عالموں کو حق ہی نہیں !
وہ کیا ڈیڑھ دو سو سال میں پیدا ہوا کوئی بھی نو سنی عالم اس سے منظرہ کرنے کا اہل نہیں ہے۔ اس سے حضرت پیر مہر علی شاہ قدس اللہ سرہ العزیز جیسی روحانی اور علمی ہستی ہی منظرہ کر سکتی ہے، جیسے انہوں نے مرزا قادیان سے کیا تھا۔
ان بیچاروں کو مطلب کی گھڑی ہوئی روایت بھی صحیح الاسناد اور مطلب کی نہ ہو تو ضعیف یا موضوعہ اور محققین نے صحیح قرار دی ہوئی ہو تو خاموشی یا بھر مکاری کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔
اللہ یاری کس موضوع پہ بات کرنا چاہئے گا ؟ تھوڑا بہت اندازہ ہے۔۔۔۔ بندے کی معلومات کے مطابق فی زمانہ بریلوی کیا نو سنیوں کے کسی بھی فرقے کے پاس اس سے ایماندارانہ طریقے سے منظرہ کرنے کا اہل عالم نہیں ہے۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے کہ انجینیئر نہ صرف منظرے سے منکر ہوا بلکہ اس نے بد اخلاقی کا مظاہرہ بھی کیا اور کسی قدر یا خوب اچھی طرح مفتی حنیف قریشی صاحب اس سے مقابلہ بھی کر لیتے۔ مگر اصل موضوع پہ کیا دلیل دیتے ؟ یہی نہ کہ " ہشت بہشت " کی روایت الحاقی ہے وغیرہ وغیرہ۔ جب کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ کیوں ؟ کیوں کہ یہ اور ایسے سارے فتوے مولویوں کے دیئے ہوئے ہیں، خواہ موجودہ زمانے کے ہوں یا گزشتہ۔
کسی بھی اللہ کے ولی کے کسی بھی قول کو رد کرنے،تشریح کرنے،وضاحت کرنے کا حق صرف اس کے ہم پلا ولی اللہ یا ان کے خلفاء کو ہی ہے۔ کسی بھی مولوی اور وہ بھی خالص مولوی کو تو بالکل نہیں۔
سب مسلکوں کے مولوی ملکر امت محمدیہ کو الحاد کی طرف لے جا رہے ہیں۔ فرق صرف رفتار کا ہے، کوئی سست تو کوئی اوسط تو کوئی تیز اور کوئی بہت تیز رفتار سے الحاد کی طرف کھینچ رہا ہے۔
یہ اسٹیکر اسی لئے وجود میں آیا۔
No comments:
Post a Comment