کہنے میں خود کو مجبور پاتا ہو تو پہلے اقرار کر لے کہ میں اس کا ماہر ہوں نہ تربیت یافتہ مگر جو کچھ ذرا مرا سی جانکاری ہے، یہ ہے.....،اور بس۔ خیال رہے تربیت، تعلیم سے افضل ہے، تحت الشعور (subconsious) میں جاکر اثرانداز ہوتی ہے۔
آج کل توحید کے بڑے چرچے ہیں۔ حضرت داتا گنج بخش قدس سرہ نے اس کے 48 dimensions کشف المحجوب میں رقم کئے ہیں، صوفیائے کرام کے علاوہ ہزار سال ہوئے کل یا آج کے سارے دعویداران توحید میں سے ایک بھی ان کی گرد کو نہیں پہنچ سکا۔ سلام
No comments:
Post a Comment