صلح کے بعد حسنین کریمین کا معاویہ کے بارے میں کیا خیال تھا؟ -سید راشد علی چشتی
✅ امام حسن علیہ السّلام نے معاویہ کو ایک خط کے جواب میں لکھا کہ ۔
"بعد المصالحة" وكان الحسن ابن علي قد سار يريد المدينة، فكتب إليه معاوية يدعوه إلى قتال فروة، فلحقه رسوله بالقادسية أو قريباً منها، فلم يرجع وكتب إلى معاوية: لو آثرت أن أقاتل أحداً من أهل القبلة لبدأت بقتالك، فإني تركتك لصلاح الأمة وحقن دمائها.
صلح کے بعد امام حسن مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے معاویہ نے امام حسن کے پیچھے قاصد کو خط دے کر بھیجا جس میں معاویہ نے امام حسن کو خوارج سے جنگ کرنے کے لیے واپس آنے کا کہا تھا امام حسن ابھی قادسیہ کے مقام پر ہی پہنچے تھے کہ قاصد خط لے کر آپ تک پہنچ گیا امام حسن نے خط پڑھنے کے بعد معاویہ کو جواب میں لکھا: میں نے تجھ سے فقط مسلمانوں کا خون بچانے کی خاطر صلح کی ہے اگر میں نے اہل قبلہ میں سے کبھی کسی کے ساتھ جنگ کا ارادہ کیا تو اُس کی ابتدا تجھ سے کروں گا.
۔
۔
✅ امام حسین علیہ السلام نے معاویہ کی طرف سے بھیجے ہوئے دھمکی آمیز خط کا جواب دیتے ہوئے لکھا ۔👇
فكتب إليه الحسين: أتاني كتابك وأنا بغير الذي بلغك عني جدير، والحسنات لا يهدي لها إلا الله، وما أردت لك محاربة ولا عليك خلافا، وما أظن لي عند الله عذرا في ترك جهادك، ""أي ما أجب الله أنني لم أقاتلك"" وما أعلم فتنة أعظم من ولايتك أمر هذه الأمة.
میں اپنے بھائی کے کیے ہوئے معاہدے پر قائم ہوں ہر نیکی کا راستہ اللہ سمجھاتا ہے فلحال میرا تم سے جنگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ، مگر تیرے خلاف جہاد نہ کرنے کا کوئی بہانہ مجھے اللّٰہ کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لیے سمجھ نہیں آ رہا ""یعنی میں اللّٰہ کو کیا جواب دوں گا کہ جو میں نے تم سے جہاد کیوں نہیں کیا"" اور یہ جو تم نے لکھا کہ میں کسی فتنے میں نہ پڑ جاؤں تو میرے علم کے مطابق اس سے بڑا فتنہ اور کوئی نہیں کہ تیرے جیسا شخص اس امت کا سربراہ بن گیا ہے.
✅امام اہل سنت امام ابن اثیر جزری/ الکامل، ص ٢٧٥
✅امام اہل سنت امام ذھبی/ سير اعلام النبلاء ،ج٢ ص٢٩٤
✅امام اہل سنت امام بلاذری/ أنساب الاشراف، باب ، مبايعة الحسن و معاوية، ص ٢٨٨
✅امام اہل سنت امام حافظ ابی قاسم المعروف ابن عساکر/ تاریخ مدینہ دمشق، ج ١٤ ص٢٠٦
✅امام اہل سنت امام محمد بن سعد الزھری/ طبقات ابن سعد، ج٦،ص٤٢٣
✅امام اہل سنت امام ابن کثیر / البداية والنهاية ٨.١ مع الفهارس ج٤ ص،١٦٩
✅امام اہل سنت امام ذھبی / تھذیب الکمال في أسماء الرجل، ج٦ ص٤١٤
No comments:
Post a Comment