مرشد کیوں ضروری . بیعت مرشد ، کی اہمیت
قرآن و حدیث کی روشنی میں ۔
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَ
الْعَشِي يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ط وَ لَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ -
الكهف - 28
(اے میرے بندے تو اپنے آپ کو اُن لوگوں کی سنگت میں جمائے رکھا کر جو صبح و شام اپنے رب کو یاد کرتے ہیں، اُس کی رضا کے طلبگار رہتے ہیں اُس کی دید کے متمنی اور اُس کا مکھڑا تکنے کے آرزومند رہتے ہیں تیری محبت اور توجہ کی نگاہیں اُن سے نہ ہٹیں۔
يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِم - (القران)
بنى اسرائيل - 71
جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام (پیشوا)کےساتھ بلائیں گئے۔
وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيَاً مُرْشِداً - الكهف 17
اور جو گمراہ ہوجائے آپ اس کا کوئی ولی اور
مرشد نہیں پائیں گے۔
لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا - آلقرآن - سوره فتح ۱۸
بے شک الله راضی هوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری ببعیت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ھے تو ان پر اطمینان اتارا اور ان میں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا۔
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا - القرآن . سوره فتح ۱۰
وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو الله ہی سے بیعت کرتے ھیں ان کے ھاتھوں پر الله کا ھاتھ ھے تو جس نے عہد توڑا اس نے اپنے بڑے عہد کو توڑا اور جس نے پورا کیا وہ عہد جو اس نے اللہ سے کیا تھا تو بہت جلد اللہ اسے بڑا ثواب دے گا ۔
ألا إن أَوْلِيَاء اللهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ -
القرآن - سوره یونس ۱۰
سن لو بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ھے نہ کچھ غم۔
وَ لَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا - الكهف - 28 اور تو اُس شخص کی اطاعت بھی نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر دیا ہے۔
18.Surah Al-Kahf (Verse 65)
فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا
(وہاں) انہوں ( حضرت موسیٰ ء ) نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ ( حضرت خضر ء ) دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت نعمت ولایت دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا
18.Surah Al-Kahf (Verse 17)
وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَت تَزَاوَرُ عَن كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِّنْهُ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهُ مَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا
اور جب سورج نکلے تو تم دیکھو کہ (دھوپ) ان کے غار سے داہنی طرف سمٹ جائے اور جب غروب ہو تو ان سے بائیں طرف کترا جائے اور وہ اس کے میدان میں تھے۔ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جس کو خدا ہدایت دے یا وہ ہدایت یاب ہے اور جس کو گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی دوست راہ بتانے والا ( وَلِيًّا مُرْشِدًا ) نہ پاؤ گے
17.Surah Al-'Isra' (Verse 71)
يَوْمَ نَدْعُو كُلُّ أُنَاسِ بِإِمَامِهِمْ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَئِكَ يَقْرَءُونَ كِتَابَهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا
جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے پیشواؤں) بإمَامِهِم ) کے ساتھ بلائیں گے۔ تو جن کے اعمال) کی کتاب ان کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی وہ اپنی کتاب کو خوش ہو ہو کر پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہ ہوگا
31.Surah Luqman (Verse 15)
وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَى أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبَهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
اور اگر وہ ( والدین ) تیرے در پے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا۔ ہاں دنیا کے کاموں میں ان ( والدین ) کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری ( اللہ پاک کی ) طرف رجوع لائے اس کے رستے پر چلنا ( اتَّبِعْ سبیل ، پیروی کرنا ( پھر تم کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ تو جو کام تم کرتے رہے میں سب سے تم کو آگاہ کروں گا)
صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
ان لوگوں کے رستے ) پر چلنے کی توفیق دے ) جن ( لوگوں ) پر تو اپنا فضل و کرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصہ ہوتا رہا اور نہ گمراہوں کے
@ameer_khaki_51214
#raheslook #sufism #highlight #everyone #followers #طریقت #marfat #ouliya #murshad #bait
No comments:
Post a Comment