Tuesday, January 13, 2026

حديثِ موالاۃ کے معنی پر چند آثارِ صحابہ


حديثِ موالاۃ کے معنی پر چند آثارِ صحابہ🌹💯🌺

رسول اللهﷺ نے حج الوادع سے واپسی پر غدیر خم کے مقام پر قیام فرمایا اور صحابہ کرام کے جمع غفیر سے اھل البیت اور خصوصاً سیدنا علیؓ کے حوالے سے کچھ وصیتیں کی۔ اس خطبہ کا ایک حصہ حدیثِ ثقلین کے نام سے معروف ہے اور دوسری حدیث: ” مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاهُ “ ہے۔ یہ حديث الغدير اور حديث الموالاة کے ناموں سے معروف ہے۔ اس میں لفظ ”مولا“ کے معنی پر کافی بحث ومباحثہ چلتا رہتا ہے تو کچھ دن پہلے بعض احباب نے اس کے متعلق مجھ سے سوال کیا کہ کیا اس کے معنی ومفہوم پر کوئی آثارِ صحابہ موجود ہیں؟ تو اسی ضمن میں اس پر چند آثارِ صحابہ پیش خدمت ہیں کہ صحابہ اس کا کیا مفہوم لیتے تھے۔

(➊): ریاح بن حارث النخعیؒ بیان کرتے ہیں :

« جَاءَ رَهْطٌ إِلَى عَلِيٍّ بالرَّحْبَةِ فَقَالُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَانَا قَالَ: كَيْفَ أَكُونُ مَوْلَاكُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ؟ قَالُوا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ يَقُولُ: " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ " قَالَ رِيَاحٌ: فَلَمَّا مَضَوْا تَبِعْتُهُمْ، فَسَأَلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالُوا: نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ ».

  ❞رحبہ کے مقام پر سیدنا علیؓ کے پاس ایک گروہ آیا اور انہوں نے کہا : اے ہمارے مولا(آقا) آپ پر سلامتی ہو۔ تو سیدنا علی نے کہا: میں تمہارا مولا کیسے ہوں جبکہ تم تو عرب لوگ ہو؟ تو ان حضرات نے کہا: ہم نے غدیر خم کے دن رسول اللهﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ: ”جس کا میں مولا ہوں تو پس پھر اس کا یہ(علی) مولا ہے۔“ ریاح کہتے: جب وہ لوگ چلے تو میں نے ان کا پیچھا کیا اور پوچھا یہ کون لوگ ہیں تو انہوں نے کہا: انصار کا ایک گروہ ہے جن میں سیدنا ابو ایوب انصاریؓ بھی ہیں۔❝

📘[  مسند أحمد ط الرسالة ، ٥٤١/٣٨ | وإسناده صحيح ]

دوسرے طریق میں ہے کہ ریاح کہتے :

« رَأَيْتُ قَوْمًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَدِمُوا عَلَى عَلِيٍّ فِي الرَّحْبَةِ فَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: مَوَالِيكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ … »

❞میں نے انصار کے کچھ لوگوں کو دیکھا جو رحبہ کے مقام پر سیدنا علی کے پاس آئے تو علیؓ نے ان سے پوچھا : تم کون لوگ ہو؟ تو ان لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین ! ہم آپ کے موالی(غلام) ہیں…❝

📘[  مسند أحمد ط الرسالة ، ٥٤٢/٣٨ | إتحاف الخيرة ، ٢١٢/٧ | إسناده صحيح وقال البوصيري: رجاله ثقات ]

ایک اور طریق میں ہے کہ ریاح کہتے :

« فَلَقَدْ رَأَيْت عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَامُ ضَحِكَ حَتَّى بَدَّتْ نَوَاجِذُهُ، ثُمَّ قَالَ: اشْهَدُوا. ثُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ مَضَوا إِلَى رِحَالِهِمْ فَتَبِعْتُهُمْ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ: مِنْ الْقَوْمِ؟ قَالُوا: نَحْنُ رَهْطٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَذَاكَ - يَعْنُونَ رَجُلًا مِنْهُمْ - أَبُو أَيُّوبَ صَاحِبُ مَنْزِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَصَافَحْتُهُ ».

❞پس ان لوگوں سے یہ فرمانِ نبوی سن کر علی عليه السلام ہنس پڑے🥰 حتی کہ آپ کے دانت نظر آنے لگے پھر آپ نے فرمایا: گواہی دو(کہ جس نے یہ فرمانِ نبوی سنا ہو)۔ پھر جب وہ لوگ واپس چلے تو میں ان کے پیچھے ہو لیا اور ان میں سے ایک آدمی سے کہا: تم کس قوم سے ہو؟ تو انہوں نے کہا: ہم انصار کا ایک گروہ ہیں اور یہ میزبانِ رسولﷺ ابو ایوب انصاریؓ ہیں۔ ریاح کہتے: پس میں ان کے پاس گیا اور ان سے مصافحہ کیا۔❝

📘[ صفين لإبن ديزيل كما في شرح نهج ، ٢٠٨/٣ | وإسناده حسن ]

(➋): ابو رملہ عبداللہ بن ابی امامہ بیان کرتے ہیں :

« أَنَّ رَكْبًا أَتَوْا عَلِيًّا ، فَقَالُوا : السَّلامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، قَالَ : وَعَلَيْكُمْ أَنَّى أَقْبَلَ الرَّكْبُ ؟ قَالُوا : أَقْبَلَ مَوَالِيكَ مِنْ أَرْضِ كَذَا وَكَذَا . قَالَ : أَنَّى أَنْتُمْ مَوَالِي ؟ قَالُوا : سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ : مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ . فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلا سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا قَالَ إِلا قَامَ ؟ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلا فَشَهِدُوا بِذَلِكَ ».

❞سیدنا علی کے پاس کچھ سوار آئے اور انھوں نے کہا: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ تو سیدنا علیؓ نے فرمایا: وعلیکم السلام ، یہ سوار کہاں سے آئے ہیں؟ تو ان لوگوں نے کہا: آپ کے موالی(غلام) فلاں فلاں جگہ سے آئے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: تم میرے موالی(غلام) کیسے ہو؟ تو ان لوگوں نے کہا: ہم نے رسول اللهﷺ کو غدیر خم کے دن فرماتے ہوئے سنا کہ : ”جس کا میں مولا ہوں تو اس کا علی مولا ہے۔ اے اللہ! اس سے محبت رکھ جو علی سے محبت کرے اور اس سے بغض رکھ جو علی سے بغض رکھے۔“
پھر سیدنا علیؓ نے فرمایا : میں اُس شخص کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں جس نے رسول اللہﷺ سے یہ فرمان سنا تھا وہ کھڑا ہو جائے ، تو بارہ افراد نے کھڑے ہو کر اس کی گواہی دی۔❝

📘[ رسالة طرق حديث من كنت مولاه للذهبي ، ص٤٥ ، رقم٣٨ ؛ إسناده صحيح إلى أبي رملة ]

ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ بارہ لوگ (12) بدری صحابہ کرام تھے ، زیاد بن ابی زیاد کہتے :

« سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، يَنْشُدُ النَّاسَ فَقَالَ: " أَنْشُدُ اللهَ رَجُلًا مُسْلِمًا سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا قَالَ: فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِيًّا فَشَهِدُوا »

❞میں نے سیدنا علی کو فرماتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا: میں اللہ کو گواہ بنا کر پوچھتا ہوں کہ جس مسلمان نے غدیر خم کے مقام پر رسول اللهﷺ کا یہ فرمان سنا تھا تو وہ گواہی دے۔ تو بارہ بدری صحابہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس کی گواہی دی۔❝

📘[ مسند أحمد ت الشاكر ، ٤٦٠/١ | قال: إسناده صحيح ]

كتبـ حسين السبحاني

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...