کیا رسول اللہؐ نے امیر المومنین علیؑ کو جنگ جمل، صفین اور نہروان لڑنے اور اصحاب کو انکی حمایت کا حکم دیا تھا؟
♨ رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ: (اے میرے اصحاب) تم میں سے ایک شخص قرآن کی آیات کی تاویل (تفسیر) کی خاطر (مسلمانوں سے) جنگ کرے گا، جسطرح کہ میں نے نزول قرآن کی خاطر (کفار و مشرکین سے) جنگ کی تھی۔ بعض نے کہا: شاید وہ شخص میں ہوں ، شاید وہ شخص میں ہوں ، شاید وہ شخص میں ہوں ، لیکن رسول خدا نے فرمایا:
وہ، وہ شخص ہےکہ جو جوتوں کو پیوند لگانےوالا ہے صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے جاکر اس خبر کو علی کو بتایا، لیکن اس نے اس بات کو سن کر اپنے سر کو اوپر نہ اٹھایا (یعنی وہ اسی طرح جوتے کو پیوند لگانے میں مصروف رہا) گویا اس نے خود اس بات کو رسول خدا سے سنا ہوا تھا۔ (اس کی سند صحیح ہے)
حوالہ : [ صحیح ابن حبان - الجزء الخامس عشر - صفحہ ٣٨۵ ]
: [ مسند امام احمد بن حنبل - الجزء الثامن عشر - ص ٢٩٦ ]
: [ المصنف ابن ابی شیبہ - الجزء السابع عشر - ص ١٠۵ ]
♨ " ابو سعید خدری نے کہا ہے کہ : رسول خدا نے ہم صحابہ کو ناکثین، قاسطین اور مارقین سے جنگ کرنے کا حکم دیا تھا یہ سن کر اصحاب نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم اصحاب کس کے لشکر میں شریک ہو کر جنگ لڑیں؟ رسول خدا نے فرمایا: علی ابن ابی طالب کی رکاب میں شامل ہو کر جنگ کرنا اور عمار ابن یاسر اس جنگ میں قتل کیا جائے گا۔
ان روایات کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ امیر المؤمنین علیؑ کو جنگ کرنے کا حکم خود رسول خدا نے دیا تھا۔ جب ایسا ہے تو ابن تیمیہ ناصبی اور اس کے شاگرد ذہبی ناصبی نے کیسے اسلام اور مسلمین سے خیانت کرتے ہوئے لکھا اور کہا ہے کہ:
رسول خدا نے جنگ جمل، صفین اور نہروان کرنے کا حکم نہیں دیا تھا بلکہ علیؑ ابن ابی طالبؑ (ع) نے خود ذاتی اجتہاد کرتے ہوئے ان جنگوں میں شرکت کی تھی! کیا کل قیامت کو خداوند کی عدالت میں انکے پاس اپنی خیانتوں کا کوئی جواب ہو گا ؟
اسی طرح بعد والی روایت میں ذکر ہوا ہے کہ:
♨ ابو ایوب انصاری سے پوچھا گیاکہ تم نے اپنی تلوار سے رسول خدا کی رکاب میں مشرکین کے ساتھ جنگ کی تھی، اب تم کیسے مسلمانوں کے ساتھ جنگ کر رہے ہو ؟
ابو ایوب انصاری نے جواب دیا: رسول خدا نے خود مجھے ناکثین، قاسطین اور مارقین کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔
حوالہ: [ اسد الغابة فی معرفة الصحابة - حصہ ہفتم - ص ٦١۵ ]
یعنی جیسے رسول خدا نے حکم دیا تھا ، مشرکین کے ساتھ جنگ کرنے کا اسی طرح حضرت نے عائشہ،طلحہ،زبیر اور معاویہ وغیرہ کے ساتھ بھی جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔
یہاں سے دو نکتے واضح اور معلوم ہوتے ہیں کہ:
١) امیر المؤمنین علی (ع) کی حیثیت ان تینوں جنگوں میں، وہی رسول خدا (ص) والی حیثیت تھی اور جنگ جمل و صفین اور نہروان میں موجود افراد کی حیثیت وہی حضورﷺ کے مخالفین والی حیثیت تھی۔
٢) اسلام اور مسلمین کی بقاء اور سلامتی کے لیے جس قدر کفار اور مشرکین خطرناک ہیں، اسی طرح اسلام اور مسلمین کی بقاء اور سلامتی کے لیے منافقین بھی خطرناک ہیں، اگرچہ وہ ظاہری طور پر کلمہ گو مسلمان ہی کیوں نہ ہوں۔
واقعا قابل ذکر اور قابل توجہ ہے کہ کتاب البدایۃ و النہایۃ میں ابن کثیر دمشقی نے ایک روایت کو ذکر کرنے کے بعد آخر میں لکھا ہے کہ:
👈 فهذه اثنتا عشرة طریقا إلیه ستراها بأسانیدها وألفاظها ومثل هذا یبلغ حد التواتر ،
اس روایت کی ١٢ اسناد ہیں اور جو روایت ١٢ اسناد کے ساتھ نقل ہوئی ہو تو وہ روایت تواتر کی حد تک پہنچی ہوتی ہے، (یعنی وہ روایت سو فیصد صحیح و معتبر ہوتی ہے)
حوالہ : [ البدایة والنهایة - جلد ٧ - ص ٢٩٠ - ٣٠٧ ]
جناب ابن کثیر صاحب نے دعوی کیا ہےکہ اگر ایک روایت ١٢ اسناد کے ساتھ نقل ہوئی ہو تو وہ روایت متواتر ہوتی ہے، لیکن ناکثین، قاسطین اور مارقین سے جنگ کرنے والی رسول خدا سے نقل ہونے والی روایت کو٢٠ اسناد کیساتھ نقل کیا ہے یہ روایات چھ اصحاب سے منقول ہے۔ (١) امیر المومنین علیہ السلام سے منقول۔ (٢) عمار بن ياسر (٣) عبد الله بن مسعود (۴) ابو ايوب انصاري (۵) خزيمة ذوالشهادين (٦) سعيد خدري سے بھی منقول روایات ہیں۔
♨ یافعی کی باتوں کی تائید میں ابن کہتے ہیں : یافعی کا کہنا صحیح ہے کہ جمل و صفین اور نہروان کے لوگ باغی تھے، اور پیغمبر اکرم ﷺ وآلہ سے حضرت علی علیہ السلام کی یہ روایت اس پر دلیل ہے جس میں آپ نے فرمایا مجھے ناکثین و مارقین اور قاسطین سے جنگ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ ناکثین سے مراد جنگ جمل کے لوگ ہیں اس لئے کہ انھوں نے علی علیہ السلام کی [بیعت کرنے کے بعد] انکی بیعت کو توڑ دیا تھا؛ اور قاسطین سے مراد، شام کے لوگ ہیں اس لئے کہ انہوں نے آپ کی بیعت نہ کرکے حق سے تجاوز کیا اور مارقین سے مراد نہروان کے لوگ ہیں اسلئے کہ انکے سلسلہ میں ہمارے پاس صحیح حدیث موجود ہےکہ یہ لوگ دین سے اسی طرح سے نکل گئے جس طرح سے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔
حوالہ : [ تلخيص الحبير - جلد ۴ - صفحہ ۴۴ ]
♨ راوی کہتا ہےکہ میں عبد الله ابن عمر کے پاس تھاکہ عراق سے ایک شخص وہاں آیا اور اسنے ابن عمر سے کہا: میں چاہتا ہوں کہ آپکی پیروی کرتے ہوئے، آپ کے اخلاق کو اپنے لیے عملی نمونہ قرار دوں۔ میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں، آیت قرآن ہے کہ:
جب بھی مؤمنین کے دو گروہ آپس میں جنگ کریں تو ان کے درمیان صلح کو برقرار کرو اور اگر ان دو گرہوں میں سےکوئی ایک دوسرے گروہ پر تجاوز و طغیان کرے تو ظالم و طغیان گر گروہ سے مقابلہ کرو تا کہ وہ خداوند کے فرمان کی طرف پلٹ آئے۔
سوره حجرات آیت ٩ : " پھر اس نے ابن عمر سے کہا: اس آیت کے مطلب (تفسیر) کو میرے لیے بیان کرو۔
فقال عبد الله بن عمر ما لک ولذلک انصرف عنی ،
عبد الله ابن عمر نے کہا : اس آیت سے تمہارا کیا کام ہے ، جاؤ یہاں سے چلے جاؤ !
وہ عراقی وہاں سے اٹھ کر چلا گیا، پھر راوی کہتا ہے کہ عبد اللہ ابن عمر نے ہم سے کہا:
میں جب بھی قرآن کی اس آیت کے بارے میں سوچتا ہوں تو احساس شرمندگی کرتا ہوں، کیونکہ میں معاویہ کے ستمگر گروہ و لشکر کے خلاف جنگ نہیں کر سکا، حالانکہ خداوند نے مجھے اس کام کے کرنے کا حکم دیا تھا۔
حوالہ : [ المستدرک علی الصحیحین - حدیث ٣٧٢٢ ]
👈 امام حاکم نیشاپوری نے بھی اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ ذہبی نے اس روایت کے بارے میں کہا ہے کہ : یعنی یہ روایت کتاب صحیح مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے، اسی وجہ سے یہ روایت صحیح ہے۔
♨ اسد الغابۃ میں ابن اثیر جزری نے بھی اس روایت کو ذکر کیا ہے کہ: اپنی زندگی کے آخری لمحات میں جب عبد اللہ ابن عمر دنیا سے جارہا تھا تو اس نے کہا:مجھے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ جس چیز پر افسوس ہوا ہے وہ یہ ہےکہ میں نے باغی و طغیان گر گروہ کے خلاف جنگ کیوں نہیں کی۔
اور مجھے کسی چیز کا افسوس نہیں ہے، مگر یہ کہ میں نے جنگ صفین میں لشکر علی ابن ابی طالب میں شرکت کر کے معاویہ اور عمرو عاص کے باغی و ستمگر گروہ کے خلاف جنگ کیوں نہیں کی۔ ،
♨ شعبی کہتا ہے کہ مسروق نے مرنے سے پہلے توبہ کی کہ کیوں اس نے علی کے لشکر میں شریک ہو کر معاویہ سے جنگ نہیں کی۔
حوالہ : [ اسد الغابة فی معرفة الصحابة - حصہ ھفتم - ص ٦١۵ ]
👈 مرتے وقت تو دوست دشمن سب کو معلوم ہو جائے گا کہ علی ابن ابی طالب حق پر تھے، مؤمن وہ ہے کہ جو اس دنیا میں علی کے صراط مستقیم پر چل کر انکے حق پر ہونے پر ایمان لا کر انکا ساتھ دے اور اسی راہ اور عقیدے پر اس دنیا سے رخصت ہو، ورنہ ساری زندگی علی اور اولاد سے دشمنی کر کر کے آخر میں شرمندہ اور پشمان ہونے کا کیا فائدہ ہے ؟!!!!
Copied by King of kings
No comments:
Post a Comment