علماء سو کتے
"اور انہیں اس شخص کا حال سنا دے جسے ہم نے اپنی آیتوں کا علم دیا تھا مگر اس نے ان(پر عمل کی ذمہ داری ) سے اپنی جان چھڑالی ۔ جس کے بعد شیطان بھی اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ پکے گمراہوں میں شامل ہو گیا۔اور اگر ہم چاہتے تو اپنی ان آیتوں کی برکت سے اس کا مرتبہ بلند کرتے لیکن وہ (تو خود) دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور (قرآن کی بجائے) اپنی خواہش ِنفس کی تابعداری میں لگ گیا، لہٰذا اب اس کی مثال ایسی ہے جیسےکہ کُتّے کی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔"
(سورۃ الاعراف آیات175 ، 176)
"اور جو اللہ کے نازل کردہ (قرآن) کے فیصلوں کو نہ مانیں، وہی کافر ، ظالم اور فاسق ہیں!"
(سورۃ المائدہ آیات 44 ، 45 اور 47)
ریئل اسلام تحریک!!!!
کیا اللہ تعالیٰ منصف و عادل نہیں ہے ؟؟؟
"اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے جسکو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے"
"جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے جسکو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے"
ملوں کا اسلام اللہ تعالیٰ سبحانہ کو ظالم جابر ثابت کرتا ہے جبکہ اللہ نہایت رحیم کریم اور بخشنے والا پالنہار ہے ۔
قرآن میں جگہ جگہ فرمایا گیا کھ انسان کو اُس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائےگا اور کسی پر بھی زرہ برابر بھی ظلم نہیں ہوگا ۔
مگر جب اللہ تعالٰی خود ہی گمراہ کر دے خود ہی ہدایت دے تو کسی گنہگار کا کیا قصور اور کسی نیک بندے کی کیا خصوصیات ؟؟؟
ہم نے اس پہیلی کی تحقیق کی تو راز کھلا کھ مفسّرین ترجمہ نگار ان آیات کا غلط ترجمہ (انجانے میں ؟) کرتے ہیں ۔
اصل ترجمہ یہ ہے کہ : جو چاہتا ہے اللہ اسے ہدایت دیتا ہے اور جو چاہتا ہے اسے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے ۔
یہ ترجمہ یوم حساب کے قیام کو حق بجانب ٹھہراتا ہے
ورنہ روز حساب، انصاف کا دِن نہ ہوکر یوم ظلم و جبر ہی کہا جائے گا ۔
عارف اسلام
👈 امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، امام نسائی, امام ابوداؤد کے عظیم استاد، امام اہل سنت امام اسحاق بن ابراہیم راھویہ فرماتے ہیں ۔
أَنْبَأَنَا زَاهِرُ بْنُ طَاهِرٍ، أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُوْ عَبْدِ اللهِ الْحَاكِمُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوْبَ بْنِ يُوْسُفَ، يَقُوْلُ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُوْلُ: سَمِعْتُ إِسْحَاقَ بْنَ إِبْرَاهِيْمَ الْحَنْظَلِيَّ، يَقُوْلُ: لَا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ فِي فَضْلِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ شَيْءٌ.
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معاویہ بن ابو سفیان کی فضیلت میں کوئی بھی صحیح حدیث نہیں ثابت نہیں ہے ""یعنی سب منگھڑت ہیں""
👈 امام اہل سنت امام ابن حجر عسقلانی امام اسحاق کے کلام کو لکھنے کے بعد فرماتے ہیں ۔
قَالَ الْحَافِظُ ابْنُ حَجَرٍ بَعْدَ هَذَا الْكَلَامِ: فَأَشَارَ بِهَذَا إِلَى مَا اخْتَلَقُوْهُ لِمُعَاوِيَةَ مِنَ الْفَضَائِلِ مِمَّا لَا أَصْلَ لَهُ. وَقَدْ وَرَدَ فِي فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ أَحَادِيْثُ كَثِيْرَةٌ لَكِنْ لَيْسَ فِيْهَا مَا يَصِحُّ مِنْ طَرِيْقِ الإْسْنَادِ، وَبِذَلِكَ جَزَمَ إِسْحَقُ بْنُ رَاهْوَيْهِ وَالنَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُمَا.
"'اس سے اُنہوں نے اُن منگھڑت روایات کی طرف اشارہ کیا ہے جو لوگوں نے معاویہ بن ابوسفیان کے فضائل میں گھڑی تھیں فضائلِ معاویہ میں بکثرت روایات وارد ہوئی ہیں لیکن اُن میں سے کوئی روایت بھی ایسی نہیں ہے جو صحیح ہو یہی امام اسحاق بن ابراہیم راھویہ، امام نسائی وغیرہ سمیت دوسرے محدثین کا قطعی قول ہے۔
(یاد رہے کہ قطعی قول کی مخالفت کرنے والا فاسق ہے)
امام ابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 7/104.
۔
۔
۔
👈 امام اہل سنت امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں ۔
رَوَى الْبَلَاذُرِيُّ عَنِ الْإِمَامِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسَوَدَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: هَاهُنَا قَوْمٌ يَسْأَلُوْنَ عَنْ فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ، وَبِحَسْبِ مُعَاوِيَةَ أَنْ يُتْرَكَ كَفَافًا.
کچھ لوگ ہم سے فضائلِ معاویہ کے متعلق سوال کرتے ہیں، حالانکہ معاویہ کے لیے یہی کافی ہے کہ اُنہیں نظر اَنداز کر دیا جائے (یعنی انکے منگھڑت فضائل بیان نہ کیے جائیں)
امام البلاذري في أنساب الأشراف، 5/129
۔
۔
۔
👈 امام اہل سنت امام بدر الدین عینی الحنفی نـواصب کو للکارتے ہوئے فرماتے ہیں
وَقَالَ الْعَلَّامَةُ بَدْرُ الدِّيْنِ الْعَيْنِيُّ الْحَنَفِيُّ: فَإِنْ قُلْتَ: قَدْ وَرَدَ فِي فَضِيْلَتِهِ أَحَادِيْثُ كَثِيْرَةٌ. قُلْتُ: نَعَمْ، وَلَكِنْ لَيْسَ فِيْهَا حَدِيْثٌ يَصِحُّ مِنْ طَرِيْقِ الإِسْنَادِ، نَصَّ عَلَيْهِ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْه وَالنَّسَائيُّ وَغَيْرُهُمَا، فَلِذَلِكَ قَالَ: بَابُ ذِكْرِ مُعَاوِيَةَ، وَلَمْ يَقُلْ فَضِيْلَةً وَلَا مَنْقَبَةً.
اگر تم نے یہ کہا کہ معاویہ کی شان میں تو بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں تو میں جواب میں یہ کہوں گا: جی ہاں ہیں لیکن اُن احادیث میں سند کے اعتبار سے کوئی حدیث بھی صحیح نہیں ہے "یعنی سب منگھڑت ہیں" اسی موقف کو امام اسحاق بن راہویہ، امام نسائی اور دیگر محدثین نے بیان کیا ہے۔ اسی لیے امام بخاری نے صحیح بخاری میں ذکرِ معاویہ کا باب، باندھا ہے، ناکہ فضیلتِ معاویہ کا باب،
امام العيني في عمدة القاري، 16/343
۔
۔
۔
👈 تاریخِ اسلام میں معاویہ بن ابوسفیان کا سب سے زیادہ دفاع کرنے والے علامہ ابن تیمیہ بھی حق بات مانے بغیر نہ رہ سکے۔
علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں۔
وَقَالَ الْعَلَّامَةُ ابْنُ تَيْمِيَّةَ: وَمُعَاوِيَةُ لَيْسَتْ لَهُ بِخَصُوْصِهِ فَضِيْلَةٌ فِي الصَّحِيْحِ. وَقَالَ أَيْضًا: وَطَائِفَةٌ وَضَعُوْا لِمُعَاوِيَةَ فَضَائِلَ وَرَوَوْا أَحَادِيْثَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فِيْ ذَلِكَ كُلُّهَا كَذِبٌ.
حضرت معاویہ بن ابوسفیان کی کوئی فضیلت کسی صحیح حدیث میں بیان نہیں ہوئی، ایک گروہ نے حضرت معاویہ کے فضائل گھڑے ہیں اور اُنہوں نے اس سلسلے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فضیلتِ معاویہ میں احادیث بیان کیں ہیں جو سب کی سب من گھڑت اور جھوٹی ہیں۔
ابن تيمية في منهاج السنة النبوية، 7/40
ابن تيمية في منهاج السنة النبوية، 4/400
۔
۔
۔
👈 امام اہل سنت امام ابن قیم لکھتے ہیں ۔
وَقَالَ الْعَلَّامَةُ ابْنُ الْقَيِّمِ: وَمِنْ ذَلِكَ مَا وَضَعَهُ بَعْضُ جَهَلَةِ أَهْلِ السُّنَّةِ فِيْ فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ ابْنِ أَبِي سُفْيَانَ. قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ: لَا يَصِحُّ فِيْ فَضْائِلِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِيْ سُفْيَانَ عَنِ النَّبِيّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شَيْءٌ.
منگھڑت روایات میں وہ روایات بھی ہیں جو معاویہ بن ابی سفیان کے فضائل میں بعض نادانوں نے گھڑ لیں تھیں۔ امام اہل سنت امام اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں: فضیلتِ معاویہ بن ابی سفیان میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی صحیح چیز ثابت نہیں ہے۔
امام ابن القيم في المنار المنيف في الصحيح والضعيف/116
۔
۔
۔
👈 امام اہل سنت امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں ۔
وَقَالَ الْإِمَامُ السُّيُوْطِيُّ: بَابُ ذِكْرِ مُعَاوِيَةَ: لَمْ يَقُلْ وَلَا مَنْقَبَةٌ، لِأَنَّهُ لَمْ يَصِحَّ فِيْ فَضَائِلِهِ شَيْءٌ، كَمَا قَالَهُ ابْنُ رَاهَوَيْهِ.
امام بخاری نے ذکرِ معاویہ کا باب قائم کیا ہے فضیلت کا باب قائم نہیں کیا کیونکہ معاویہ کے فضائل میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے، امام اسحاق بن راہویہ نے بھی یہی فرمایا ہے۔
السيوطي في التوشيح شرح الجامع الصحيح، 6/2379
۔
۔
۔
👈 امامِ اہل سنت امام حاکم نے تو زور و زبردستی کے باوجود بھی امیر معاویہ کے فضائل میں ایک حدیث بھی لکھنے سے انکار کر دیا ۔
وقال أبوعبدالرحمن السلمي : دخلت على الحاكم رضي الله عنه ما وھو مختف من الكرامیة ال یستطیع یخرج منھم ، فقلت له : لو خرجت حدیثا في فضائل معاویة ألسترحت مما أنت فیه ، فقال: الیجئ من قبلي ال یجئ من
قبلي:
ابو عبدالرح ٰمن السلمی نے کہا کہ میں امام حاکم کے پاس اس وقت گیا جب وہ بنو امیہ کے مظالم سے چھپ رہے تھے اس وجہ سے وہ اپنے گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے تھے، تو میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ معاویہ کی فضیلت میں کوئی حدیث گھڑ کر بیان کر دیں تو آپ بنو امیہ کے بادشاہوں کے ظلم و ستم کی صورتحال سے نکل آئینگے امام حاکم نے جواب دیا، کچھ بھی ہو جائے، میں ایسا ہر گز نہیں کرسکتا، میں ایسا ہر گز نہیں کرسکتا۔
البدایہ والنہایہ، ج 11 ص 409
۔
۔
۔
👈 امام اہل سنت امام شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں ۔
وَقَالَ الشَّيْخُ عَبْدُ الْحَقِّ الدِّهْلَوِيُّ الْحَنَفِيُّ: وَاعْلَمْ أَنَّ الْمُحَدِّثِيْنَ قَالُوْا: لَمْ يَصِحَّ فِيْ فَضَائِلِ مُعَاوِيَةَ حَدِيْثٌ، وَكَذَا قَالَ السُّيُوْطِيُّ.
جان لیجئے! محدثین کرام نے فرمایا ہے: فضائل معاویہ میں کوئی حدیث بھی صحیح نہیں ہے، اور ایسا ہی امام سیوطی نے بھی کہا ہے۔
الشيخ عبد الحق في لمعات التنقيح شرح مشكاة المصابيح، 9/775
۔
۔
۔
👈 امام اہل سنت امام اسماعیل عجلونی حنفی فرماتے ہیں ۔
وَقَالَ الْعَجْلُوْنِيُّ: وَبَابُ فَضَائِلَ مُعَاوِيَةَ لَيْسَ فِيْهِ حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.
امیر معاویہ کے فضائل کے باب میں کوئی حدیث بھی صحیح نہیں ہے۔
العجلوني في كشف الخفاء ومزيل الإلباس، 2/565
۔
۔
۔
👈 امام اہل سنت امام ملا علی قاری الحنفی فرماتے
ہیں ۔
ومن ذلك وضعه بعض جهله أهل السنة والجماعة في فضائل معاوية :
اُس زمانہ میں اہل سنت میں موجود بعض جہل لوگوں نے فضائلِ معاویہ میں احادیث گھڑ لی تھیں ۔
الا اخبار الموضوعات ص 100
۔
۔
۔
👈 امام اہل سنت امام نسائی فرماتے ہیں ۔
قَالَ الإْمَامُ عَبْدُ الْحَيِّ بْنُ الْعِمَادِ الْحَنْبَلِيُّ فِي تَرْجَمَةِ النَّسَائِيِّ مَا نَصُّهُ: قَالَ ابْنُ خَلِّكَانَ فِي ‹‹وَفَيَاتِ الْأَعْيَانِ››: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ الْأَصْبَهَانِيُّ: سَمِعْتُ مَشَايِخَنَا بِمِصْرَ يَقُوْلُوْنَ: إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ (النَّسَائِيَّ) فَارَقَ مِصْرَ فِي آخِرِ عُمُرِهِ وَخَرَجَ إِلَى دِمَشْقَ، فَسُئِلَ عَنْ مُعَاوِيَةَ وَمَا رُوِيَ مِنْ فَضَائِلِهِ فَقَالَ: أَمَا يَرْضَى مُعَاوِيَةُ أَنْ يَخْرُجَ رَأْسًا بِرَأْسٍ حَتَّى يُفَضَّلَ، وِفِي رِوَايَةٍ: مَا أَعْرِفُ لَهُ فَضِيْلَةً إِلَّا: «لَا أَشْبَعَ اللهُ بَطْنَهُ».
امام عبد الحي بن عماد الحنبلی امام نسائی کے حالات میں لکھتے ہیں کہ امام ابن خلکان نے ’’وفیات الأعیان‘‘ میں لکھا ہے کہ محمد بن اسحاق اصبہانی نے بیان کیا ہے: میں نے مصر میں اپنے مشائخ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ امام ابو عبد الرحمٰن النسائی نے مصر کو اپنی آخری عمر میں چھوڑا تھا اور دمشق چلے گئے تھے، امام نسائی سے معاویہ کے فضائل میں موجود احادیث کے متعلق سوال کیا گیا تو اُنہوں نے فرمایا: کیا معاویہ اس بات پر راضی نہیں کہ وہ برابر بچ جائیں ناکہ انہیں فضیلت دی جائے، میں اُن کی کوئی احادیث نہیں ہے سوائے اُس ایک حدیث کے جس میں رسول علیہ السلام نے انکو بد دعا دی ’’ اللہ اُن کے پیٹ کو کبھی نہ بھرے۔ ‘‘
ذكره ابن خلكان في وفيات الأعيان، 1/77
۔
۔
۔
👈 فَمَا زَالُوْا يُدَافِعُوْنَهُ فِي خُصْيَتَيْهِ وَدَاسُوْهُ، ثُمَّ حُمِلَ إِلَى مَكَّةَ فَتُوَفِّيَ بِهَا وَهُوَ مَدْفُوْنٌ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. وَقَالَ الْحَافِظُ أَبُوْ نُعَيْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ: لَمَّا دَاسُوْهُ بِدِمَشْق مَاتَ بِسَبَبِ ذَلِكَ الدَّوْسِ وَكَانَ صَنَّفَ كِتَابَ الْخَصَائِصِ فِي فَضْلِ الإِمَامِ عَلِيِّ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی اللہ عنہ وَأَهْلِ الْبَيْتِ، وَأَكْثَرَ رِوَايَتَهُ فِيْهِ عَنِ الإِمَامِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ رضی اللہ عنہ فَقِيْلَ لَهُ: أَلَّا صَنَّفْتَ فِي فَضْلِ الصَّحَابَةِ رضی اللہ عنہم كِتَابًا، فَقَالَ: دَخَلْتُ دِمَشْقَ وَالْمُنْحَرِفُ عَنْ عَلِيٍّ كَثِيْرٌ فَأَرَدْتُ أَنْ يَّهْدِيَهُمُ اللهُ بِهَذَا الْكِتَابِ، وَكَانَ إِمَامًا فِي الْحَدِيْثِ ثِقَةً ثَبْتًا حَافِظًا. اِنْتَهْى كَلاَمُ ابْنِ الْعِمَادِ.
امام نسائی چونکہ محب اہلِ بیت تھے اس لیے اس وجہ سے دمشق کے نـاصبی اُنہیں زدو و کوب کرنے لگے، مسلسل اُن کے نازک عزاء پر ضربیں لگاتے اور بدن پر پاؤں سے ٹھوکریں مارتے رہے۔ پھر انہیں اسی حالت میں اٹھا کر مکہ مکرمہ لے جایا گیا جہاں ان کی شہادت ہو گئی، آپ صفا و مروہ کے درمیان مدفون ہیں۔ حافظ ابونعیم اصبہانی فرماتے ہیں: جب اُنہیں لاتوں سے مارا گیا تو وہ اسی مار سے شہید ہو گئے، اور اس کاسبب یہ تھا کہ اُنہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ اور اہل بیت کرام کی شان میں ’’کتاب الخصائص‘‘ تصنیف فرمائی تھی اور اُس میں اکثر روایات امام احمد بن حنبل سے نقل فرمائیں تو اُن سے پوچھا گیا: کیا آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں بھی کوئی کتاب لکھی ہے؟ اُنہوں نے فرمایا: میں دمشق میں آیا تو بہت سے لوگوں کو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے منحرف پایا، سو میں نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو اس کتاب کے ذریعے ہدایت دے۔ آپ حدیث کے امام تھے، ثقہ تھے، مضبوط تھے اور حافظ تھے۔
ذكره العكري في الشذرات الذهب، 4/17-18، وابن خلكان في وفيات الأعيان، 1/77-78
۔
۔
۔
👈 امام اہل سنت امام ابن حجر عسقلانی صحیح سند کے ساتھ امام احمد بن حنبل کا قول لکھتے ہیں ۔
أَنْبَأَنَا هِبَةُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ الْجَرِيْرِيُّ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْفَتْحِ، أَنْبَأَنَا الدَّارَقُطْنِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ نَيَّا، حَدَّثَنَا أَبُوْ سَعِيْدِ بْنُ الْحَرَفِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبِي فَقُلْتُ: مَا تَقُوْلُ فِي عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ وَمُعَاوِيَةَ رضی اللہ عنہ ؟ فَأَطْرَقَ ثُمَّ قَالَ: أَيْش أَقُوْلُ فِيْهِمَا؟ إِنَّ عَلِيًّا رضی اللہ عنہ كَانَ كَثِيْرَ الأَعْدَاءِ فَفَتَّشَ أَعْدَاؤُهُ لَهُ عَيْباً فَلَمْ يَجِدُوْا، فَجَاءُوْا إِلَى رَجُلٍ قَدْ حَارَبَهُ وَقَاتَلَهُ فَأَطْرَوْهُ كِيَادًا مِّنْهُمْ لَهُ.
حضرت عبد اللہ (امام احمد بن حنبل کے بیٹے) فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد محترم (امام احمد بن حنبل) سے عرض کیا: آپ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور جناب معاویہ کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ اس پر انہوں نے (سوچنے کے انداز میں ) اپنا سر جھکا لیا، پھر سر اُٹھا کر فرمایا: میں اُن دونوں کے بارے میں کیا کہوں؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کثیر دشمن تھے، ان کے دشمنوں نے اُن کے عیب تلاش کرنے کی پوری کوشش کی مگر نا کام رہے۔ پھر وہ اُس شخص (معاویہ) کی طرف متوجہ ہوئے جس نے اُن سے جنگیں لڑی تھیں تو ان لوگوں (مولا علی کے دشمنوں) نے اپنی طرف سے سازش کے تحت ان (معاویہ) کو ان کے مقام سے بڑھانا شروع کر دیا۔ (یعنی انکی شان میں روایات گھڑ کر بیان کرنا شروع کر دیں)
ذكره ابن حجر العسقلاني في فتح الباري، 7/104
۔
۔
۔
۔
👈 امام بخاری، امام مسلم اور امام احمد بن حنبل کے استاد امام اہل سنت امام عبدالرزاق فرماتے ہیں
قال عبدالرزاق فذكر رجل معاوية: لا تقدر مجلسنا بذكر ولد ابو سفيان:
ہماری محفلوں کو ابو سفیان کے بیٹوں (معاویہ وغیرہ) کے زکر سے گندہ نہ کیا کرو (یعنی جھوٹے فضائل بیان نہ کیا کرو)
(میزان الا عتدال ، ج الثاني، ص 610)
(سیراعلام النبلاء، امام ذھبی ، ص 570)
۔
۔
۔
👈 امام اہل سنت امام ابن جوزی اپنی مایہ ناز کتاب ""کتاب الموضوعات ص 234"" میں لکھتے ہیں
لایصح عن النبی صلی الله عليه و آله وسلم في فضل معاوية بن أبى سفيان شئ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فضیلت معاویہ میں کوئی بھی صحیح چیز منقول نہیں:
۔
۔
۔
👈 اہل سنت کے عظیم امام قاضی شوکانی اپنی کتاب فواید المجموعہ، ص 147 میں لکھتے ہیں:
امام ابن حبان کا قول ہے کہ معاویہ کی فضیلت میں تمام روایات موضوع یعنی شامیوں کی گھڑی ہوئی ہیں۔
(فواید المجموعہ، ص 147)
۔
۔
۔
👈 امام محمد طاہر الصدیقی الفتنی متوفی 986 ھ کے الفاظ
جو آج تک کی مشہور ترین شیعہ مخالف کتاب لکھنے والے امام ابن حجر مکی کے شاگرد ہیں وہ اپنی کتاب
تذکرة الموضوعات، ص 100 پر لکھتے ہیں
ال یصح مرفوعا في فضل معاویة شئ:
معاویہ کی فضیلت میں ایک بھی صحیح مرفوع حدیث موجود نہیں:
۔
۔
۔
👈 امام شیخ اسماعیل متوفی 1162 ھ کتاب کشف الخفاء، ج 2 ص 420 میں لکھا ہے:
ال یصح عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم في فضل معاویة شيء:
معاویہ کے فضائل میں ایک بھی صحیح حدیث موجود نہیں
۔
۔
۔
👈 امام ابو الحسن الکنانی متوفی 963 ھ اپنی کتاب تنزیہ الشریعہ المرفوعہ، ج 2 ص 7میں لکھتے ہیں:
امام حاکم نے ابن جوزی کے طریق سے امام اسحاق بن راھویہ سے نقل کیا ہے کہ معاویہ کے فضائل میں رسول اللہ سے ایک بھی صحیح حدیث موجود نہیں۔
(تنزیہ الشریعہ المرفوعہ، ج 2 ص 7)
۔
۔
۔
👈 امام محمد فضل مالکی رحمتہ اللہ علیہ
اپنی کتاب " الفجر الساطع على الصحيح الجامع / ج ٢/ص ٩٣،٩٦ پر امام ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللہ علیہ سمیت دیگر آئمہ کے اقوال لکھنے کے بعد فیصلہ یوں دیتے
ہیں ۔
وباب فضل معاوية ليس فيه حديث الصحيح:
فضائل معاویہ کے باب میں کوئی حدیث بھی صحیح نہیں:
۔
۔
۔
👈 امام اہل سنت احمد بن اسماعیل الکورانی
اپنی کتاب " الكوثر الجاري إلى رياض شرح صحيح بخاري/ج٦/ص ٤٩٨ پر لکھتے ہیں
لم ينقل عن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم شيئا في مناقب معاوية:
نبی کریم سے مناقب معاویہ کوئی چیز بھی منقول نہیں:
۔
۔
۔
👈 علامہ محمد طاہر پٹنی حنفی
اپنی کتاب " مجمع بحار الانوار / ج ٥/ ص ٢٢١ پر لکھتے ہیں
لا يصح مرفوعا في فضل معاوية شئ:
فضیلت معاویہ میں کوئی مرفوع چیز نہیں ہے
۔
۔
۔
👈 ولی ابنِ ولی، امام اہل سنت حضرت پیر سید نصیر الدین نصیر گولڑوی
اپنی مایہ ناز کتاب ""نام و نسب ص 114 سے ص 118 تک"" قوی دلائل دینے کے بعد فرماتے ہیں کہ فضیلتِ معاویہ میں ایک بھی صحیح حدیث نہیں سب کی سب منگھڑت ہیں
۔
۔
۔
👈 امام العلم، حضرت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ فرماتے ہیں ۔
لَا يَصِحُّ عَنِ النَّبِيِّ فِي فَضْلِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ شَيْءٌ.
فضیلتِ معاویہ میں کوئی بھی صحیح حدیث نہیں سب منگھڑت ہیں ۔
حقیقت مشاجرات صحابہ/ 90
۔
۔
۔
👈 برصغیر پاک ہند کے مایہ ناز محدث
علامہ شبلی نعمانی رحمتہ اللہ علیہ کی مختصر رائے پیش خدمت ہے علامہ صاحب اپنی کتاب
"" سيرة النبى صلى الله عليه و آله وسلم ج ١ ص ٩٨ ""
پر لکھتے ہیں
:حدیثوں کی تدوین بنو امیہ کے زمانہ میں ہوئی جہنوں نے پورے نوے برس تک سندھ، ایشیائے کوچک اور اندلس تک جامع مساجد میں آل فاطمہ رضی اللہ عنہ کی توہین کی اور جمعہ میں برسر منبر حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کروائی سینکڑوں ہزاروں احادیثیں امیر معاویہ کے فضائل میں بنوائیں عین اسی زمانہ میں محدثین نے منادی کروا دی کہ یہ سب احادیث من گھڑت ہیں:
۔
۔
۔
👈 علامہ مجدالدین فیروز آبادی اپنی کتاب "سفر السعادة للفيروز آبادی/ص ١٤٣ پر لکھتے ہیں
وباب فضل معاوية ليس فيه حديث الصحيح:
فضائل معاویہ کے باب میں کوئی حدیث بھی صحیح نہیں:
⭐⭐⭐⭐ اہم علمی بات ⭐⭐⭐⭐
👈 تحریر زیادہ لمبی ہونے کے ڈر سے ہم نے صرف چند محدثین کی رائے پیش کی ہے ورنہ ہزاروں محدثین کی رائے موجود ہے کہ فضیلت معاویہ میں تمام اَحادیث گھڑی گئی ہیں ۔
👈 فضائل معاویہ بیان کرنے والے اکثر لوگ عوام کو اس طرح گمراہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھو فلاں فلاں کتاب میں جناب معاویہ کے متعلق احادیث موجود ہیں جس سے سادہ لو عوام وہ احادیث دیکھ کر گمراہ ہو جاتی ہیں اور سمجھ لیتی ہے کہ شاید فضائلِ معاویہ میں تو بہت سی احادیث ہیں ۔
حالانکہ حدیث کی اصل چیز اسکی " سند " ہوتی ہے ۔
احادیث کی کتب میں موجود جناب معاویہ کی فضیلت میں موجود احادیث کی کل سندیں ضعیف ہیں یعنی کہ احادیث بیان کرنے والے لوگ کذاب تھے اور بنو امیہ کے بادشاہوں کو خوش کرنے کے لیے خود سے فضائلِ معاویہ میں احادیث گھڑ دیتے تھے جیسے کے امام حاکم کو بھی فضائل معاویہ حدیث گھڑنے کے لیے کہا گیا مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا ۔
👈 یہی وجہ ہے صدیوں پہلے محدثین نے منادی کرا دی کہ یہ تمام روایات سب کی سب جھوٹ پر مبنی ہیں
👈 جب ان کے پاس اور کوئی دلیل نہیں ہوتی تو پھر یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں دیکھو برصغیر کا فلاں فلاں متاخر عالم کہہ رہا ہے کہ فضائل معاویہ میں احادیث موجود ہے
میں کہتا ہوں کہ برصغیر کے فلاں فلاں متاخر علماء کو چھوڑ کر اہل سنت کے صدیوں پہلے گزر جانے والے بڑے بڑے محدثین کی بات کو مانا جائے کیوں کہ برصغیر کے متاخر علماء تو خود اِن بڑے محدثین کے مقلد تھے ۔Cipied
No comments:
Post a Comment