Wednesday, January 14, 2026

مرشد کی نذر

مرشد کی نذر
جی جناب ! یہ بھی لوگوں کو کچھ نہ کچھ سکھانے کا طریقہ ہے،جسے آپ ص نے  اختیار کیا تھا اور مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے آپ ص سے شرف مصابحت حاصل کرنے کے لئے قرآن کی ہدایت کے مطابق کسی مستحق کو معینہ صدقہ دے کر آپ ص کی مصابحت  اختیار کی اور کئی مرتبہ کی۔ آپ کرم۔ اس پر اس قدر فخر کیا کرتے تھے کہ بعد میں اس کو اپنی منفرد و یکتا عظمت کے طور پہ بیان کرتے تھے۔ کیوں کہ اس دوران صحابہ میں سے کوئی بھی آپ کرم۔ کے علاوہ آپ ص کی مصابحت میں نہ آتا تھا۔ غالبا مولا علی کرم۔ کے علاوہ کوئی بھی اس طریقۂ کار کی حکمت سے واقف نہ تھا۔ مفت ہاتھ لگی چیز کی 99.09% لوگ قدر نہیں کرتے‌۔ گھر کی مرغی دال برابر ۔

یہ بھی واضح رہے کہ حاضرین میں سے بیشتر نہیں 99.09% افراد اس روایت اور اس کے ایک طرف سنت آپ ص و دوسری طرف سنت مولا علی کرم۔ ہونے کا یقین و عقیدہ رکھتے ہوں گے۔ اگرچہ مولا علی کرم۔ کے علاوہ تمام صحابہ کرام رضی کی خدا کے اس حکم سے رو گردانی یا خدا بہتر جانے کس وجہ سے یہ حکم منسوخ کر دیا گیا، تھا۔  لیکن صوفیاء کرام مولویوں کے تابع نہیں ہوتے۔ ان کے زیادہ تر معاملات سینا بہ سینا چلی آ رہی متواتر مرویات پہ مبنی ہوتے ہیں۔
مثلا، آپ ہشت بہشت کے زیر نظر اسکرین شاٹ پہ رقم الفاظ ملاحظہ فرمائے، غالب گمان ہے کہ کسی بھی کتب حدیث میں یہ روایت درج نہیں ہوگی مگر نو سو سال سے تمام چشتی( کروڑ ہا کروڑ) اس پر بخاری و مسلم کی روایتوں سے کہیں بڑھ کر غیر متزلزل ایمان رکھتے اور اس کے حق ہونے کی گواہی دیتے چلے آ رہے ہیں۔ برسوں کا تعین حضرت خواجہ معین الدین چشتی آجمیری قدس سرہ کے پیرو مرشد کے زمانے سے کیا ہے۔ خیال رہے، حضرت خواجہ اجمیری قدس سرہ سے قبل آٹھ چشتی بزرگ اور ہیں؛ ورنہ روایت ظاہر ہے، آپ ص اور چاروں اصحاب رسول ص کو اس موقع پر دیکھنے سننے والی کسی شک و شبے سے بالاتر ہستی سے مروی ہے۔

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...