ابن قاسم، طارق بن زیاد، صلاح الدین ایوبی
جو کچھ آپ نے لکھا۔ وہ ویسے بھی تاریخ کے جھوٹوں کا لکھا ہوا ہے۔ پھر بھی اسی تاریخ سے حقائق برامد کئے جا سکتے ہیں کہ جھوٹ بھی بنا حق کے کھڑا نہیں رہ سکتا۔ آپ اسی تاریخ میں حقائق تلاش کرنے کی کوشش ضرور کیجئے گا۔آنکھ موند کے پڑھنا بند کر دیجئے۔ پانچ بنیادی عقائد کے علاوہ، ایمان اپنے دریافت کردہ حقائق پہ لائے۔
اب سنئے ! سندھیوں سے جا کر پتہ کیجیے کہ ابن قاسم کیوں آیا تھا ؟ ان کے بڑوں پہ جو گزری وہ بتائیں گے۔
پھر بھی فرض کر لیتے ہیں کہ اس نے اس(باطل) روایت کے مطابق ہی راجہ داہر کو شکست دی تھی۔ یاد رہے ہم بات کر رہے ہیں اسلام ، ایمان اور مسلمانوں کی یعنی نبی ص،نبوت اور امتیوں کی۔ کیا آپ ص حکمراں بنا کے مبعوث کئے گئے تھے ؟ ابن قاسم اسلام پھیلانے کی نیت کر کے آیا تھا ؟ وہ قبائل اور لوگ کہاں پائے جاتے ہیں جو اس کے و اس کے جنگجوہوں کے ہاتھ پہ مسلمان ہوئے تھے؟حالانکہ تمام دنیا میں وہ تمام اقوام اور قبیلے آج تک بھی ان ہی مسالک و مذاہب پر عمل پیرا ہیں جن پر ان کے آبا و اجداد مسلمان ہوتے وقت عمل کیا کرتے تھے.خواہ سنیوں کی ائمہ کی فقہ کے ماننے والے ہوں یا شعیوں کی۔یہی حال دنیا بھر کی عیسائی اقوام کا بھی ہے۔ سندھی قوم چودہ سو سال سے جھوٹوں کی لکھی گئی تاریخ کے خلاف کیوں بیان کرتی چلی آ رہی ہے ؟ حالانکہ آپ کو اپنے حساب سے پڑھوائی گئی تاریخ کے مطابق تو اسے ابن قاسم کے گن گانے چاہیں کہ اسی کے ہاتھ پہ مسلمان ہوئے تھے۔
صلاح الدین ایوبی کے بارے میں پتہ کیجئے کہ کس نسل کا تھا اور کس نسل کے حکمراں نے اس کی پرورش و پرداخت و تربیت کی تھی۔
طاریق بن زیاد ؟ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے نبیوں کو دوسری قوموں پہ تسلط اور حکمرانی کرنے کے لئے مبعوث کیا تھا ؟ اپنے باطن کو جھجھوڑئے اور اپنی قدیم ترین تاریخ کی طرف پلٹئے!
طاریق بن زیاد کا فتح کردہ ملک اسلام اور مسلمانوں کا ملک کیوں نہیں رہا ؟ باوجود اس کے کہ وہاں عربوں نے آٹھ سو میں سے شروع کے پانچ چھ سو سال حکومت کی۔
جناب والا ؟ آپ انبیاء علیھم اسلام کی بعثت کے مقصد سے خود رو گردانی نہیں کر رہے (حالانکہ خواہ آپ نا دانستہ طور پر ایسے تمام خیالات کو اپنے ہی سمجھتے ہوں) بلکہ یہ عربوں کی کارستانی ہے کہ انہوں نے رب العالمین کے رحمت اللعالمین نبی و رسول ص کو ایک (نعوذ باللہ) آمر بنا کے پیش کیا جو سب سے پہلے قریش کو عربوں پر اور پھر عربوں کو دیگر اقوام پہ مسلط کرنے آیا تھا۔
مگر، پھر بھی قریش اور عرب اس میں سے کچھ بھی سنبھال کے نہ رکھ سکے (رکھ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان پر آج تک دور جاہلیت کا خمار چڑھا ہوا ہے) الا اپنی دور جاہلیت کی روایات کے مطابق دوسروں پر قہر و ظلم و زیادتی کرنے کے۔
حضرت عمر رض کا قول :
اے کاش ! عرب اور ایران کے درمیان آگ کا پہاڑ ہوتا !
ایک روایت میں " آگ کا دریا " آیا ہے۔
آپ حضرت عمر رض کے اس قول پر خوووووب غور کیجئے اور لب لباب بتائے۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment