شیخ عبد القادر جیلانی کا غلو
کہ ولی صرف احمد بن حنبل کے اعتقاد کی پیروی کرنے والا ہوگا
امام ابن رجب علیہ رحمہ امام ابن قدامہ سے نقل کرتے ہیں باسند انکے شیخ سے وہ کہتے ہیں کہ
کہ شیخ عبد القادر جیلانی نے فرمایا
"کوئی بھی ولی اللہ نہیں ہو سکتا سوائے اسکے کہ وہ امام احمد بن حنبل کے اعتقاد پر نہ ہو"
[زیل طبقات حنابلہ ج2، ص202]
جبکہ اہل علم جانتے ہیں حنبلی صرف فروعی مذہب نہیں بلکہ یہ ایک اعتقادی مذہب ہے جو اشاعرہ و ماتریدیہ سے پہلے وجود میں آیا۔۔۔
اور یہ مذہب سوائے اصحاب الحدیث کے باقی ائمہ میں مقبول نہ ہو سکا صفات باری تعالی کے حوالے سے اس میں بہت نقائص ہیں۔
جس کے سبب ماتریدیہ و اشاعرہ مذہب کو ائمہ اہلسنت متکلمین و مفسرین اور ائمہ سلف نے پسند کیا۔
اور یوں یہ دو مذاہب اعتقاد اشاعرہ و ماتریدیہ مقبول و معروف ہو گئے۔
اور حنبلی اعتقادی مذہب مفقود ہو گیا۔ لیکن پھر بھی حنبلی مذہب فروع کی شکل میں حنبلی اعتقادی مذہب بھی چل رہا ہے۔
اور جبکہ متقدمین مجسمی اصلی حنابلہ سے یہ مذہب چند غیر مجسمی ائمہ نے ہائی جیک کیا جیسا کہ علامہ ابن جوزی وغیرہ
لیکن جمہور حنابلہ آج بھی متقدمین مجسمی حنابلہ ہی کے مذہب پر ہیں۔ اور یہی احمد بن حنبل کا مذہب تھا تجسیم سے آلودہ اور متاخرین ابن تیمیہ و ابن قیم حنابلہ مجسمیوں نے متقدمین حنابلہ کی پیروی کی اور اسکو بڑھایا!!!۔
خلاصہ تحقیق:
جس طرح احمد بن حنبل تجسیم کے عقائد میں خطاء پر تھے ویسے ہی احمد بن حنبل لفظی قرآن کو مخلوق کہنے والوں کو بدعتی کہہ کر خطاء پر تھے جبکہ جمہور کا عقیدہ لفظی قرآن کے مخلوق ہونے کا ہے جیسا کہ امام بخاری نے اپنی تصنیف میں بیان کیا تھا۔
پس شیخ عبد القادر جیلانی کے شطحات میں جیسے انکا یہ شاذ قول تھا "کہ میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے" یہ قول مقبول نہیں بقول امام سہرودی کے۔
ایسے ہی انکا مذکورہ قول بھی مقبول نہیں کہ ہر ولی احمد بن حنبل کے اعتقاد پرہوگا۔
اسدالطحاوی ✍ Asad Al-Tahawi-
No comments:
Post a Comment