Friday, January 9, 2026

علی رض کے محب کو انکےدشمن سے محبت نہیں ہوسکتی

علی رض کے محب کو انکےدشمن سے محبت نہیں ہوسکتی
علامہ عزیز الحق کوثر ندوی اپنی کتاب "مناقب اہل بیت" میں لکھتے ہیں:-
معاویہ کو جب اقتدار حاصل ہو گیا اور حضرت علی شہید کر دیئے گئے ، تو انہوں نے بڑے نامی گرامی اور بزرگ صحابہ کی اہانت کی ۔جن لوگوں نے معاویہ کی غلط سیاست اور غیر اسلامی طرز عمل سے اختلاف یا اس کے خلاف احتجاج کیا اسے قید و بند کی تکلیفیں دیں ، اور انتہا یہ ہے کہ بعض لوگوں کو دردناک طریقے سے ہلاک کروا دیا۔
انھوں نے حضرت علی رض جیسے بزرگ پر سب و شتم کیا۔ ان علی رض پر معاویہ جن کے پاسنگ کو بھی نہ پہنچ سکتے تھے، ان کے گورنروں نے خانۂ خدا میں اس منبر پر کھڑے ہوکر حضرت علی رض کو گالیاں دیں ، جو منبر رشد و ہدایت کے لیے مخصوص تھا اور جہاں سے امت کو اتحاد واتفاق کا پیغام دیا جا تا تھا۔
ایسا کیوں کیا جا تا تھا ؟
اس کی ایک خاص وجہ تھی ۔ چالاک معاویہ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ خواہ کتنی ہی طاقت اور کتنا ہی اقتدار حاصل کر لے، مگر مسلمانوں میں حضرت علی کو جو دینی مرتبہ حاصل ہے، وہ اس تک نہیں پہنچ سکتا ۔
وہ یہ بھی جانتے تھے کہ مسلمانوں میں ایسے لوگوں کی خاصی تعداد موجود ہے، جو حضرت علی سے محبت کرتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ جو لوگ علی رض سے محبت کریں گے، انھیں علی رض کے دشمن ( معاویہ) سے کبھی محبت نہیں ہوسکتی ۔ پس معاویہ نے سوچا کہ جب تک مسلمانوں کے دلوں سے علی رض کی محبت زائل نہیں کی جاتی ، وہ اموی حکومت کے سچے وفادار نہیں ہو سکتے ۔ اس لیے انھوں نے اپنے گورنروں اور سلطنت کے دوسرے حکام کو ہدایت کی کہ جہاں تک ہو سکے علی رض کو بدنام کرو اور ان کے کردار کی بھیانک تصویر پیش کرو تا کہ لوگ ان سے نفرت کرنے لگیں اور انھیں بھول جائیں ۔ حضرت علی پر سب دشتم اور ان کے خلاف دشنام طرازی اسی سلسلے کی کڑی تھی ۔
یہ افسوس ناک طریق کار حضرت عمر بن عبدالعزیز کے مسند آراۓ خلافت ہونے کے وقت تک جاری رہا۔ اللہ کی ہزار ہزار رحمتیں ہوں عمر بن عبدالعزیز کی روح پر جنھوں نے اس گناہ کبیرہ کو حکما بند کروایا۔(دیکھئے "مناقب اہل بیت" صفحہ 50)

No comments:

Post a Comment

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :-

#پوسٹ_معرض‌_وجود_میں_آنے_کی_وجہ :- ★ 200-150 سال سے جنوبی ایشیا کے اصیل و اولین سنی حنفی مسلمانوں کو ورغلا کر پہلے . . . . . بریلوی، وہاں...