سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت۔۔۔
امام زہری سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق فرماتے ہیں:
(شہادت ِعثمان رضی اللہ عنہ کے بعد) جتنے صحابہ باقی تھے ان میں سب سے افضل سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے اور خلافت کا ان سے زیادہ کوئی حق دار نہیں تھا، پھر بھی انہوں نے زور زبردستی نہیں کی باوجود سب سےز یادہ حق دار ہونے کے، یہاں تک کہ انکی بیعت کی گئی اور سب لوگوں نے انکی بیعت کرلی، جو جو اصحاب شوری میں سے بچا تھا۔
الاعتقاد للبیھقي 1/370
امام ابن سعد نقل کرتے ہیں:
علی بن ابی طالب رحمہ للہ کی مدینہ میں بیعت کی گئی سیدنا عثمان کی شہادت کے اگلے دن، اور انکی بیعت ان لوگوں نے کی، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، عمار بن یاسر،، اسامہ بن زید، سھل بن حنیف، ابو ایوب الانصاری، محمد بن مسلمہ، زید بن ثابت، خزیمہ بن ثابت، اور جتنے بھی اصحاب رسول ﷺ وغیرہ مدینہ میں موجود تھے۔ (رضی اللہ عنھم)
((الطبقات الكبرى)) (3/31)
امام ابن حجر فرماتے ہیں:
فَبَايَعَهُ الْمُهَاجِرُوْنَ وَالْأَنْصَارُ وَكُلُّ مَنْ حَضَرَ، وَكَتَبَ بَيْعَتَهُ إِلَى الْآفَاقِ فَأَذْعَنُوْا كُلُّهُمْ إِلَّا مُعَاوِيَةَ رضی اللہ عنہ فِي أَهْلِ الشَّامِ فَكَانَ بَيْنَهُمْ بَعْدَ مَا كَانَ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت انصار اور مھاجرین نے کی اور جو جو بھی موجود تھا، اور اسکے علاوہ انکی بیعت دور دور دراز علاقوں میں بھی خطوظ کے ذریعے لکھ دی، اور سب نے اسے تسلیم کرلیا سوائے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہ، اھل شام میں، پس انکے درمیان ہو ہوا جو ہوا۔
(فتح الباري)) (7/72)
Shaharukh Khaan via
SM Enamul Hassan
No comments:
Post a Comment