سچا مذہب ؟
کتاب _ نغمہ ء جاوید _ قسط نمبر 9
اس متلاشی نے دانائے راز سے پوچھا !
سچا مذہب کونسا ہے ؟
گلابوں کے رنگ الگ ہیں ' لیکن خوشبو سب کی ایک ہی ہے__میٹھے پکوانوں کو جتنے رنگ دئیے جائیں ' وہ مٹھاس سے جڑیں رہیں گے ____ سونے کی انگھوٹی اور پازیب کو اصلی حالت میں لائیں تو سونا بن جائے گی ___صورت اور ناموں نے حقیقت چھپا لی ہے __درخت کی ٹہنی اور تنے کی اصل بیج ہے ___میز اور کرسی کی اصل لکڑی ہے__ہر مذہب کی اصل خدا ہے ______ہر مذہب کی منزل خدا تک ہے __دعا اور رقص سے جڑے مذاہب خدا سے جڑے مذاہب ہیں
______جہاں ہندو بھگوان کو پکارتا ہے وہی مسلمان رحمن کو پکار رہا ہوتا ہے
_______مذاہب کا تضاد کائنات کا حسن ہے______مذاہب کی اصل توحید ہے ______ابتدائ مذہب توحید کا نغمہء جاوید ہے __تاریخ _مذاہب عالم میں کہیں نہ کہیں توحید نظر آتی ہے __اصل سے واصل ہونا جانا ہی کامیابی ہے،
قطرہ جو دریا میں ملے تو دریا ہو جائے
کام وہ اچھا ہے جس کا مآل اچھا ہے
اے عزیز !
ہم سب کی آدم کی اولاد ہیں ' آدم ع نے پہلا اعلان ایک خدا کا کیا ' سب اسی کے پیروکار ٹھہرے __پھر ان کی وفات کے بعد کچھ آدم پرستی میں ڈھل گئے ' کچھ آدم کی فلاسفی میں غوطہ زن ہوئے ___کسی نے کہا ! آدم کی اصل مٹی ہے ' وہ زمین پرست ہوئے ________کسی نے آدم کی اصل کو آتش کہا ہے ' وہ آتش پرست ٹھہرے ________ کسی کو یہ خیال آیا کہ آدم کی تصویر ہی خدا تک پہنچنے کا راستہ ہے _وہ آدم کے تصویر ساز ٹھہرے ___
تصویر اور بت پرستی اسی فلسفہ کی کڑی ہے _________آدم ثانی کی کہانی بھی اسی فلسفے سے جڑی ہوئ ہے
سبھی تیرے در کے فقیر ہیں
سبھی تیرے در کے اسیر ہیں
کوئ تجھے پکارے سوز میں
کوئ تجھے پکارے ساز میں ،
مذاہب اس پہاڑ کی چوٹی کی طرح ہیں __جسے ہر مذہب فتح کرنا چاہتا ہے __ لیکن مختلف راستوں کے ذریعے مختلف طریقوں کے ذریعے ___کوئ آڑھے ترچھے راستوں سے تو ' کوئ چٹانوں کے سہارے اس چوٹی کی طرف رواں دواں ہے __ کوئ اپنا راستہ خود بنا کے تو ' کوئ دوسروں کے بنے راستوں پہ چلے جا رہا ہے ___مقصد خدا تک پہنچنا ہے __ جسے دیکھو ! وہ اس چوٹی تک پہنچنے کی سعی میں ہے !
آدم کا ہر روپ خدا کا روپ ہے __ہر خیر میں خدا کا عکس ہے___ہر سچ میں خدا کا احساس ہے __ہر نیک راستے میں خدا کی منزل ہے __ہر آدم خدا کی توحید ہے اور ہر توحید خدا کی گواہ ہے ___دیکھنے والی نظر ہو تو خدا ہی خدا ہے __ہر مذہب میں ہر فرقے میں ہر مسلک میں خدا کے جلوے ہیں ،
خرد دیکھے اگر دل کی نگاہ سے۔
جہاں روشن ہے نور _ لا الہ سے
__________________________________سمیع بن کریم
No comments:
Post a Comment