سیدھا سچ۔۔۔۔ हिंदी भी
کرناٹک کے مسلمانوں کا باقی ماندہ ہندی مسلمانوں کو پیغام ہے کہ لبرل ہم وطنوں سے الیکشن کے وقت ہی نہیں روز مرہ کی زندگی میں بھی اچھے اور خوشگوار تعلقات بنائیں، قائم رکھیں اور آگے بڑھائیں۔ آگے بڑھانے سے مراد ہے کہ شدت پسند ہم وطنوں کو بھی لبرلائز کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ مگر پہلی شرط ہے کہ خود شدت پسندی چھوڑیں، خود کو لبرلائز کریں، اپنے حقوق و جذبات کے اظہار سے پہلے دوسروں کے حقوق و جذبات کا خیال رکھیں۔اسی طرح ملک میں امن و امان اور بھائی چارا قائم ہو سکتا ہے ورنہ لبرلز کی کرناٹک جیسی جیت بھی بجھتے ہوئے چراغ کی لو ثابت ہوگی۔
شدت پسندی کی سب سے دھندلی شکل یہ کہی جا سکتی ہے کہ بلا وجہ بلا ضرورت عربی دانی دکھائی جائے یا جیسے " خدا حافظ " کی بجائے " اللہ حافظ " کہا جائے۔
یاد رکھئے ! رب العالمین و رحمت اللعالمین ص کا دین بھی انہیں کی طرح آفاقی ہے ۔
" رحمت " اللعالمین ص کو عربی کتابوں یا مضامین کے علاوہ " رحمۃ " اللعالمین ص لکھنا بھی شدت پسندی، تعصب اور ملک عزیز یا جس ملک میں بھی مسلمان ہوں، اس ملک سے لآ تعلقی، بے زاری حد یہ کہ نفرت کا اظہار سمجھنا بھی فطری رد عمل ہے ۔ رب العالمین و رحمت اللعالمین ص کا دین اپنائیں، عربیت ( جاہلیت ) ترک کریں، آفاقی بنیں۔۔۔
सीधा सच... اردو بھی
कर्नाटक के मुसलमानों का बाक़ी मांदा हिंदी मुसलमानों को पैग़ाम है कि लिबरल हम वतनों से चुनाव के वक़्त ही नहीं रोज़ मर्रा की ज़िंदगी में भी अच्छे और ख़ुशगवार संबंध बनाएं, क़ायम रखे और आगे बढ़ाएं।आगे बढ़ाने से मुराद है कि शिद्दत पसंद हम वतनों को लिबरलाइज़ करने की कोशिश करते रहें। मगर पहली शर्त है कि ख़ुद शिद्दत पसंदी छोड़ें,ख़ुद को लिबरलाइज़ करें,अपने ह़ुक़ूक़ व जज़्बात से पहले दूसरों के ह़ुक़ूक़ व जज़्बात का ख़याल रखें। इसी तरह देश में अम्न ओ आमान और भाई चारा कायम हो सकता है वर्ना लिबरल्ज़ की कर्नाटक जैसी जीत भी बुझते हुए चिराग़ की लौ स़ाबित होगी।
शिद्दत पसंदी की सब से धुंधली शक्ल यह कही जा सकती है कि बिला वजह बिला ज़रूरत अरबी-दानी दिखाई जाए या जैसे "ख़ुदा हाफ़िज़" की बजाए "अल्लाह हाफ़िज़" कहा जाए।
याद रखिए ! रब्बुलआलमीन व रह़मतल्लिल्आलमीन स़.का दीन उन्हीं की त़रह़ आफ़ाक़ी है।
रह़मतल्लिल्आलमीन स़.رحمت" اللعالمین ص" को अरबी किताबों या मज़ामीन के इलावा رحمۃ"ا للعالمین ص" लिखना भी शिद्दत पसंदी, तास़्स़ुब और मुल्क ए अज़ीज़ या जिस मुल्क में भी मुसलमान हों, उस मुल्क से ला-ताल्लुक़ी, बे-ज़ारी ह़द यह कि नफ़रत का इज़हार समझना भी फ़ित्री रद्द ए अमल है। रब्बुलआलमीन व रह़मतल्लिल्आलमीन स़. का दीन अपनाएं, अरबियत (जाहिलयत) तर्क करें, आफ़ाक़ी बनें۔۔۔
-अलमिहर ख़ां
سیدھا سچ۔۔۔
کرناٹک کے مسلمانوں کا باقی ماندہ ہندی مسلمانوں کو پیغام ہے کہ لبرل ہم وطنوں سے الیکشن کے وقت ہی نہیں روز مرہ کی زندگی میں بھی اچھے اور خوشگوار تعلقات بنائیں، قائم رکھیں اور آگے بڑھائیں۔ آگے بڑھانے سے مراد ہے کہ شدت پسند ہم وطنوں کو بھی لبرلائز کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ مگر پہلی شرط ہے کہ خود شدت پسندی چھوڑیں، خود کو لبرلائز کریں، اپنے حقوق و جذبات کے اظہار سے پہلے دوسروں کے حقوق و جذبات کا خیال رکھیں۔اسی طرح ملک میں امن و امان اور بھائی چارا قائم ہو سکتا ہے ورنہ لبرلز کی کرناٹک جیسی جیت بھی بجھتے ہوئے چراغ کی لو ثابت ہوگی۔
شدت پسندی کی سب سے دھندلی شکل یہ کہی جا سکتی ہے کہ بلا وجہ بلا ضرورت عربی دانی دکھائی جائے یا جیسے " خدا حافظ " کی بجائے " اللہ حافظ " کہا جائے۔
یاد رکھئے ! رب العالمین و رحمت اللعالمین ص کا دین بھی انہیں کی طرح آفاقی ہے ۔
" رحمت " اللعالمین ص کو عربی کتابوں یا مضامین کے علاوہ " رحمۃ " اللعالمین ص لکھنا بھی شدت پسندی، تعصب اور ملک عزیز یا جس ملک میں بھی مسلمان ہوں، اس ملک سے لآ تعلقی، بے زاری حد یہ کہ نفرت کا اظہار سمجھنا بھی فطری رد عمل ہے ۔ رب العالمین و رحمت اللعالمین ص کا دین اپنائیں، عربیت ( جاہلیت ) ترک کریں، آفاقی بنیں۔۔۔
-المہر خاں
کَہَاوَتوں کے پیچ(پےچ)
اَز: نادِر خان سَرگِروہ ۔۔۔ نَوی ممبئی)
کَہَاوَتیں جتنی دل چَسپ ہوتی ہیں اُتنی ہی گَہری اور پیچِیدہ (پے چی دہ)۔ کہاوَتوں کو اُن میں اِستعمال ہوئے الفاظ تک ہی محدود نہ کِیا جائے بلکہ وَسیع النَّظَری سے اُن کی پَرتیں کھولی جائیں۔
۔
مَثَلاََ۔۔۔۔ یہ کَہاوَت:
"ننگوں کو بُھوکوں نے لُوٹ لِیا"
۔
پہلے اِس کا مَفہُوم جان لیتے ہیں۔
بَدمَعَاشوں کی بَدمَعَاشوں نے خبر لی۔ بَدحالوں کی عقل بھی خراب ہو جاتی ہے تو ایسا کرتے ہیں اور کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔
۔
ممکن ہے۔۔۔ کسی کے ذِہن میں یہ سوال اُبھرے کہ ننگوں کے پاس تھا ہی کیا جو لُوٹا جاتا؟
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہی اِعتِراض کوئی سَر ِ عام کرے اور دیگر سیکھنے والوں کو بھی گُم راہ کرے۔ ایسی صورت ِ حال کو بھیڑچال (بھےڑچال) کہتے ہیں۔
۔
اِس کہاوَت میں لفظ "ننگا" کے مُتَنَوِّع (طرح طرح کے، رنگ رنگ کے) معانی دیکھ لیتا ہیں۔
۔
ـــــ- نَنگا (ہندی)= جس کے بَدَن پر کوئی کپڑا نہ ہو۔
بَرَہنَہ/ بَرہَنَہ، عُریاں۔
(یہاں تو یہ معنی واضِح ہیں کہ ظاہِری طور پر ننگا)
۔
دوسرے معنی:
بے حَیا، بے شَرم، بے غَیرَت، بے عزت، بَدنام رُسوا۔
(یہاں۔۔ مَجازی معنی ہیں۔ لِباس و ثَروَت کے ہوتے ہوئے بھی ننگے پَن کی حالَت ہے)
۔
تِیسرے معنی:
مُفلِس، قَلّاش، خَستہ حال۔
(جیسے: بُھوکا نَنگا۔ بُھوکے نَنگے لوگ۔ تَن پر لِباس ہوتے ہوئے بھی یہ تَشبِیہ کسی کی زَبُوں حالی بَیان کرنے کی خاطِر استعمال ہوتی ہے)
۔
چوتھے معنی:
نِہَتّا، جس کے پاس کوئی اَسلِحَہ نہ ہو۔
۔
پانچویں معنی:
آزاد، بے پَروَا، بے فِکر۔
۔
اسی طرح اور بھی کئی معانی ہیں۔
کسی کا راز کُھلنے پر یہ کہا جاتا ہے۔۔
"وہ تو ننگا ہوگیا۔"
۔
کوئی سِیاسی جماعت مِعیار سے گِر جائے تو۔۔۔
"فُلاں سِیاسی جماعَت تو ننگے پَن پر اُتر آئی ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب "بُھوکا" کے گُوناگُوں معانی دیکھ لیے جائیں:
ـــــ بُھوکا (ہندی)
1-کھانے کا خواہِش مَند (تلفظ: خاہِش)، جسے بُھوک لگ رہی ہو ۔
2-فاقہ کَش، خالی پیٹ۔
3-نادار، مُفلِس، غریب
4- خواہش مَند، خواہاں، طلب گار۔
(شُہرَت کا بُھوکا۔ کام یابی کی بُھوک)
۔
اب۔۔۔۔ وَسیع النَّظَری سے اِس کَہَاوَت کی پَرتیں کھولیے!
"ننگوں کو بُھوکوں نے لُوٹ لِیا"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
20-05-2023
No comments:
Post a Comment