Friday, January 9, 2026

عبد اللہ شاہ غازی کے مزار کی حقیقت

عبد اللہ شاہ غازی کے مزار کی حقیقت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی میں ایک دفعہ پھر سے سمندری طوفان کی خبریں ہیں اور اسی تناظر میں  کلفٹن کراچی میں واقع عبداللہ شاہ غازی کا مزار آجکل موضوع بحث بنا ہوا ہے کیونکہ ضعیف العقیدہ لوگوں کا ماننا ہے کہ کراچی آج تک جو سمندری آفات سے محفوظ ہے  تو وہ اسی مزار کی برکت سے ہے۔ یہ بات سنی سنائی نہیں بلکہ اس احقر کو اس کے ایک کولیگ  نےجو کہ ماشاء اللہ سے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں  ٹیلی کمیونیکیشن انجینئر ہیں اور تقریباً کام کے سلسلے میں پوری  دنیا کا چکر لگاتے رہتے ہیں نہایت عقیدت و وثوق سے بتائی تھی۔ اور یہی عقیدہ اس مزار کی بابت عوام الناس کا  بھی ہے۔ ہمیں اس سے بحث نہیں کہ مزارات کا وجود اسلام میں کس حد تک ناپسندید ہ ہے اور کسی بھی قبر پر کسی طور کی عمارت بنانا ازروئے  شریعت قطعی حرام ہے، بلکہ سر دست ہمارا اصل مقدمہ اس مزار کی پہچان سے متعلق ہے۔
یہ مزار سیدنا حسنؓ کی آل اولاد میں سے ایک شخص عبداللہ الاشتر کا بتایا جاتا ہے۔ یہ عبداللہ الاشتر  سیدنا حسنؓ کے پڑ پوتے جناب محمد  کے صاحبزادے تھے۔ سو ان کا سلسلہ نسب کچھ یوں بنتا ہے عبداللہ الاشتر بن محمد بن عبداللہ بن حسن مثنیٰ بن حسن بن  علی بن ابو طالب۔ ان عبداللہ الاشتر کی ایک بہن  سیدہ زینب بنت محمد  پہلے عباسی خلیفہ ابو العباس  عبداللہ السفاح کی بہو یعنی ان کے بیٹے محمد بن عبداللہ السفاح کی زوجیت میں تھیں۔ان دونوں بہن بھائیوں کے والد محمد  وہی ہیں جن کو ایک ضعیف روایت کی بنیاد پر  بعض غیر محتاط مورخین نے "نفس الذکیہ" کا لقب دیا اور جنھوں نے ۱۴۵ ہجری میں مدینہ میں  عباسی خلافت کے خلاف بغاوت کی اور مقتول ہوئے۔ ساتھ ہی ان محمد  کے بھائی  ابراہیم نے بصرے میں عباسی خلافت کے خلاف بغاوت کی  اور وہ وہاں مقتول ہوئے۔  عبداللہ الاشتر کی بابت تاریخ میں دو روایات ملتی ہیں۔ پہلی روایت میں آتا ہے کہ ان کے والد محمد  نے اپنے مقتول ہونے سے پہلے ان کو سندھ کی طرف  اپنے داعی اور گورنر سندھ کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے بھیجا تھا، جبکہ دوسری روایت میں آتا ہے کہ بصرہ میں بغاوت کے جرم میں اپنے چچا ابراہیم بن  عبداللہ کے مقتول ہوجانے کے بعد  عبداللہ الاشتر ایک تیز رفتار اونٹ پر سوار ہوکر اپنی جان کے خوف سے فرار ہوکر سندھ آگئے تھے۔ اس وقت سندھ میں وادی مہران دریائے سندھ سے لیکر کابل تک کا پورا علاقہ شامل سمجھا  جاتا تھا۔
دوسرے عباسی خلیفہ  ابو جعفر المنصور کو جب یہ پتہ چلا کہ  عبداللہ الاشتر نے گورنر سندھ کو اپنا ہمخیال بنا کر سرحدی علاقوں میں بغاوت کا منصوبہ بنا رکھا ہے تو  خلیفہ نے  گورنر سندھ کو تبدیل کرکے نیا گورنر بھیجا اور اسکو سختی سے بغاوت کو دبانے کا حکم دیا۔ نئے گورنر کے خوف سے  عبداللہ الاشتر سندھ کے شمال میں نواح کابل میں منتقل ہوگئے اور وہیں  ۱۵۱ ہجری میں عباسی فوجوں کے ساتھ بغاوتی  مدبھیڑ کے دوران  علج نامی پہاڑ پر مقتول ہوئے۔(عمدۃ الطالب  فی النساب آل ابی طالب صفحہ ۸۴) مشہور ماہر انساب مصعب زبیری  نے اپنی کتاب نسب قریش کے صفحہ ۵۴ پر ان کی بابت یہی لکھا ہے کہ  قتل بکابل یعنی عبداللہ الاشتر کابل میں قتل ہوئے۔ علامہ ابن حزم الظاہری  نے بھی اپنی کتاب جمہرۃ الانساب میں عبداللہ الاشتر کے کابل میں قتل ہونے کا ذکر کیا ہے اور کابل میں ان کے ایک بیٹے محمد کے تولد کی بابت بھی لکھا ہے جو کہ کابل میں پیدا ہونے کے باعث محمد الکابلی کہلاتے تھے۔
اب ایسا شخص جو کہ کابل میں فوت  اور وہی مدفون ہوا ہو، ۱۳۰۰ سالوں کے بعد کلفٹن میں موجود کسی مجہول الحال شخص کی قبر کو اس  کا مزار   بتانا ایک علمی مذاق کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے جبکہ کسی مورخ  نے عبداللہ الاشتر  کے  کابل میں مقتول ہوجانے کے بعد  ان کے جسد کی  کابل سے  سندھ کراچی منتقلی کا ذکر بھی نہ کیا ہو۔اسی طرح نہ ہی کوئی ایسی تاریخی شہادت ملتی ہے کہ عبداللہ الاشتر یا ان کے بیٹے محمد الکابلی کبھی سندھ کے ساحلی علاقے آئے ہوں۔ بلکہ محمد الکابلی کے بارے میں تو ابن کثیر اور ابن خلدون دونوں نے صراحت کی ہے کہ اپنے والد عبداللہ الاشتر کے  کابل میں مقتول ہو جانے کے بعد ان کو بغداد لایا گیا اور پھر وہاں سے نسب کی تصدیق کے بعد ان کو مدینہ ان کے اہل خانہ کے پاس بھیج دیا گیا۔
سو المختصر نہ ہی تو عبداللہ الاشتر  کبھی سندھ کے ساحلی علاقے آئے، نہ ہی ان کا انتقال یہاں ہوا اور نہ ہی وہ یہاں دفن ہوئے کہ کلفٹن کراچی میں موجود ایک مجہول الحال قبر کو ان کا مزار قرار دیا جائے۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ قیام پاکستان سے پہلے تک  یہ قبر انتہائی خستہ حالت میں نامعلوم پڑی تھی اور قیام پاکستان کے چند سال بعد  کسی شخص نے اس قبر کی درستگی کرواکر اس کو عبداللہ الاشتر سے منسوب کرکے عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے طور پر متعارف کروایا۔اور پھر یہ نام عبداللہ شاہ غازی بھی عجب کرشمہ سازی ہے۔ عربوں میں شاہ نام رکھنے کا رواج اولاد علی ؓ میں کبھی نہیں تھا، پھرعبداللہ الاشتر کو شاہ کہنا چہ معنی دارد، دوم یہ عبداللہ الاشتر  تو عباسی فوجیوں کے ہاتھوں بغاوت کے اقدام میں مقتول ہوئے تو یہ غازی کا لقب کیونکر ان کو مل سکتا ہے، اگر کوئی ان سے عقیدت رکھے بھی تو مقتول ہونے کی حیثیت سے ان کو شہید ہی کہا جاسکتا ہے، غازی نہیں۔
تحریر: محمد فھد حارث

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...