Friday, January 9, 2026

علامہ شامی و فقہاۓ کرام رحمہم اللہ کی حرام چیز سے علاج پہ آراء


علامہ شامی و فقہاۓ کرام رحمہم اللہ کی حرام چیز سے علاج  پہ آراء
(بنام انجینئر محمد علی مرزا صاحب!
سلام علیکم، آپ نے ایک ویڈیو میں علامہ شامی رح سے متعلق بے جا، ناگوار، ناقابل قبول بات ارشاد فرمائی ہے۔ممکن ہے آپ کی نظر سے اصل عبارت نہ گزری ہو ، سو موضوع سے متعلق مکمل عربی متن اور ترجمہ پیش ہے۔ ملاحظہ فرمائیں اور خوب خوب غور و خوض کریں۔امید ہے، خدا اصلاح و رجوع کی توفیق عطا فرمائے گا۔گذارش ہے کہ ( kkhanalmiher@gmail.com ) پر بھی آج سے پندرہ دن کے اندر یا سات 7 جولائی تک اپنے خیالات کا اظہار فرما دیں۔اس دوران وقت نہ نکال سکیں تو مزید کے لئے لکھیں۔ دعا ہے کہ بدمزگی پیش نہ آئے۔)

             مَطْلَبٌ فِي التَّدَاوِي بِالْمُحَرَّمِ (قَوْلُهُ اُخْتُلِفَ فِي التَّدَاوِي بِالْمُحَرَّمِ) فَفِي النِّهَايَةِ عَنْ الذَّخِيرَةِ يَجُوزُ إنْ عَلِمَ فِيهِ شِفَاءً وَلَمْ يَعْلَمْ دَوَاءً آخَرَ. وَفِي الْخَانِيَّةِ فِي مَعْنَى قَوْلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «إنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ» كَمَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ أَنَّ مَا فِيهِ شِفَاءٌ لَا بَأْسَ بِهِ كَمَا يَحِلُّ الْخَمْرُ لِلْعَطْشَانِ فِي الضَّرُورَةِ، وَكَذَا اخْتَارَهُ صَاحِبُ الْهِدَايَةِ فِي التَّجْنِيسِ فَقَالَ: لَوْ رَعَفَ فَكَتَبَ الْفَاتِحَةَ بِالدَّمِ عَلَى جَبْهَتِهِ وَأَنْفِهِ جَازَ لِلِاسْتِشْفَاءِ، وَبِالْبَوْلِ أَيْضًا إنْ عَلِمَ فِيهِ شِفَاءً لَا بَأْسَ بِهِ، لَكِنْ لَمْ يُنْقَلْ وَهَذَا؛ لِأَنَّ الْحُرْمَةَ سَاقِطَةٌ عِنْدَ الِاسْتِشْفَاءِ كَحِلِّ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ لِلْعَطْشَانِ وَالْجَائِعِ. اهـ مِنْ الْبَحْرِ. وَأَفَادَ سَيِّدِي عَبْدُ الْغَنِيِّ أَنَّهُ لَا يَظْهَرُ الِاخْتِلَافُ فِي كَلَامِهِمْ لِاتِّفَاقِهِمْ عَلَى الْجَوَازِ لِلضَّرُورَةِ، وَاشْتِرَاطُ صَاحِبِ النِّهَايَةِ الْعِلْمَ لَا يُنَافِيهِ اشْتِرَاطُ مَنْ بَعْدَهُ الشِّفَاءَ وَلِذَا قَالَ وَالِدِي فِي شَرْحِ الدُّرَرِ: إنَّ قَوْلَهُ لَا لِلتَّدَاوِي مَحْمُولٌ عَلَى الْمَظْنُونِ وَإِلَّا فَجَوَازُهُ بِالْيَقِينِيِّ اتِّفَاقٌ كَمَا صَرَّحَ بِهِ فِي الْمُصَفَّى. اهـ.
أَقُولُ: وَهو ظاهرموافق لما مر في الاستدلال لقول الامام لكن قد علمت أن قول الأطباء لا يحصل به العلم والظاهر أن التجربة يحصل بها غلبة الظن دون اليقين إلا أن يريد وا بالعلم غلبة الظن وهو شائع فى كلامهم تأمل قوله وظاهر المذهب المنع محمول على المظنون كما علمته۔

" حرام چیز سے علاج جائز ہے، اگر (معالج کو )علم ہو کہ اس میں شفاء ہے اور  دوسری دوا معلوم نہ ہو۔ خانیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس میں شفاء نہیں رکھی، جو تم پر حرام ہے۔بخاری، باب نمبر 357 شراب الحلوآء والعسل۔۔۔ اس کا مطلب ہے کہ جس(چیز) میں شفاء ہے، اس سے علاج کرنے میں کوئی حرج نہیں، جیسے کہ ضرورت کی وجہ سے پیاسے کے لئے شراب حلال ہوتی ہے۔اسی طرح صاحب ہدایہ نے تنجیس میں اس کو اختیار کیا ہے۔آپ نے فرمایا: اگر کسی کو  نکسیر پھوٹے، پھر وہ خون سے اپنی پیشانی اور ناک پر سورہ فاتحہ لکھے تو شفاء حاصل کرنے کے لئے جائز ہے اور پیشاب سے بھی لکھنے میں کچھ حرج نہیں اگر اس میں شفاء معلوم ہو لیکن یہ شفاء منقول نہیں۔ کیونکہ حصول شفاء کے لئے حرمت ساقط ہو جاتی ہے۔جیسے کہ پیاسے اور بھوکے کے لئے شراب و مردار حلال ہو جاتا ہے، یہ البحر سے ہے۔
سیدی عبد الغنی نے فائدہ ارشاد فرمایا کہ کلام فقہاء میں اختلاف ظاہر نہیں ہوتا ہے کیونکہ ضرورت کے جواز پر فقہاء کا اتفاق ہے اور صاحب نہایہ کا علم کی شرط لگانا اور ان کے بعد والے حضرات کا شفاء کی شرط لگانا، اس کے منافی نہیں۔ اسی وجہ سے میرے والد نے شرح الدرر میں فرمایا: ان ( امام اعظم ) کا قول ( آگے آتا ہے ) لا للتداوی (بصورت دوا بھی نہیں) مظنون  پر محمول ہے ورنہ یقینی صورت میں اس کے جواز  پر اتفاق ہے، جیسا کہ المصفی میں اس کی صراحت ہے۔"

" میں کہتا ہوں، یہ ظاہر ہے اور موافق ہے اس کے جو گزرا امام اعظم کے قول ( پیشاب پینا بالکل جائز نہیں بطور دوا نہ کسی اور غرض سے ) کے استدلال میں لیکن آپ نے اچھی طرح جان لیا کہ اطباء کے قول سے (بھی) علم حاصل نہیں ہوتا اور ظاہر یہ ہے کہ تجربہ سے غلبہ ظن ہوتا ہے، یقین حاصل نہیں ہوتا مگر فقہاء علم سے غلبہ ظن مراد لیتے ہیں اور یہ ان کے کلام میں شائع و عام ہے۔ یہ گمانوں پر محمول ہے جیسا کہ آپ نے جان لیا( یہ جملہ متن میں آخری ہے)۔ خوب  غور  کریں اور ظاہر مذہب منع ہے۔ "

شامی، کتاب الطھارۃ، باب المیاہ، جلد اول، صفحہ 365، مکتبہ زکریا، طبع اول 1996ء

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...