حال ہی میں راقم نے اسلام 360 سے ایک آیت کے ایک جزو۔۔۔و ما انا من المشرکین" کے آٹھ ترجمے نوٹ کئے، دو یکساں لفظی کے علاوہ سب کے مفہوم میں فرق ہے۔
ایک سب سے زیادہ الفاظ کا ترجمہ : میں ہرگز مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
دوسرا سب سے کم الفاظ کا ترجمہ : میں مشرکوں میں نہیں۔
بعض لوگوں کو دونوں بظاہر یکساں مفہوم کے لگتے ہوں گے مگر ہیں نہیں۔ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
ایک عام مسلمان جس نے ناظرہ قرآن پڑھا یا صرف حفظ کیا بلکہ کوئی عام مولانا قاری یا مفتی بھی؛ کوئی سمجھائے وہ کیسے خدا کی منشا کو سمجھ سکتا ہے ؟ کہ زمین والی منشا ہے یا آسمان والی ؟
پھر جس نے خدا کی منشا کے مطابق آسمان والی منشا سمجھی یا زمین والی اس پر بندگان خدا کے لئے مفید اثرات مرتب ہوں گے یا نقصان دہ ؟
کیوں کہ یہ صریح حقیقت ہے کہ وہ اثرات لے کر عمل بھی ضرور کرے گا اور یہ بھی بدیہی حقیقت ہے کہ بندگان خدا پہ بھی کرے گا۔خواہ کسی صورت میں کبھی بھی کرے۔
یہ بھی جدید دنیا کے مجدد ہیں۔ مکے مدینے والے جو بھی تھے خصوصا مکے والوں کے تو لہجے میں قرآن نازل ہوا، عربی خوب اچھی طرح سمجھتے تھے اور پھر بھی مکے کے 13 سالہ دور نبوت میں صرف 128/30 مسلمان ہوئے اور ان میں بھی بیشتر مفلوک الحال غریب، مفلس،غلام ۔
پھر اگر لوگ خدا کے ایک سوا کروڑ الفاظ میں سے منتخب کردہ چھ ہزار الفاظ پر مبنی کلام خدا کو خود ہی سمجھ لیا کرتے تو انبیاء علیھم اسلام کو مبعوث کرنے کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ نہ مولویوں کی ضرورت باقی رہتی الا یہ کہ عجمیوں کو قرآن پڑھنا سکھا دیں۔
No comments:
Post a Comment