قاسطین
سال ہا سال گزر گئے راقم کو ابھی تک سمجھ میں نہیں آیا کہ جب خارجیوں کے مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے شدید اختلاف کرنے کے با وجود آپ کرم۔ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ(خارجی) ہم سے قرآن کی تشریح میں شدید اختلاف کی وجہ سے ہمارے سخت مخالف (یا دشمن) ہوئے، حالانکہ آپ کرم۔ نے انہیں سمجھایا بجھایا اور آپ کرم۔ کی طرف سے حضرت عبد اللہ بن عباس رض نے بھی کوشش کی، سب نہیں مانے تو باقیوں کو زمین پر فتنہ و فساد پھیلانے کی بنا پر آپ کرم۔ نے جنگ میں قتل بھی کیا۔۔۔۔ بعد میں پوری تاریخ میں ان کا سراغ نہیں ملتا الا۔۔۔۔
2۔ دوسرے یہ کہ تاریخی شہادتوں کے مطابق بچے کھچے خارجی " ملک عضوض " نے اپنے ساتھ ملا لئے تھے۔( اسی لئے حضرت محبوب الٰہی قدس سرہ کا فرمان ہے کہ " وہ (قاتل مولا علی) معاویہ کی طرف ہو گیا تھا۔۔۔"). تو ڈاکٹر صاحب اور ان جیسے دیگر غلط طور پر خراجی و خارجیت کہنے کی بجائے صحیح اصطلاح میں براہ راست " ناصبی و ناصبیت " کیوں نہیں کہتے ؟ بالخصوص ناصبیت کے اس دور میں ! حالانکہ کہنا ہمیشہ ہی چاہئے۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ناصبین کو نبی کریم ص کے دیئے گئے ذمی خطاب " قاسطین" و قاسطینیت سے مخاطب کرنا چاہئے۔
No comments:
Post a Comment