Tuesday, January 13, 2026

نعت رحمت اللعالؐمین

نعت  رحمت اللعالؐمین 

آپ کو پتہ ہے جب تعریف کرتے کرتے آپ رک جاتے ہیں۔ اہل حدیث نے یہ کہا، اہل انکار نے یہ کہا، سعودی عرب سے جو آتے ہیں وہ اس کو شرک سمجھتے ہیں،، گناہ سمجھتے ہیں۔ آپ کو مزے کی بات بتاٶں، رسول اللّٰہ ﷺ غزوہٕ تبوک سےواپس آ رہے تھے کہ حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ نے عرض کی، یا رسول اللّٰہ ﷺ ! میں آپ کی تعریف کرنا چاہتا ہوں، آپ کی صفات بیان کرنا چاہتا ہوں ۔

میں نے اس میں جو refrance  لیا ہے، اسدالغابہ سے لیا ہے۔ جو سب سے مستند ترین historian ہیں۔ عرب کے بڑے بڑے علما ٕ کے نزدیک اس سے زیادہ مستند کوٸی نہیں ہے۔ سات ہزار اصحاب پہ اس نے خاکے لکھے ہیں 
he is the only one considerd to be master historian about ashab .
 آپ ﷺ نے فرمایا چلو کرلو۔ حضرت حورین بن اوس ؓ نے یہ روایت کی اور اس کو سب نے مستند مانا ہے۔ حضرت عباس ؓ نے جو تعریف کی وہ شعروں کی صورت میں ہیں۔
  
"مِن قَبلِھَا طِبتَ فِی الظِلالِ وَ فِی مُستَودَعٍ حَیثُ یُخصَفُ الوَرَقُ"
اس دنیا میں آنے سے پہلے آپ ﷺ سایہ خاص میں تھے اور اس منزل محفوظ میں تھے جہاں پتوں سے بدن ڈھانپے گٸے تھے۔

"ثُمَّ ھَبَطتَ البِلاَدَ لاَبَشَر” اَنتَ وَلا مُضغَة” وَلا عَلَق" 
پھر آپ ﷺ اس جنت سے اترے اور بستیوں میں پہنچے حالانکہ ابھی آپ نہ تو بشر تھے اور نہ ہی گوشت اور علق کی حالت میں 

"بَل نُطفَة” تَرکَبُ السَفِینَ وَقَد اَلجَمَ نَسرً وَاَھلَہُ الغَرَقُ" 
بلکہ وہ نطفہ جو کشتی نوح پر سوار تھا اس وقت جب پانی کی موجیں پہاڑ کی چوٹی کو چھو رہی تھیں اور اہل زمین ڈوب چکے تھے

"وَرَدتَ نَاراَلخَلِیلِ مُکتَتَمَا فِی صُلبِہِ اَنتَ کَیفَ یَحتَرقُ"
آپ ﷺ آتش خلیل میں بھی اترے ابراہیم کی صلب میں آپ ہی تو تھے چھپے ہوٸٕے پھر آگ سے ابراہیم بھلا کیسے جلتے 

"تَنقَلُ مِن صَالِبٍ اِلٰی رَحمٍ اِذَامَضٰی عَالَم” بَدَا طَبَقُ"
یوں آپ ﷺ اصلاب سے ارحام کی جانب منتقل ہوتے رہے جب ایک دور گزرتا تو دوسرا دور شروع ہو جاتا 

"حَتٰی احتوٰی بَیتِکَ المُھَیمِنُ مِن خِندِفَ عَلَیاَ ٕ تَحتَھَاالنَطقُ"
یہاں تک کہ آپ ﷺ کی حفاظت آپ کے اس محافظ گھرانے نے کی جو خندف جیسی بلند خاتون کا ہے 

"وَاَنتَ لَمَّا وُلِدتَ اَشرَفَتِ الاَرضُ وَضَاعَت بِنُورِکَ الاُفُقُ "
اور جب آپﷺ اس دنیا میں تشریف فرما ہوئے تو یہ زمین پرُ نور ہوگئی اور فضاٸیں جگمگا اٹھیں 

"وَنَحنُ فِی ذٰلِکِ الضِیَا ِٕ وَفِی النُّور وَسُبلَ الرَّشَادِ نَختَرِقُ"
 اب ہم سب لوگ اسی روشنی اسی نور میں ہیں اور رُشد و ہدایت اور استقامت کی راہیں نکال رہے ہیں 

یہ نعت رسول اللّٰہ ﷺ کے سامنے پڑھی گئی،، اللّٰہ کے رسول ﷺ نے اس پر کوٸی اعتراض نہیں کیا۔ اعتراض کیا لیکن ایک دیگر نعت پہ کیا۔ جب حضرت کعب بن ذہیر ؓ نے نعت پڑھی، کہا کہ:

"اِنَّ الرَسُولَ لَسَیف” یُستَضَا ُٕ بِہِ مَھِنَّد” مِن سَیُوفِ الھِندِ مَسلُول "
آپﷺ کی مثال ہندی تلواروں کی طرح ہے, سیف من سیوف الھند کی طرح ہے، جس کی چمک سے زمانہ روشن ہوتا ہے۔                                      

آپ ﷺ نے اسی وقت ٹوک دیا، کہا کہ سیف ہندی نہ کہو سیف اللّٰہ کہو، اللّٰہ کی تلوار کہو، ہندی نہیں۔ یعنی اگر اللّٰہ کے رسول ﷺ کو ایک لفظ بھی اس نعت میں غلط نظر آتا یا ان کے مطابق یہ حال نہ ہوتا تو حضرت عباسؓ کو روک دیتے یہ ایک طرح کی limitations ہیں کہ آپ کہاں تک اللّٰہ کے رسول ﷺ سے محبت کا اظہار کرسکتے ہیں اور یہ بڑی وسیع ہے اس سے کہیں وسعت اور موجود ہے۔

میرے آقا میرے صاحب میرے رسول ﷺ 

از استاد محترم پروفیسراحمدرفیق اختر
@highlight
@everyone
Copied:-  شہباز شاھین کی وال سے

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...