یزید دیوبند کی نظر میں Fatwa ID: 503-499/B=6/1436-U
میرا سوال یہ ہے کہ یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہہ سکتے ہیں یا نہیں.... اس کے بارے میں کیا عقیدہ ہونا چاہیے ؟ ان کو امیر المومنین کہنا کیسا ہے؟؟؟ برائے مہربانی جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔
تنویرالاسلام
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم Fatwa ID: 503-499/B=6/1436-U
یزید حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے تھے اس لیے وہ تابعی تھے، ان کے لیے رحمہ اللہ کہنا چاہیے کیونکہ رضی اللہ عنہ کو صحابہٴ کرام کے ساتھ خاص کردیا گیا ہے، حضرت امیر معاویہ کے بعد بیشک وہ امیر الموٴمنین بنائے گئے تھے، ان کے ہاتھ پر بیعت عامہ ہوئی، صحابہ وتابعین نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی خلفاء راشدین کے بعد جتنے خلفاء ہوئے اگرچہ ان کی خلافت بالکل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر نہ تھی تاہم ان خلفاء کو امیر الموٴمنین کہنا درست ہے، ملا علی قاری نے مرقاة میں ”ولا بأس أن یسمّی القائم بأمور المسلمین أمیر الموٴمنین“ (مرقاة: ۱۰/۱۲۳)
یزید کے بارے میں شیعوں نے فاسق وفاجر ہونے کا عقیدہ پھلایا ہے، لیکن صحیح روایت سے ان کا فسق وفجور ثابت نہیں ہوتا، بلکہ بخاری شریف کی ایک روایت میں آیا ہے کہ جو لوگ قسطنطنیہ کی جنگ میں شریک ہوں گے وہ جنتی ہیں۔ اور بلاشبہ یزید بھی اس جنگ میں شریک ہوئے تھے، بلکہ فوج کے ایک حصہ کے امیر تھے۔ امام بخاری نے اس کی صراحت کی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند 8-4-2015
No comments:
Post a Comment