فقہ حنفی اور آج کےحنفی ہونے کے دعویدار
فقہ حنفی میں دیگر سنی مذاھب کی طرح یہ بات بلکل وضاحت کے ساتھ موجود ہے کہ حضرت معاویہ باغی اور عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے گروہ کے سردار تھے، ساتھ ہی ان کو فقہ حنفی میں بطور ظلم کرنے والوں کی مثل میں پیش کیا گیا ہے اور صراحتاً باغی اور ظلم کرنے والا بتایا گیا جس سے یہ بھی تردید ہوتی ہے کہ بغاوت اجتہادی نہیں تھی وگرنہ اس پر ظلم نہیں بلکہ ایک ثواب کا مستحق ہوتا ہے مجتہد۔
چنانچہ فقہ حنفی کی مشہور کتب "الهداية في شرح البداية" میں درج ذیل عبارت یوں موجود ہے :
(1). امام مرغینانی حنفی (593ھ) رحمہ اللہ بدایہ کی عبارت نقل کرکے شرح کرتے ہیں :
(ثُمَّ يَجُوزُ التَّقَلُّدُ مِنْ السُّلْطَانِ الْجَائِرِ كَمَا يَجُوزُ مِنْ الْعَادِلِ) لِأَنَّ الصَّحَابَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - تَقَلَّدُوهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَالْحَقُّ كَانَ بِيَدِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي نَوْبَتِهِ، وَالتَّابِعِينَ تَقَلَّدُوهُ مِنْ الْحَجَّاجِ وكان جائزا
(پھر یہ جائز ہے کہ ظالم حکمران کو عہدہ سپرد کیا جائے جیسے عادل کے لیے جائز ہے) کیونکہ صحابہ - رضی اللہ عنہم - نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو عہدہ سپرد کیا جبکہ حق علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا ان کی اپنی باری (خلافت) میں، اور (اسی طرح) تابعین نے حجاج کو عہدہ سپرد کیا اور وہ ظالم تھا ۔(الهداية في شرح البداية 3/102)
2۔ ابن الھمام حنفی (861 ھ) رحمہ اللہ اسی عبارت کی مزید شرح کرتے ہوئے فرماتے ہے :
قَوْلُهُ وَيَجُوزُ التَّقَلُّدُ مِنْ السُّلْطَانِ الْجَائِرِ كَمَا يَجُوزُ مِنْ الْعَادِلِ لِأَنَّ الصَّحَابَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - تَقَلَّدُوهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَالْحَقُّ كَانَ بِيَدِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي نَوْبَتِهِ، وَالتَّابِعِينَ تَقَلَّدُوا مِنْ الْحَجَّاجِ) هَذَا تَصْرِيحٌ بِجَوْرِ مُعَاوِيَةَ، وَالْمُرَادُ فِي خُرُوجِهِ لَا فِي أَقْضِيَتِهِ
یہ (مذکورہ عبارت) معاویہ کے ظلم کی صراحت ہے، اور اس سے مراد ان کے (علی کے خلاف) خروج میں (ظلم کرنا ہے) نہ کہ ان کا اپنی قضاء میں۔
مزید فرمایا :
وَإِنَّمَا كَانَ الْحَقُّ مَعَهُ فِي تِلْكَ النَّوْبَةِ لِصِحَّةِ بَيْعَتِهِ وَانْعِقَادِهَا فَكَانَ عَلَى الْحَقِّ فِي قِتَالِ أَهْلِ الْجَمَلِ وَقِتَالِ مُعَاوِيَةَ بِصِفِّينَ. «وَقَوْلُهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - لِعَمَّارٍ سَتَقْتُلُك الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» وَقَدْ قَتَلَهُ أَصْحَابُ مُعَاوِيَةَ يُصَرِّحُ بِأَنَّهُمْ بُغَاةٌ، " وَلَقَدْ أَظْهَرَتْ عَائِشَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - النَّدَمَ كَمَا أَخْرَجَهُ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ فِي الِاسْتِيعَابِ
لیکن حق (علی رضی اللہ عنہ) کے ساتھ تھا ان کی اپنی باری میں ان کی بعیت کی درستگی اور انقعاد ہونے کی بناء پر اور وہ اہل جمل اور معاویہ سے صفین میں قتال کرنے میں حق بجانب تھے۔
(اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمار کے بارے میں فرمان کہ انہے باغی گروہ قتل کرے گا) تو انہے معاویہ کے گروہ نے قتل کیا یہ صراحت کرتا ہے کہ یہ لوگ باغی تھے۔
اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پچھتاوا ظاہر کیا جیسے کہ ابن عبد البر نے استیعاب میں بیان کیا ہے۔
(فتح القدیر 7/263)،🖊️🖊️ محمد کاشف خان
No comments:
Post a Comment