Someone to Al-Miher Khan
ماشاءاللہ محترم آپنے بڑی گرانقدر معلومات فراہم کی بہت بہت شکریہ، لیکن سمجھ میں نہیں آیا کہ آپکی بیان کردہ تمام علمی بدعات سے کونسے گناہ کے راستے کھلے ہیں جسکی مخالفت کی جائے، علمی بدعات کرنے والوں نے کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ ہم نے جو لکھ دیا پتھر کی لکیر ہے، علمی بدعات کے سلسلے میں قرآن کو مقدم رکھا گیا ہے اگر کوئی حدیث یا تحقیق قرآن کے خلاف جا رہی ہے تو اس پہ عمل نہیں ہوگا، چوری اور اسپر سینہ زوری کی مصداق کوئی ہٹدھرمی دکھائے بنا یہ اصول بھی تحقیق نگاروں نے طے کردیا ہے نہ کہ مجھ جیسے کم علم نے،
اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے علمی کاموں سے منع نہیں کیا بلکہ فروغ کی تلقین کی ہے ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ علم حاصل کرنے کے لئے اگر چین تک جانا پڑے تو جاؤ، اس حدیث کی روشنی میں احادیث جمع کرنے والوں نے کوئی بدعت نہیں کی بلکہ اللہ کے رسول کے حکم پہ عمل کیا ہے، قرآن بھی ایسی کسی تحقیق کے خلاف خاموش ہے، جب اللہ کے رسول کی حدیث ہے کہ علم حاصل کرو تو ظاہر ہے علمی کام ہوگا تب کوئی علم حاصل کریگا ورنہ کہاں سے علم حاصل ہوگا، تو جن لوگوں نے تحقیقی کام کئے ہیں انہوں نے بھی کوئی بدعت نہیں کی، بلکہ منشاء رسول کے مطابق ہے انکا تحقیقی کام
بحث وغیرہ کرنے کا میں خود کو متحمل نہیں سمجھتا، میں صرف ان بدعات کی بات کررہا ہوں جن سے شریعت و عقیدت کے نام پر خرافات کے راستے کھلتے ہیں، علماء سے ہمیں اسلام کا سیدھا سادہ اصول معلوم ہوا ہے کہ وہ حلال بھی حرام ہے جس سے گناہ کے راستے کھلتے ہوں، اب آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ تمام بدعات جاری رکھنی ہے یا بند کرنی ہے جن کی وجہ سے سڑکوں پر بہن بیٹیاں بے پردہ ہوتی ہیں، ہلڑ مچتا ہے، ڈی جے کی گھن گرج پر نوجوان تھرکتے ہیں، یہ سارے گناہ آپکے بیان کردہ بدعتی حوالہ جات کے محتاج نہیں بلکہ قرآن نے منع کیا ہے، بہت سے لوگوں کا تو موجودہ قرآن پہ بھی ایمان نہیں ہے، وہ تو کوئی اور ہی قرآن تلاش کررہے ہیں، تو اب ہم انہیں تو کچھ نہیں کہ سکتے ہم تو انہیں کہیں گے جو موجودہ قرآن پہ ایمان رکھتے ہیں،
No comments:
Post a Comment