اموی ؟
Al-Miher Khan بنوں امیہ کی اسلام اور اہل بیت سے شمنی بار بار بیان کی جاتی ہے اور بنو امیہ کو ایسے پیش کیا جاتا ہے کہ جیسے سارے اس قبیلے کے لوگ ایک ہی طرح کی ذہنیت اور نفسیات رکھتے تھے۔ اور سب سے زیادہ دشمنی انہوں نے ہی اسلام سے کی ہے۔ حالانکہ یہ تاریخی فیکٹ نہیں ہے۔ جزیرہ نما عرب میں سینکڑوں قبائل تھے اور ہر قبیلے نے اپنے اپنے طور پر اپنے پہلے دین اور رسم و رواج کا دفاع کیا اور مسلمانوں پر اور صحابہ کرام پر بے شمار ظلم کیے۔ اور بعض نے تو دھوکے سے بلا کر شہید کردیا۔ ایک قبیلے نے تو ایک دن میں تقریبا 70 صحابہ کو تبلیغ کے نام پر بلا کر انتہائی بے دردی سے شہید کیا۔ بنو ثقیف اور بنو حوازن نے تو فتح مکہ کے بعد بھی لڑائیاں جاری رکھیں۔ اور بعد میں سب قبائل کے لوگوں نے آہستہ آہستہ اسلام قبول کرلیا۔ بنوامیہ کی دشمنی کو بڑھا چڑھا جو پیش کیا جاتا ہے اس کی وجہ واقعہ کربلا ہے۔ جس کے بعد سنی جزباتی طور پر اس طرف متوجہ ہوا اور اہل تشیع نے باقاعدہ پروپیگنڈے کے ذریعے عقیدہ امامت کے مدمقابل ان کو ولن بنایا۔ ایک دائمی ولن ہاشمی خاندان تو ہو نہیں سکتا تھا۔ انہیں براہ راست تبراء کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ کیوں کہ وہ حضور پاک کے خاندان سے تھے۔ ابو
ابولہب ہاشمی تھا اور بہت سے دوسرے لوگ جو بدر اور احد میں لڑنے ائے ان میں بہت سارے ہاشمی تھے۔ ابو سفیان تو بنیادی طور پر ایک کاروباری انسان تھا اور وہ منظر عام پر تب آیا جب ابوجہل اور باقی سردار بدر میں مارے گئے۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اسی قبیلے میں بہت سارے جلیل القدر صحابی تھے مثلن حضرت عثمان اور حضرت حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ جو السابقون الاولون میں سے ہیں اور وہ حضرت ہندہ کا سگا بھائی ہے۔ اور اسے دو ہجرتیں کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ ایک حبشہ کی طرف اور دوسری دوبارہ مکہ سے مدینہ کی طرف۔ دونوں دفعہ اپنی زوجہ اور باقی فیملی کے ساتھ۔ اور 15 سال اپنے قبیلے کا بائیکاٹ اور ظلم برداشت کیے۔ جنگ بدر میں اللہ نے حضرت حذیفہ کا وہ امتحان لیا کہ پہاڑ وں کے دل بھی دہل جائیں۔ آپ کے سامنے آپ کا باپ آپ کا چچا اور سگا بھائی تھا جس سے اب جنگ کرنی تھی۔ تینوں کو اصحاب رسول نے قتل کر دیا اور حضرت حمزہ نے ان کے والد کو قتل کیا اور اس کو تلوار مار کے دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ جب جنگ ختم ہوئی اور سب کفار کو اٹھا کر ایک کنویں میں پھینک کر اوپر مٹی برابر کی جا رہی تھی تو یہ منظر دیکھ حضرت حذیفہ کا ایک رنگا آ رہا تھا اور ایک جا رہا تھا۔ انتہائی مغموم تھے کہ پیچھے سے آ کر نبی پاک نے آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اور آپ نے پوچھا حذیفہ کیا سوچ رہے ہو۔ آپ نے جواب دیا حضور پاک میرا والد انتہائی دور اندیش اور حلیم الطبہ اور پڑھا لکھا انسان تھا۔ اگر ابو جہل اسے نہ لاتا اور جلدی نہ کرتا تو شاید وہ مسلمان ہو گیا ہوتا۔ یاد رہے کہ یہ جنگ ابوجہل کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہوئی تھی۔ ذرا سوچیں اور اس عظیم امتحان کو تھوڑی دیر اپنے اوپر کے قیاس کریں۔ اپنے ہی والد اپنے چچا اور اپنے بھائی کو جنگ میں آمنے سامنے دیکھ کر کیا گزری ہوئی زندگی کی پوری فلم ان کے آنکھوں کے سامنے نہیں گزر گئی ہوگی جو بچپن سے لے کر جوانی تک گزاری ۔ والد کے احسانات چچا کا پیار اور بھائی سے کھیلنا۔ اور آخر میں یہ دکھ اور افسوس ان کا بغیر ایمان لائے مر جانا۔ اور خود بعد کی ایک جنگ میں شہید ہوئے۔ باقی صحابہ کا بھی کچھ اسی طرح کا ہی امتحان تھا اور یہ نصاب انہوں نے ہر دفہ میدان کارزار میں ہی پڑا ہے کوئی ڈیسک پر بیٹھ کر کاغذ قلم سے نہیں لکھا۔ اور اسی طرح بنو امیہ کی بہت ساری عورتیں ایمان لائیں۔ خود ام حبیبہ ابوسفیان کی وہ بیٹی ہیں جو سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہیں۔ یعنی نبی پاک کی زوجہ محترمہ۔ حضرت امیر معاویہ صلح حدیبیہ کے وقت ایمان لا چکے تھے اور فتح مکہ کے بعد اس کا اعلان کیا اور ان کے بھائی یزید بن ابی سفیان نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ اگر اس خاندان میں یزید بد بخت نہ ہوتا تو شاہد بنوں امیہ اتنے بد نام نہ ہوتے ۔ مگر حیرانگی کی بات ہے اسی یزید کے گھر اس کا بیٹا پیدا ہوتا ہے جو آگے چل کر تین براعظموں پر پھیلی ہوئی سلطنت کو یہ کہہ کر چھوڑ دیتا ہے کہ میں کربلا میں ظلم کے بعد یہ حکومت لینا پسند نہیں کرتا۔ تو سوچنا چائے ہر انسان کی نفسیات مختلف ہوتی ہے جو اپنے وقت سے متاثر ہوتی ہے۔ مولوی اور ذاکر روتا ہے کہ ہندہ نے کلیجہ چبایا۔ یہ بھی تو بتانا کہ کفر کی حالت میں اس کا کتنا بڑا امتحان تھا۔ بیٹی نے نبی پاک سے شادی کرلی بھائی بیٹا اور باپ قتل کر دیا گیا۔ تو جناب انسانی فطرت کے تحت سوچیں کہ جس طرح مسلمانوں نے اپنے مذہب کی محبت میں کفار کے رشتے داروں کو قتل کیا گیا دوسری طرف ان کا بھی ایک مذہب تھا اور ان کے رشتہ دار تھے۔ بہرحال اللہ رب العزت نے پھر بھی بالآخر انہیں ایمان لانے کی توفیق دیی۔ اب ان ایمان والوں کو تبرا کر کے اپنی آخرت نہ تباہ کریں۔ کیونکہ وہ نبی پاک کی ساس ماں بھی ہے اور امت کی ماں کی ماں بھی ہے اس کے ایمان لانے کے بعد سارے پہلے گناہ معاف ہو گے۔ صحابیہ کا شرف بھی حاصل ہوگیا۔ اسی طرح باقی صحابہ کرام جس جس کی جیسی تقدیر تھی اس کو اسی وقت ایمان نصیب ہوا۔ آج لوگوں کو اپنے اعمال کی فکر کرنی چاہیے۔ اللہ تعالی ہم سب کو قرآن اور نبی پاک کی سنت کی روشنی میں معاملات کو سوچنا اور زندگی گزارنے کی توفیق دے آمین۔.
No comments:
Post a Comment