Wednesday, January 7, 2026

سورہ حدید،آیت10مؤلفۃ القلوب طلقاء سے منسوب کرنے پر اعتراض اور تحلیل

سورہ حدید،آیت10مؤلفۃ القلوب طلقاء سے
منسوب کرنے پر اعتراض اور تحلیل

1/1۔۔۔۔۔۔'' اور تم کو کیا ہوا کہ تم اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے، حالاں کہ سب آسمان اور زمین آخر میں اللہ ہی کا رہ جائے گا۔تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ کریں اور لڑیں وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جنھوں نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور لڑے،اور اللہ نے سب سے بھلائی کاوعدہ کیا ہے،اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔"
الحدید-10; ترجمہ:مولانا وحیدالدین خاں

آیت مبارکہ کے اجزاء کے اعتبار سے ،اس خیال پہ چار  اعتراض کہ "مفتوحین مکہ" سے منسوب کی جائے :-

1۔ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے مفتوحین مکہ کو " طلقاء و مؤلفۃ القلوب"  قرار دیا ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جو بحالت مجبوری فوری ضرورت کے تحت سہولت کی خاطر صرف جان و مال بچانے کے لئے زبانی طور پہ اسلام میں داخل ہوئے،جو ہوئے۔ اس سے قبل  یہ مسلسل بائیس 22 سال آپ ص اور مسلمانوں پر جتنے ظلم و ستم کر سکتے تھے، سب کئے،آپ ص کی اجتماعی طور پہ جان لینے کی(نعوذباللہ) کوشش تک۔ تیرہ 13سال مکے میں اور آپ ص سمیت مسلمان ہجرت کر کے مدینے تشریف لے گئے تو وہاں جا جا کر بھی‌۔ صحابہ کرام رض ان سے جان بچانے کے لئے شاہ حبشہ رح (افریقہ اتھوپیا،مکے سے دوری کم و بیش ہزار کلومیٹر) کی پناہ میں گئے تو واپس مکے لانے کی بھرپور کوشش کی تاکہ ان پر قہر و غضب کے پہاڑ توڑے جائیں اور اپنے بغض و کینے سے دھدھک رہے دلوں کو تسکین دی جائے۔ یہی وہ ہیں جو سات سات سو 700 کلومیٹر کا ریگستانی سفر طے کر کے آپ ص اور مسلمانوں کو قتل (نعوذباللہ) کرنے و اسلام مٹانے کے لئے مکے سے اپنی تمام قہر سامانیوں کے ساتھ لاؤ لشکر لے کے مدینے جاتے رہے۔تین دفعے کے حملے تو اہمترین اور مشہور ترین ہیں؛ بدر و احد و خندق۔ انہوں نے سر توڑ کاوشوں سے اپنے ہر حربے، ہر ہتھیار، ہر چال کا استعمال آپ ص کو قتل(نعوذ باللہ) اور اسلام کی جڑ جمنے سے پہلے ہی اکھاڑنے کے لئے کیا۔آپ ص رحمت اللعالمین ہیں سو مفتوحین مکہ کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کی بجائے آزاد (طلقاء) کر دیا۔چونکہ یہ صرف جان و مال بچانے کے لئے مجبوراً لسانی طور پہ اسلام میں داخل ہوئے اور دنیوی مال و منال کے بڑے حریص و دل دادہ تھے ؛ سو آپ ص نے ان کی جبلت کے پیش نظر ان کے قلوب کو راہ راست دکھانے کے لئے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے مقابلے خوب مال و مویشی عطا کئے اور " مؤلفۃ القلوب" نام رکھ کر ان کی ایک اور (,پہلی طلقاء) الگ شناخت قائم کر دی۔۔۔۔( یہی ان کی و ان کی نسلوں کی اصل شناختیں ہیں،جنہیں بدلنے، مٹانے، چھپانے  کا کسی کو ذرا برابر بھی حق نہیں ہے۔ کوئی مسلمان ان سے اعراض برت سکتا ہے نہ آیات و احادیث میں تحریف کر کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حقوق مار کر، انہیں دے سکتا ہے الا سادہ لوح یا ناصبی، خارجی،منافق۔ اسلام کے زبانی اقرار سے سب کے جان و مال اور آل اولاد بچ گئے لیکن-طلقاء میں ان کی جبلت کے مطابق " آزاد کردہ " ہونے کی ذلت آمیز شناخت سے پیدا ہو رہا غصہ خصوصاََ ان لوگوں کو کھائے جاتا تھا (ہوگا) جن کو اسلام کے ساتھ ساتھ آپ ص اور بنو ہاشم سے ذاتی و خاندانی عناد بھی تھی۔ مثلاً بنو امیہ،جیسے کہ ان کی کارکزاریوں کے روزنامچوں سے ثابت ہے۔چند شریفوں اور کمزوروں کے سوا تمام اہل مکہ برضا و رغبت انہیں کے تابع فرمان تھے،اب تک بھی ہیں کہ آل سعود نے " قتل عمار رض" دلیل نبوت فرمان رسول ص بیان کرنے پہ پابندی. عائد کی ہوئی ہے۔ آپ ص نے ان کے دل و دماغ کو راہ راست سے رو شناس کرانے کے لئے خوب مال و دولت عطا کرنے اور رعایت سے کام لینے کا طریقہ اختیار کیا کہ ممکن ہے دل سے داخل اسلام ہو جائیں۔۔۔۔۔ اس طرح  کے افراد سے بھلا کیسے کہا جا سکتا ہے جو ایمان تو کیا وفاداری بھی ثابت نہ کر سکے کہ " تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے" !!! فقرے میں حیرت و استعجاب کا عالم انتہائی قابل توجہ و غور ہے !!  "تمہیں کیا ہوا۔۔۔" !!! کیا کوئی فوری اور وہ بھی تمام راہیں بند ہونے کے بعد مجبوراً داخل اسلام ہوئے متاع دنیا کے حریصوں سے اس طرح کا حیران کن والہانہ و استفہامیہ خطاب اور مال خرچ کرنے و لڑنے کی ایسی توقع رکھ سکتا ہے،جیسی آیت میں کی گئی؟ قطعاً نہیں۔۔۔۔۔۔۔

2۔ آیت کے دوسرے جزو میں فرمودہ الفاظ بھی ایسے اشخاص سے ہی کہے جا سکتے ہیں جو بخوشی اپنی مرضی سے مسلمان ( اللہ،رسول،قرآن،فرشتوں اور روز حساب پہ ایمان) ہو کر ایک طرف ایمان کے اس درجے کو پہنچ گئے ہوں کہ انہیں پختہ یقیں ہو، دنیا میں ہمارا کچھ بھی نہیں،جو ہے زمین و آسمان سمیت اللہ ہی کا ہے، مرنے کے بعد سب یہیں رہ جائے گا،ساتھ کچھ بھی نہیں جا سکتا، الا یہ کہ جو ہم اللہ کی راہ میں خرچ کر دیں اور روز حساب ہمارے کام آئے۔ دوسری طرف موقع آنے پر تساہل سے کام لیتے ہوں یا خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے زیادہ مال کی قدر یا اولاد کے مستقبل کی فکر یا خدا پہ با کمال بھروسا کرنے کی صفت میں ابھی کچھ کمی پائی جاتی ہو۔۔۔‌‌۔۔۔۔

1/2۔۔۔۔۔۔۔بقیہ الحدید۔۔۔۔۔۔۔۔
3۔ تیسرے جزو میں فرمایا جا رہا ہے کہ اپنی دونوں کوتاہیاں دور کرو،مکمل طور پہ محکم ایمان والے بن جاؤ،اس کے لئے مال خرچ کرو اور ضرورت کے وقت جاں فشانی سے اسلام کے لئے لڑو ۔ایسے ہی جیسے سابقون اولون خرچ کرتے اور لڑتے رہے ہیں۔ باوجود یہ کہ تم خرچ کروگے اور لڑوگے؛ تب بھی، ان کی اس پاس بھی ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔ ان سے مقابلہ کرنے کی کوشش نہ کیا کرو، ادنی بات کہہ کر ان کی دل آزاری نہ کرو بلکہ ان کا ادب و احترام کرو، عزت سے پیش آؤ،ان سے اسلام سیکھو۔ وہ اتنے افضل ہیں کہ تم کبھی کسی حال میں بھی ان جیسے نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔ایسی باتیں بھی انہیں ہی سمجھائی بتائی جا سکتی ہیں اور ان ہی سے عمل کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے جو بنا کسی مجبوری خوش دلی کے ساتھ اپنی مرضی  سے مسلمان ہوئے ہوں اور بڑی حد تک دین و ایمان میں استحکام پیدا کر چکے ہوں نہ کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان باتوں کی تائید و تصدیق حضرت ابو سعید خدری رض کی حدیث اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رض کو حضرت خالد بن ولید رض کے ہلکی بات کہنے کے واقعے و حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ واقعے و متعلقہ حدیث کی جزیات سے یہ صریح طور پہ واضح ہے کہ یہ آیت اسی واقعے کے بعد نازل ہوئی۔۔۔۔۔تینوں روایتوں کیلئے زیر نظر اسکرین شاٹس دیکھئے!

4۔ آیت کے چوتھے اور آخری جزو میں صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکے سے قبل مسلمان ہونے والوں سے بھلائی کا وعدہ کر کے تسلی دی گئی اور امید کی گئی کہ آئیندہ مذکورہ نیک باتوں پہ عمل کریں گے و تساہل سے کنارہ کش ہو جائیں گے۔ تنبیہ بھی کر دی گئی کہ کسی غفلت میں نہ رہیں کہ اب تو خدا نے از خود بھلائی کا وعدہ کر دیا، جو چاہئیں کریں۔ اللہ تمہارے ہر کام سے با خبر ہی نہیں رہتا بلکہ وہ #جانتا ہے جو ہر چھوٹی سے چھوٹی بات بھی تم سوچتے کرتے ہو۔۔۔۔ یہ باتیں بھی انہیں ہی کہی سمجھائی جا سکتی ہیں اور انہیں سے برضا و رغبت تسلیم کرنے کی امید کی جا سکتی ہے جن کے دلوں میں ایمان اعلیٰ درجے میں راسخ ہو گیا ہو۔جن کے اندر اسلام کے لئے قربانی دینے و مسلمانوں کے لئے ایثار کرنے کا جذبہ بدرجہ اتم پروان چڑھ چکا ہو مگر کسی غفلت میں ہوں۔ ان سے نہیں جو جنگ حنین میں صحابہ کرام رض کی وقتی پسپائی دیکھ کے خوش ہوتے ہوں، بعد از اپنے ایک ایک فرد کا نام لے لے کر ہر ایک کا حصہ لینے کے لئے خوب مال و مویشی طلب کرتے ہوں اور آئندہ بھی کبھی دولت و حکومت سے پیٹ بھرے نہ پیاس بجھے۔

آیت کے الفاظ و معانی از خود شاہد، ثبوت و دلیل ہیں کہ موقع پہ موجود قابل اعتماد و نصیحت کوتاہی برت رہے اہل ثروت اور لائق میدان جنگ مسلمانوں سے خصوصی خطاب ہو رہا ہے،ہر ایک سے نہیں۔ جن سے توقع کی جاتی ہے کہ غریبوں، مفلسوں، یتیمموں،بیواوں اور ناداروں کی ہمیشہ یا ضرورت کے وقت فورا مدد کر سکتے ہیں۔اسلام کی خاطر لڑائی کے اخراجات میں بآسانی حصہ ڈال سکتے ہیں‌۔ ناگہانی مواقع پر فورا میدان عمل میں کود سکتے ہیں۔لاپرواہی سے اجتناب اور خود کو بہتر سے بہترین بنا کر عمدہ طور پہ مسلم معاشرے اور اسلام کی خدمت کر سکتے ہیں۔ یہ نہیں کہ جو اس وقت غائب ہیں یا کسی بھی طرح کمزور و نادار و مفلس ہوں،خواہ دین و ایمان میں،خواہ مال و اسباب میں،خواہ فنون جنگ و قوت میں،ان کے مال نہ خرچ کرنے اور جنگوں میں شامل نہ ہونے پہ غیر معمولی حیرت کا اظہار کیاجائے،ان سے آئندہ کوتاہی سے اجتناب کر نے و ہر طرح کا تعاون کرنے کی توقع کی جائے اور ادب و آداب و اخلاق فاضلہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے بھلائی کا وعدہ کر کے جنت کی نوید بھی سنائی دی جائے۔ان میں سب سے اہم دین و ایمان کا معاملہ ہے۔ اس طرح کی توقع اور وعدہ جان و مال کے تحفظ کی خاطر کوئی چارہ کار نہ ہونے پر اسلام میں داخل ہوئے لوگوں سے نہیں کیا جا سکتا، خواہ ان کے پاس کتنا ہی مال و دولت اور قوت و ہتھیار ہوں۔مزید یہ بھی کہ آپ ص فتح مکے کے بعد مکے میں زیادہ سے زیادہ انیس 19 دن ہی تشریف فرما رہے۔اس دوران غزوہ حنین و طائف بھی فتح کئے۔ حنین میں افراتفری پھیلانے والے بھی مؤلفۃ القلوب طلقاء ہی تھے اور اس کا کثیر مال غنیمت آگے بڑھ بڑھ کے لینے والے بھی۔بعد از خود مؤلفۃ القلوب ہجرت کرکے مدینے آئے تو آپ ص نے سب کو واپس کر دیا اور ہمیشہ کے لئے ہجرت کا دروازہ بھی بند  فرما دیا۔پس،یہ آیت صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکے سے قبل اپنی خوشی سے برضا و رغبت مسلمان ہوئے اصحاب رسول(ص) کے لئے ہی نازل ہوئی۔ان ہی پہ صادق اتی ہے نہ کہ مؤلفۃ القلوب طلقاء پہ۔اس کی سب سے بڑی دلیل اور ثبوت " سورہ الفتح " ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے '' صلح حدیبیہ ''  کو " فتح مبین ''  قرار دیا ہے اور فتح مکہ اس کا صرف ایک جزو ہے۔

کتنی عجیب و غریب بات ہے کہ تمام ثبوتوں،شہادتوں اور دلیلوں کے با وجود  عظیم حیرتوں، شفقتوں، امیدوں، نصیحتوں،وعدے اور خوشخبری سے پر آیت مبارکہ صلح حدیبیہ اور فتح مکے کے دوران دو سال میں خوش دلی سے مسلمان ہوئے 20-30 ہزار یا شاید اور زیادہ (صلح حدیبیہ میں 14-15 سو اور فتح مکے میں 10-12ہزر صحابہ کرام رض تھے)میں سے سستی کر رہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پہ تو منطبق نہ کی جائے اور ہزار پانچ سو مجبوراً داخل اسلام ہونے مؤلفۃ القلوب طلقاء سے  منسوب کر دی جائے !!!!!  سخت حیرت کا مقام یہ بھی ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد 24 ماہ کی مدت میں تین غزوے پیش آئے،غزوہ خیبر، غزوہ عمرۃ القضا، غزوہ موتہ اور فتح مکے کے  چھ سات ماہ بعد صرف ایک غزوہ تبوک آپ ص کے پردہ فرمانے تک۔

_______________________&


No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...